• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نیو کلیر پاور ایک پینوراما تک نہیں بنا سکتی۔۔اسد مفتی

نیو کلیر پاور ایک پینوراما تک نہیں بنا سکتی۔۔اسد مفتی

ہالینڈ کے شہر “ دی ہیگ “ میں وہ پینٹنگ تو آپ نے دیکھی ہوگی جو پینوراما کے نام سے مشہور ہے ۔یہ پینٹنگ اپنی خوب صورتی، دلکشی ،انفرادیت اور نوعیت کے اعتبار سے عجیب و غریب ہے کہ یہ ایک کھلا ہوا مکمل نظارہ ہے جو نہ صرف دائیں بائیں بلکہ مشرق و مغرب و شمال جنوب تک پھیلی ہوئی ہے ۔ایک دائرہ کی شکل میں ۔آپ سامنے لگے جنگلے کو تھام کر دائرہ میں ایک مکمل چکر لگاتے  ہیں ۔یہ پینٹنگ زمان سے لازمان اور مکاں سے لامکاں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ بیکراں وسعتوں کی گہرائیوں  میں ایک لاجواب جادوئی شاہکار ہے۔

دی ہیگ کا ساحل سمندر جس کا ولندیزی زبان میں تلفظ schenveningenہے کو اس پینٹنگ میں 1881 کے ایک آرٹسٹ ایچ ڈبیلو مس ڈاخ (یاد رکھیے کہ ڈچ زبان میں جی(g) کو(kh)خ بولتے ہیں ۔۔نے بھرپور اور انتہائی مہارت و خوبصورتی سے پیش کیا ہے جس کو ایک کمپنی نے پینوراما کی شکل میں تبدیل کردیا ہے  اور اب یہ شاہکار دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں  کہ کوئی ذی شعور اس کو ناپسند یا “ایویں “ نہیں کہہ سکتا۔ شاید یہ اپنی نوعیت کی پہلی اور واحد پینٹنگ ہے جو بے مثال ہے۔فوٹو گرافی اور فلم کی ایجاد سے ذرا پہلے وجود میں آنے والی یہ پینٹنگ لینڈ سکیپ کی حقیقی دلکش اور خوبصورت ترین مثال ہے جو بے مثال اور یکتا  ہے  او رپینٹنگ انہی میں سے ایک ہے۔ جو اپنی تصوراتی ،طلسماتی اور حیران کن دل فریبی میں سر فہرست ہے اور یکتا ہے۔

پینٹنگ دیکھتے  ہوئے جہاں آپ کھڑے ہوتے ہیں وہ ایک دائرہ نما ٹیرس ہے  جس کی چھت دائرہ کے درمیان میں ایک پلر کے سہارے کھڑی ہے۔ یہ چھت بھی ایک دائرہ ہی کی شکل میں بنی ہوئی ہے۔ جس کا محیط 120 میٹر اور زمین (سطح) سے اونچائی 14 میٹر ہے چونکہ درمیان کے  پلر کے علاوہ او ر کوئی ستون یا سپورٹ نہیں ہے۔ اس لیے آپ بیک وقت چاروں جانب کی ہر شئے دیکھ سکتے ہیں ۔ پینٹنگ دیکھنے والا اسی غلط فہمی میں رہتا ہے کہ سامنے کا نظارہ (پینٹنگ) قریباً سو میٹر دور ہوگالیکن جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں ایسا حقیقت  میں نہیں ہے۔ یہ منظر جو کہ ایک مچھروں کی بستی ،ساحل اور سمندر پر مشتمل ہے محض آپ سے چند قدموں کے فاصلے پر ہے۔

یہ نظارہ نہ صرف روشنیوں کی مدد سے انتہائی دیدہ زیب ہے بلکہ خوشگوار حیرت لیے ہوئے بھی ہے۔ کچھ وقت کے لیے یقیناً  آپ حیرت کدہ میں گم ہو جائیں گے۔ آپ کے سامنے تاحد نگاہ نیلے آسمان پر بادل اور تیز چلتی ہوئی ہواؤ ں کا شور ہے،سمندر کے پانی میں  تلاطم ،موجوں میں مدو جزر ،بیک گراؤنڈ میں ملاحوں کی آوازیں ۔۔۔یہ سب مل کر ایسا تاثر پیدا کرتی ہیں کہ سب پر حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ آدمی اس نظارے میں ایسے گم ہوجاتا ہے کہ بس۔۔۔۔

اب ذرا آپ جہاں کھڑے ہیں اس گول دائرہ میں چکر لگائیں تو دیکھیں گے گاؤں کی اس بستی میں چھوٹے چھوٹے مکانات، باغات کھیتوں  میں کام کرتے انسان  اور مزدور کھیلتے کودتے بچے ،جہازوں کے رسوں کے ڈھیر، مچھلیاں پکڑنے کے جال، کشتیو ں پر عورتوں اور بچوں کا ہجوم ۔ایک ایسا موسم گرما کا نظارہ پیش کرتے ہیں جس پر حقیقت کا گماں ہوگا۔اس سے ذرا آگے بڑھیں گے ۔ (دائرہ میں ) تو اونچے گول گنبد نما مینار والے محلات اس کے درمیان ایک چرچ، ایک   طرف گھوڑے اور سازو سامان سے آراستہ بگھیاں جن کے پہیوں کی لکڑی نصف قطر تک گھسی صاف دکھائی دیتی ہے۔ سامنے سے آتی ہوئی کسی نواب کی شاہی سواری ،نوجوان شہزادے اور شہزادیاں ۔امرا اور اشرافیہ کے بچے اپنے زرق برق لباس میں کھیلتے نظر آئیں گے ۔اس سے ذرا آگے بڑھیں تو موسم سرما آپ کا منتظر ہے۔برف سے ڈھکی ہوئی سرخ مکانوں کی چھتیں ،برف سے کھیلتے بچے۔ گرم ملبوسات میں لپٹے ،منہ میں پائپ دبائے بوڑھے، سویٹروں اور چادروں میں لپٹی ہوئی بوڑھی عورتیں جو بچوں کو سردی سے بچا رہی ہیں۔یہ سب جیتی جاگتی دنیا کی حقیقتیں لگتی ہیں۔

سچ پوچھیے تو ایک بار یہ پینوراما آپ کو دیکھنا ہی ہوگا۔ میری طرح پانچ بار نہ سہی ایک بار ہی سہی۔وہ جو کہتے ہیں لاہور ،لاہور ہے، ویسا ہی میں سمجھتا ہوں  دی ہیگ کا پینوراما ،پینوراما ہی ہے۔اس کا کوئی توڑ نہیں ، کوئی بدل نہیں ،کوئی کاپی نہیں۔اور یہ جو بھی ہے اسے کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے ،پھر کس طرح فوکس کیا گیا ہے یہ ایک راز ہے۔

بظاہر کوئی سینما سکرین نہیں ،پروجیکٹر نہیں ، ایسی کوئی شئے ،کوئی آلہ، کوئی استا کاری یاکوئی مشین نظر نہیں آتی جس سے حقیقت کی تہہ تک پہنچا جاسکے ۔میرے حساب سے اس دائرہ نما چھت۔۔۔ذرا ٹھہریے پہلے آپ  اس پینوراما کا خود مشاہدہ کیجئے شاید میں آپ کو اس راز سے واقف کراسکوں کہ یہ ناچیز اس دنیا میں خدا کا نائب بھی تو ہے!!

Save

Save

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *