حکومتی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں اور رحما میراثی

کچھ دیر پہلے خیال آیا کہ پتا لگایا جائے پاکستان کے گردشی قرضوں کی رقم کتنی ہے؟ لہٰذا ریسرچ شروع کردی مگر یہ کیا؟ کسی کو خبر ہی نہیں کہ پاکستان کے واجب الادا قرضوں کا حجم کیا ہے ؟سٹیٹ بنک سمیت سب ہی وفاقی اداروں کی ویب سائٹس پر مختلف رقم درج ہے۔ میڈیا ویب سائٹس بھی بس اندازے ہی لگا رہی ہیں ۔تین گھنٹے کی محنت کے بعد سب اعداد و شمار کو اکٹھا کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 75 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اس سال کے آخرتک یہ بڑھ کر 100 یا 110 ارب ڈلر تک پہنچ جائے گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ پاکستان اور امریکا کے مابین پہلا سرکاری رابطہ قائم ہوا ہے اور وزیرخزانہ اسحق ڈار اگلے ہفتے ٹرمپ انتظامیہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے جن میں نئے قرضہ جات کی ڈیمانڈ انکے سامنے رکھی جائے گی۔ باخبر ذرائع کے مطابق قرضوں کی منظوری پہلے ہی دی جاچکی ہے۔ یہ دورہ بس رسمی طور پر کیا جارہا ہے اس قرضے کی رقم تعلیم اور صحت کے منصوبوں پر خرچ ہوگی۔ اسکے ساتھ ساتھ چھوٹے میاں صاحب اگلے ماہ چائنہ کا دورہ بھی پلان کررہے ہیں جہاں وہ چینی حکومت اور کمپنیوں کے ساتھ ملاقاتیں کرکے مزید قرضوں کا مطالبہ پیش کریں گے تاکہ ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے ۔۔۔مگر اسکے برعکس پاکستان میں آئے دن ہونے والے اعلانات اور بیانات پر نظر ڈالی جائے تو یقین ہی نہیں ہوتا ہم ایک مقروض ملک ہیں جیسا کہ روز روز نئے ائیرپورٹس کا اعلان، اورینج ٹرین، شاندار میٹرو بسز، ہر دوسرے دن موٹرویز کا اعلان، بلٹ ٹرین کے خواب، وغیرہ وغیرہ ۔۔مگر صحت و تعلیم جیسی بنیادی ضرورتوں کے لیے قرضے لیے جارہے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر مجھے رحما میراثی یاد آگیا۔۔۔۔”ایک دفعہ رحمے نے چوہدری صاحب سے 100 روپہ ادھار مانگا ، چوہدری صاحب اس دن موڈ میں تھے کہا اچھا وئی رحمیا میں تجھے 100 روپے دے دیتا ہوں مگر پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو ۔۔۔رحمے نے ہاتھ جوڑ کر مسکین سی شکل بنا کرکہا! ہاں جی پوچھو ۔۔۔چوہدری صاب،چوہدری صاحب نے کہا فرض کرو !میں تمہیں ایک لاکھ روپے دیتا ہوں اور کہتا ہوں جاؤ عیش کرو تو تم کیا کروگے؟رحمے کو تو جیسے چکر آگیا وہ اپنی دھوتی گُھٹنوں سے اوپر کرکے ہاتھ جوڑ کر چوہدری صاحب کے قدموں میں بیٹھ گیا ۔۔۔ واہ واہ چوہدری صاب کی گل کیتی جے،مولا خیر رکھے 50 ہزار کا چھوٹا گوشت لاؤں گا اور 50 ہزار کے کریلے لاؤں گا ۔ آئے ہائے ہائے پھر ان کو اچھی طرح بھون کر کریلے گوشت پکاؤں گا اور جی بھر کے کھاؤں گا ۔چوہدری صاحب نے ہنستے ہوئے کہا اچھا چلو سالن تو بن گیا مگر روٹیوں کا کیا کروگے؟رحمے نے اطمینان سے جواب دیا۔۔۔۔ایہہ کیہڑا مسئلہ اے چوہدری صاب ۔۔روٹیاں میں منگ لواں گا کدھروں (یعنی کہ روٹیاں محلے والوں سے مانگ لونگا )!!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *