تھری ناٹ تھری ، سچ پتر اور استاد بہادر علی۔۔۔ثنا اللہ احسن

چڑھے ہوئے کلے، بھاری جبڑا۔ ایک آنکھ پر ہلکا سا زخم کا نشان جس کی وجہ سے دوسری آنکھ قدرے بڑی اور زیادہ کھلی ہوئی  لگتی تھی اور ان کا چہرہ ہر وقت ایک استعجابیہ تشویش میں مبتلا نظر آتا تھا۔ رنگت تانبے جیسی، نوکدار کٹیلی مونچھیں جن کو وہ شاید موم لگا کر نوکیں اوپر کی جانب تاؤ دئیے رکھتے تھے۔ بقول مشتاق یوسفی جیسے کہ منجھلے بریکٹ ( { ) کو بہلا پھسلا کر چت لٹال  دیا جائے۔ کان بالکل المونیم کے جگ کے ہینڈل جیسے۔ بال وہی چھوٹے چھوٹے پولیس کٹ۔ قد چھ فٹ کے قریب، جسم دبلا پتلا لیکن کڑیل اور عضلاتی۔ شاید جہلم یا چکوال سے تعلق تھا۔ ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں اردو بولتے تھے۔ سبزی ترکاری کا بھاؤ اور خیر خیریت بھی اسی دبنگ انداز سے پوچھتے کہ جیسے جوانوں کو دائیں مڑ بائیں مڑ کے احکامات دے رہے ہوں۔ کوئی  نرم یا خوشگوار بات کرتے وقت اپنے لہجے کی کرختگی چھپانے کے لئے چہرے پر مسکراہٹ طاری کرلیتے تھے تاکہ مخاطب سمجھ جائے کہ ڈانٹ ڈپٹ نہیں کررہے بلکہ دلجوئی  و دلداری مقصود ہے۔

ہماری ان کو دیکھ کر ہوا کھسکتی تھی۔ اگر آپ نے 23 مأرچ یا 14  اگست کی براہ راست نشر ہونے والی پریڈ دیکھی ہو تو ہر فوجی دستے کے آگے ایک صوبیدار چیختا چلاتا اور ڈانٹتا پھٹکارتا آگے آگے چل رہا ہوتا ہے بس بالکل وہی لب و لہجہ اور انداز استاد بہادر علی کا تھا۔ ہمیشہ کڑک کلف شدہ وردی میں نظر آتے تھے۔ اگر کبھی اتفاق سے شام کے وقت بازار میں شلوار قمیص اور اسفنج کی ہوائی  چپل میں نظر آجاتے تو ننگے ننگے سے لگتے تھے۔ لیکن اس وقت بھی سر پر پولیس کی کالی ٹوپی کی جگہ سرمئی  قراقلی قدرے ترچھی کر کے سر پر جمائے ہوتے ۔ تھانے کا ہر سپاہی ان سے گھبراتا اور کتراتا تھا کہ اپنے کام میں بڑے سخت اور اصول پسند تھے۔ ازراہ شفقت ایک دن والد صاحب کی فرمائش پر ہم پر بھی خصوصی توجہ فرمائی  اور خالص پولیس کے انداز میں سیلیوٹ مارنا سکھایا۔ جس میں ہم شاید کچھ زیادہ ہی مشاق ہوگئے تھے کہ جب بھی والد صاحب کے کوئی  دوست آتے تو ہم سے سیلیوٹ مارنے کی فرمائش کی جاتی۔ اور ہم بچہ جمہورا کی طرح فوراً کچھ قدم چل کر پیچھے جاتے۔ پھر وہاں سے پریڈ کے اسٹائل میں اکڑ کر لیفٹ رائٹ کرتے آتے اور پھر تماشائیوں کے سامنے اپنا ایک پاؤں  زور سے زمین پر مار کر دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو ہتھیلی کی جانب موڑ کرہاتھ کی ہتھیلی اور انگلياں اکڑا کر چار انگلیاں پشت کی طرف سے اپنی دائیں آنکھ کےعین اوپر پیشانی پر رکھ کر سیلیوٹ ٹھوکتے۔

کمال اس میں یہ ہوتا تھا کہ پاؤں  کی ایڑی کی ٹھوک کی ٹھک اور انگلیوں کا ماتھے پر لگنا بیک وقت ہو۔ چلو جی سیلیوٹ ہوگیا۔ سب نے واہ واہ کی اور ثنااللہ خان اپنے تئیں خود کو واقعی کوئی  تیس مار خان سمجھ کر دو تین دن اکڑے اکڑے پھرتے۔ اس زمانے میں ہمیں    ایک چھوٹی سی پولیس کی وردی معہ ٹوپی کے سلوا کر بھی دی گئی  تھی۔ جس کو پہن کر ہم خود کو واقعی کوئی  ایس ایچ او سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ تھانے کے ایس ایچ او صوبیدار عبدالکریم نے ہم کو سیلیوٹ کے انعام میں سوروپے بھی دئیے تھے۔لیکن افسوس کہ اس سو کے نوٹ کو جو ہم نے خالص اپنی محنت اور فنکاری سے کمایا تھا ہماری والدہ صاحبہ نے اکیلے نہ ہضم کرنے دیا بلکہ تمام بہن بھائیوں میں اس کے مساوی حصے کر کے تقسیم کردیا گیا۔

تھری ناٹ تھری!
ہمارے والد صاحب نے ایک نئی رائفل خریدی اور اس کی آزمائش کے لئے استاد بہادر علی کی خدمات حاصل کیں ۔ اس رائفل کی نالی کے دہانے کا قطر اعشاریہ تین صفر تین (303ء) انچ کا ہوتا ہے، چونکہ انگریزی میں تین کے لیے تھری اور صفر کے لیے زیرو یا ناٹ کا لفظ بولا جاتا ہے اس لیے عرف عام میں اس رائفل کو تھری ناٹ تھری کہتے ہیں۔ ناٹ تھری کی رائفل کی مار دو ہزار گز تک ہو سکتی ہے لیکن عموماََ اسے تین سو گز سے دور تک ہی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کا وزن ساڑھے نو پاؤنڈ ہوتا ہے اور جب اسے لگاتار چلایا جائے تو یہ ایک منٹ میں 15 راؤنڈ فائر کر سکتی ہے۔فائرنگ کی عام رفتار 5 راؤنڈ فی منٹ ہوتی ہے۔

بھٹو دور میں بھی ایک اصطلاح بہت مشہور ہوئی تھی (تھری ناٹ تھری) کیا آپ کو معلوم ہے  یہ تھری ناٹ تھری کیا تھا؟۔
بھٹو کے دور میں کرپشن کے خلاف ایک انتہائی پر اثر آپریشن ہوا اس میں پورے پاکستان سے بدترین کرپشن کرنے والے لوگوں کو انتہائی پکے ثبوتوں کے ساتھ پکڑا گیا اور ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا۔ ان کی تعداد 303 تھی ۔ ان تین سو تین لوگوں کو تھری ناٹ تھری کا لقب ملا۔ یہ تین سو تین کرپٹ افراد معاشرے کے انتہائی ناسور تھے۔
ان تھری ناٹ تھری کے ٹاپ لوگوں میں پاکستان کے ایک موجودہ مقبول ترین سیاستدان کے والد صاحب بھی شامل تھے۔ تھری ناٹ تھری رائفل کو پاکستانی فوج نے پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ میں بھی استعمال کیاتھا ۔
‎تھری ناٹ تھری کا ریکوئل یعنی دھکا گردن کی ہڈی پر اس قدر ہوتا تھاکہ ناتجربہ کار بندوقچی کی بازو کی ہڈی تک ٹوٹ جاتی تھی
اب دور ایک گہری نہر نما گڑھے میں والد صاحب نے ایک گھی کا خالی ڈبہ رکھا اور استاد صاحب نے کافی فاصلےسے کنارے پر بیٹھ کر جو نشانہ تاک کر فائر کیا تو گولی آگے نشانے پر اور استاد صاحب شدید دھکے سے پیچھے لڑھک گئے کہ ٹانگیں اٹھ گئیں۔ ٹوپی لڑھکتی ہوئی  دور جا گری۔ پہلی مرتبہ ان کو ننگے سر زمین پر پڑے دیکھا۔ خود بھی کھسیانے سے ہو گئے تھے۔ ہمارے لئے یہ بڑا دلچسپ نظارا تھا کہ سپر مین ایسا کڑک اور سخت لونڈا جس سے پولیس والے بھی ڈرتے تھے یوں لڑھک جائے۔

آج کل کچھ نازک اندام خواتین بھی بضد ہیں کہ ان کو بھی سخت لونڈا سمجھا جائے۔ اب کوئی  ان نادانوں کو کیا بتائے کہ جس بنیاد پر لونڈا سخت ہوتا ہے اس گوہر نایاب کی جستجو میں تو خود مرد حضرات اکثر سرگرداں رہتے ہیں اور دیواروں اور اخباروں میں چھپے سنیاسی دوا خانوں کے اشتہارات بڑی حریص نگاہوں اور ٹپکتی رال کے ساتھ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال استاد صاحب نے اپنی شرمندگی کا مداوا ایسے کیا کہ والد صاحب سے کہا کہ یہ رائفل ٹھیک نہیں ہے اس میں کچھ ٹیکنیکل خرابی ہے ورنہ مجھے اتنا زوردار دھکا نہ لگتا۔ پھر ہمارے والد صاحب نے اس رائفل کی جگہ دوسری چھرے دار کارتوسوں والی شکاری بندوق لی۔

سچ پتر!

اس وقت ہم پولیس سے بڑے متاثر تھے اور تھانے کے ایس ایچ او کے طمطراق اور رعب داب کے سامنے ساری خدائی  ہیچ نظر آتی تھی۔ ہمارے ذہن میں اس وقت یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ سارے ملک کی باگ ڈور ایس ایچ او صاحب کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہےاور ان کے سامنے ْصدر اور وزیر اعظم تک دم نہیں مار سکتے۔ اس وقت اگر کوئی  ہم کو آئی  جی یا ایس ایس پی بننے کے آفر بھی کرتا تو ہم اس کو ٹھکرا کر تین پھولوں والا ایس ایچ او بننے کو ہی ترجیح دیتے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ساڑھے چھ فٹ قد کے لحیم شحیم گورے چٹے موٹے تازے میانوالی کے صوبیدار عبدالکریم کی تھانے میں حکمرانی اور پھر جب وہ گشت پر باہر نکلتے تو اور تو اور ہمارے اسکول کے چند خطرناک ترین اور ہتھ چھٹ استاد صاحبان جن کو دیکھ کر طلبا کا پتہ پانی ہو جاتا تھا وہ بھی صوبیدار صاحب کودیکھ کر ایک عجیب لجاجت اور خوشامدی انداز میں تقریباً بچھتے ہوئے سلام کرتے سائیڈ  سے نکل لیتے تھے۔ یہ دیکھ کر ہمیں بڑی طمانیت محسوس ہوتی کہ بیشک اللہ تعالی نے ہر فرعون کے لئے ایک موسی بھی پیدا کیا ہے۔

کبھی کبھار والد صاحب سے سننے کو ملتا کہ فلاں کن ٹٹے یا سورما بدمعاش یا چور ڈاکو کی تھانے میں سچ پتر سے تواضع کے بعد اس کے سارے کس بل اور پیچ ڈھیلے ہوگئے ہیں۔ ہم سوچتے کہ یہ سچ پتر کیا بلا ہوتی ہے۔
ایک مرتبہ ہم بھی والد صاحب کے ساتھ تھانے گئے اور بطور خاص فرمائش کر کے “سچ پتر ” دیکھا۔ “سچ پتر” پولیس کی اصطلاح میں اس چھتر کو کہا جاتا ہے جس کی مدد سے ضدی اور خود کو پھنے خان سمجھنے والے ملزمان کی تشریف ، کمر اور پاؤں  کے تلوؤں پر یکے بعد دیگرے اور دیگرے بعد یکے ضربیں لگائی  جاتی ہیں۔ یہ عمل وطن عزیز میں چھترول کے نام سے مشہور و معروف ہے۔
اس کو غالباً  سچ پتر اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس سے تعارف کے بعد انسان فر فر سچ بولنے لگتا ہے اور بعض اوقات تو اتنا سچ بول جاتا ہے کہ جس کا خود اس پر بھی انکشاف نہیں ہوا ہوتا۔ ایک سپاہی تھانے کے مال خانے سے سچ پتر لا کر ایس ایچ اوصاحب کے سامنے میز پر رکھ گیا۔ جو انہوں نے ہمارے سامنے کردیا کہ لو بیٹا دیکھ لو سچ پتر۔ اب کیا بتائیں کہ اس کی شکل و صورت کیسی تھی۔ یوں سمجھیے  اگر کبھی آپ نے اپنے عمران خان صاحب کی پشاور کی ایک خاص دکان سے بنوائی  گئی  مخصوص پشاوری سینڈل دیکھی ہو اور اگر نہیں دیکھی تو ابھی گوگل کر کے دیکھ لیجئے، تو بالکل جیسا اس کا نچلا حصہ یعنی تلا ہوتا ہے اتنا ہی موٹا اور ویسا ہی ڈیزائن لیکن سائز میں تقریباً  تین گنا زیادہ لمبا اور چوڑا چمڑے کا ٹکڑا تھا جس میں رپٹ بھی ٹھوکے گئے تھے۔ ایک سائڈ پر درمیان میں کوئی  آٹھ دس انچ لمبا چمڑے کا ہینڈل نما پٹہ لگا ہوا تھا جس کو تھام کر با سہولت ستھرے انداز سے چھترول کی جاتی ہے۔

اس پر جلی حروف میں ” آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے” بھی لکھا ہوا تھا۔ہم اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ جس چیز سے ہم کو مشرف بہ دیدار کیا گیا تھا وہ صرف بڑے بڑے نامی گرامی مجرمان و بستہ بے کے بدمعاش یا پھر پولیس والوں کو ہی دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔یہ الگ بات کہ اس کی شکل و صورت اور خوف لاشعور میں کچھ ایسا بیٹھا ہے کہ ہم آج تک خالی اور ویران روڈ تک پر سگنل توڑنے کی ہمت نہیں کرپاتے اور پولیس کو دیکھتے ہی وہ سچ پتر نگاہوں میں گھوم جاتا ہے۔ اگر بچوں کو بچپن میں ہی تین چار مرتبہ یہ سچ پتر دکھا دیا جائے تو قوی امید ہے کہ وطن عزیز سے جرائم کم از کم پچاس فیصد کم ہوجائیں۔ اور لوگ ہماری طرح قانون کے پابند اور امن پسند شہری بن جائیں۔جوتا تو پھر بھی ”جوتا“ ہے یہاں تھانوں میں جوتے کی غیر مہذب تعریف”چھتر“ سے جو تواضع پولیس ملزموں سے کرتی ہے۔ وہ منظر اگر شریف شہری دیکھ لیں تو ”پاﺅں میں جوتا پہننا بھول جائیں“ ہاں یہ الگ بات کہ ”پلس“ کی ” چھترول “ سے 2 لاکھ روپے ملتے نہیں بلکہ 2 لاکھ ادا کرنے پڑتے ہیں۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری جس کے ‎مطابق کراچی کے تھانے جمشید کوارٹرز کے ایس ایچ او کے پاس ایک ایسا چھتر ہے جس پر ’ آئی لو کرمنلز ‘ کے الفاظ تحریر کیے گئے ہیں‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او جمشید کواٹر نے 16 انچ کا چھتر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کے نیچے رکھا ہوا ہے ‘ جس سے تفتیش کے لیے لائے گئے ملزمان کی تواضع کی جاتی ہے۔تصویر کے نیچے چھتر کے ساتھ 20 انچ کا ٹیپ سے لپٹا ہوا ڈنڈا بھی موجود ہے جو کہ ملزمان کی مزاج پرسی کے کام آتا ہے۔
‎آج اس اکیسویں صدی میں اب بھی مختلف تھانوں میں چھتر کا دل کھول کر استعمال کیا جاتا ہے‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماضی میں چھتر نامی اس ہتھیار پر ’420‘ اور ’ آجا موہے بالما ‘ تیرا انتظار ہے ‘ جیسے الفاظ لکھےجاتے تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *