کرپشن کی جدلیات

شاید ہی کوئی ہو گا جو کرپشن اور کرپشن کے ملکی معیشت سمیت سماج پہ اِس کے برے اثرات بارے بات نہ کرتا ہو. حکومتیں کرپشن کو روکنے اور قلع قمع کرنے کا عہد کرتی ہوئی نظر آتی ہیں. مڈل کلاس کے ڈرائنگ رومز میں بھی قومی زندگی پر کرپشن کے غلیظ اثر و رسوخ پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے. پریس اور میڈیا میں بھی کرپشن بارے بہت واویلا ہوتا رہتا ہے. مذہبی رہنما اور ماہرینِ اخلاقیات بھی کرپشن کے خلاف تبلیغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. مگر عدالتیں اور پولیس اِسے ختم کرنے کے لئے اپنی ناکامی کا اظہار کرتے ہیں.

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں سالانہ ایک ٹریلین امریکی ڈالر رشوت لی اور دی جاتی ہے لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بہت کم بتائیں گئے ہیں. پاکستان کا ذکر کریں تو ایکسپریس ٹربیون کے مطابق پاکستانی کالے دھن کی مالیت ملکی جی ڈی پی کا 36 فیصد بنتا ہے، جبکہ بلومبرگ کے مطابق پاکستانی کالا دھن ملکی جی ڈی پی کے پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہے. ہر بندہ کرپشن کے خلاف ہے اور غصے میں لگتا ہے، مگر اِس کی مالیت اور حجم ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہی ہے. اب تو کرپشن کا حجم دیکھنے کے بعد دماغ پھٹنے لگ جاتا ہے.

بدقسمتی یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ہمیں صرف دو طریقے سمجھائے، بتائے اور پڑھائے جاتے ہیں. پہلا طریقہ تو پند و نصائح پہ مبنی ہے. اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے، مذہبی بیانات اور آیات و احادیث بیان کی جاتی ہیں. خدا کی خوشنودی اور اُس کی ناراضگی کا بتایا جاتا ہے. معزز افراد، علماء کرام، ریاستی ادارے اور مذہبی شخصیات اِسی نہج پہ کام کرتے ہیں. دوسری حکمت عملی، کرپشن روکنے کے لئے حکومتوں اور عوامی حکام کی طرف سے قوانین بنائے جاتے ہیں اور نافذ کیے جاتے ہیں. دونوں طریقے شاندار ناکامی کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں. اِس ناکامی کی وجہ جاننے کیلئے ہمیں اپنے سماجی ڈھانچے کو سمجھنا ہو گا، دیکھنا یہ ہے کہ بدعنوانی اور کرپشن کا سب سے زیادہ فائدہ کس طبقہ کا پہنچ رہا ہے؟

اِس بحث کو جاری رکھنے سے پہلے ہمارے معاشرے کے آبادیاتی ڈھانچے کو سمجھنا ہو گا. ایک بار پھر پاکستانی سماج کی بات کرتے ہیں. ہماری ایک تہائی آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے جہاں کی آدھی آبادی چھوٹے تاجروں، پرچون فروشوں، دہاڑی داروں اور کچھ نہ کرنے والوں پہ مشتمل ہے. یہ آبادی عام طور پر "بلیک اکانومی" کا حصہ نہیں ہے اور ان کے اقتصادی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے. شہری آبادی کا آدھا حصہ، یا پاکستان کی کل آبادی کا تقریبا 15 فیصد حصہ سرکاری ملازمتوں، تجارت، کاروبار، پیشوں اور نجی شعبے سے منسلک ہے، اور آبادی کا یہی وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ کرپشن، بدعنوانی اور کالے دھن میں ملوث ہوتا ہے. جبکہ دیہی علاقوں میں امیر کسان اور بڑے جاگیردار اِس دھندے کے شراکت دار ہوتے ہیں.

ایک بات ذہن نشین کر لیجیے کہ کرپشن اور کالے دھن میں آبادی کا بالائی حصہ ہی ملوث پایا جاتا ہے. کرپشن کا اکثریتی حصہ آبادی کے بالائی تین فیصد کی جیب میں جاتا ہے. اگر ہم کالے دھن کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے شہری ملازمین، تاجروں، پیشہ ور افراد اور صنعت کاروں کے پورے طبقے کو شامل کر لیں تب بھی یہ معاشرے کی آبادی کا تقریباً بالائی 15 فیصد پر مشتمل ہو گا. پاکستانی آبادی کے زیریں دس فیصد کے پاس چار فیصد اور بالائی دس فیصد کے پاس تیس فیصد دولت کا ارتکاز ہے. بعینہ یہی شرح کالے دھن اور کرپشن کی ہے.

ایک اہم بات، جس کو ثابت کرنا اور جھٹلانا بہرحال ناممکن ہے، کہ کرپشن اور حکمران اشرافیہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے. راقم نے بھکر میں سڑکیں بنانے والے ایک ٹھیکیدار سے پوچھ لیا کہ "آپ نے اتنی بیکار سڑکیں کیوں بنائی ہیں، سڑک بننے کے دو ماہ بعد ہی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے. ٹھیکیدار نے مجھے بتایا کہ "ٹھیکے کی مالیت کے چار حصے کیے جاتے ہیں، ایک حصہ ایم این اے لے جاتا ہے، دوسرا حصہ سینیٹر لے جاتا ہے، تیسرا حصہ محکمہ کو دینا پڑتا ہے اور چوتھا حصہ مجھے ملتا ہے جو سڑک بنانے کے ساتھ ساتھ میرا منافع بھی پورا کرتا ہے." اِسی طرح انڈیا کے راجیو گاندھی کا قول بھی بہت مشہور ہے کہ انڈیا میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص بجٹ کا صرف 14 فیصد خرچ ہوتا ہے بقایا 86 فیصد بہت سے لوگوں کی جیبوں کو بھرتا ہے.

پاکستان میں دو طریقوں سے کرپشن کے ذریعے کالا دھن پیدا کیا جاتا ہے. اولاً حکومتی منصوبوں اور ادائیگیوں میں سے پیسہ چوری کیا جاتا ہے، اِس حقیقت کو حکومت کبھی بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہو گی. بجٹ میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے حصہ رکھا جاتا ہے، مگر بہت ہی قلیل رقم عوام تک پہنچتی ہے. عوام بڑے بڑے منصوبوں اور سبسڈیوں کا نام سن کر پرسکون رہتی ہے مگر اِن منصوبوں کا زیادہ تر بجٹ سرکاری حکام، سیاست دانوں، ٹھیکیداروں اور دلالوں کی جیبوں میں جاتا ہے. کرپشن کا دوسرا طریقہ ٹیکس چوری ہے اور کاروبار کو قانونی طریقے سے کرنے کی بجائے خفیہ رکھا جاتا ہے.

فرانسیسی ادیب بالزاک نے لکھا کہ "ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک بڑا جرم ہوتا ہے". کارل مارکس کی مشہور کتاب "سرمایہ" کے باب "ارتکاز سرمایہ" میں اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ دولت کے ارتکاز کے لیے ہر قسم کی چوری، ڈکیتی، راہزنی، غداری اور بدعنوانی کی جاتی ہے. جنگیں برپا کرنے سے لیکر ٹیکس چوری تک کونسا ایسا جرم ہے جو سرمایہ داروں کے دولت کے اجتماع کا سبب نہیں ہے. یہ جرائم عموماً عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں مگر کبھی کبھار سرمایہ داروں کی باہمی چپقلش اِن جرائم کو منظر عام پر لے آتی ہے.

کرپشن کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے، یہ اِس سرمایہ دارانہ نظام کی جڑوں میں موجود ہے. پاکستان میں نہیں، بلکہ کرپشن دنیا کے ہر کونے میں موجود ہے کیونکہ سرمایہ داری دنیا کے ہر کونے میں موجود ہے. سیاستدانوں سے لیکر کھلاڑیوں تک اور کاروباریوں سے لیکر مذہبی رہنماؤں تک کرپشن کے حمام میں ننگے ہیں.

نواز شریف پہ کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے اور بات عدالت میں چلی گئی. عوام کو ایک لاحاصل انتظار میں رکھا گیا. عدالت نے نواز شریف کو بخش دیا، اگر نااہل کرکے گھر بھی بھیج دیتی تب بھی کچھ نہیں ہونا تھا. ایک کرپٹ کی جگہ دوسرا کرپٹ آ جائے گا. کرپشن کے خاتمہ کیلئے افراد کو بدلنے کی بجائے اِس نظامِ زر کو بدلنا ہو گا.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *