• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سوشل میڈیائی اور یونیورسٹیوں میں پائے جانیوالے ٹھرکی، جنسی شکاری اور شوگر ڈیڈیز /عبدالستار

سوشل میڈیائی اور یونیورسٹیوں میں پائے جانیوالے ٹھرکی، جنسی شکاری اور شوگر ڈیڈیز /عبدالستار

فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے متعلقہ ایک پوسٹ نظر سے گزری جس کے مطابق ایک جنسی بھیڑیا جو کہ استاد کے روپ میں اپنے فرائض منصبی ادا کر رہا تھا نے ایک طالبہ کو محض اس وجہ سے فیل کر دیا کہ اس نے استاد نما جنسی بھیڑئیے سے تنہائی میں ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

پوسٹ کے مطابق زاہد سرفراز نامی استاد بچی کو فحش پیغامات بھیجا کرتا تھا اور بچی کی طرف سے جنسی تعاون نہ ملنے کی وجہ سے اسے ایک نمبر سے فیل کر دیا، جس پر طالبہ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور بطور ثبوت واٹس ایپ پیغامات پیش کردیے۔ الزامات درست ثابت ہونے پر اب تک کی اطلاعات کے مطابق زاہد سرفراز کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کے جنسی شکاری کو محض ایک یونیورسٹی سے بے دخل کرنا کافی ہوگا؟
مارکیٹنگ اور کمرشل ازم کے اس دور میں یہ ہوس زدہ کسی اور یونیورسٹی میں چلا جائے گا   اور وہاں بھی اسی قسم کی مکروہ ذہنیت کا مظاہرہ کرے گا۔ کیونکہ اس قسم کے لوگ ذہنی مریض اور جنسی گھٹن کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں تعلیم و تربیت سے کوئی غرض نہیں ہوتی ،صرف جنسی شکاری ہوتے ہیں اور اپنا شکار ڈھونڈ کر جنسی ہوس پوری کرنے کے چکروں میں ہوتے ہیں۔
اس قسم کے ذہنی مریضوں کو معاشرے سے الگ تھلگ رکھنا چاہیے کیونکہ یہ ذہنوں کے قاتل ہوتے ہیں اور ان کا نفسیاتی علاج ہونا چاہیے۔

خاص طور پر اس قسم کے بندے کو جس کے ٹریک ریکارڈ میں ایک بار بھی جنسی و جذباتی ہراسانی کا صیغہ جڑ جائے اسے کم از کم تعلیمی اداروں سے تو کوسوں دور رکھا جانا چاہیے اور کسی بھی یونیورسٹی کو اس قسم کا ٹریک ریکارڈ رکھنے والے استاد کو جامعہ کا حصہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ مستقل طور پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس قسم کے مکروہ رویوں کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ اور خاص طور پر جب سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا سیلاب آیا ہے اس میں تو محض استاد کی “پرسنل ریلیشنگ”کو مدنظر رکھا جاتا ہے ناکہ تعلیمی کیریئر کو۔

پرائیویٹ تعلیمی ادارے ان افراد کو ترجیح دیتے ہیں جو پہلے سے مختلف اداروں میں پڑھا رہے ہوتے ہیں اور ان کی اچھی خاصی “سوشل ریلیشنگ” ہوتی ہے، انہیں محض اپنے اداروں کی تعداد سے غرض ہوتی ہے تعلیم جائے بھاڑ میں۔ بہت ساری نجی اور سرکاری یونیورسٹی کے کرتا دھرتا کو اپنے اسٹاف ممبران کی ساری خبر ہوتی ہے اور وہ ان کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں مگر سب ایک دوسرے کے آگے ننگے ہوتے ہیں۔
اسی لیے “مٹی پاؤ” پالیسی چلتی رہتی ہےاور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

ہم بھی اپنی  ہونہار اسٹوڈنٹس کو مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے کے لیے بھیجتے رہتے ہیں یقین مانیں جب کبھی ملاقات ہوتی ہے تو وہ اپنے پروفیسرز کے متعلق اتنی مکروہ داستانیں سناتی ہیں کہ کانوں سے دھواں نکلنے لگ پڑتا ہے اور سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ کس قسم کا معاشرہ ہم نے بنا لیا ہے کہ جہاں ہماری بچیوں کو سماجی ڈر و خوف کی وجہ سے کیا کچھ جھیلنا پڑتا ہے،یقین مانیں وہ اس حد تک کنونس ہو چکی ہیں کہ
“مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں”
وہ چاروناچار اس حقیقت کو تسلیم کرچکی ہیں اور وہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتی ہیں؟
کیونکہ بے چاری مجبور ہوتی ہیں کسی کو کچھ نہیں بتاسکتیں،وہ بہت اچھے سے جانتی ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے چار و ناچار اور خیرات کے طور پر جو تھوڑا بہت کھلا آسمان انہیں نصیب ہوا ہے بھلے کچھ وقت تک کے لئے ہی سہی ان کی ذرا سی جنبش و لب کشائی پر چھن سکتا ہے۔کھلی فضا میں کچھ دیر کو ملے ان ادھاری لمحات کو وہ شکوہ و شکایت کی نزر نہیں کرنا چاہتیں۔
کیونکہ ہمارے معاشرے میں والدین خوشی سے بچیوں کو نہیں پڑھاتے اور نہ ہی بیٹوں کی طرح تعلیمی معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ ان کی نظروں میں وہ پرایا دھن اور دوسروں کی امانت ہوتی ہیں۔ اسی لیے یہ بیچاریاں اپنے اوپر پڑنے والی غلیظ نگاہوں اور جنسی استحصال کے ایک نہ ختم ہونے والے گھن چکر کو چار و ناچار برداشت کرتی رہتی ہیں مگر اپنے بڑوں کو بھنک تک نہیں لگنے دیتیں۔

انہیں اپنے بڑوں کے ظرف کا بڑے اچھے سے ادراک ہوتا ہے کہ ان کی عزت کی تان کہاں پہ ٹوٹے گی اور اس غصے کا شکار کون بنے گا؟
ظاہر ہے وہ خود، کیونکہ اس نے سارے معاشرے کی عزت کا ٹھیکہ جو اٹھا رکھا ہے، بھائی جو مرضی کریں سب چلتا ہے مگر بیٹی— یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟وہ بھلا انسان تھوڑے ہےوہ تو کانچ کی گڑیا ہے جسے ہر وقت خود کو بچا کے رکھنا ہے۔
استاد کے روپ میں یہ جنسی بھیڑئیے تقریباً ہر تعلیمی ادارے میں موجود ہوتے ہیں اور ان کے حمایتی بھی جو انہیں ہر آڑے وقت میں تھام لیتے ہیں مگر بچیوں کا کیا؟
جنہیں گھر کی سپورٹ بھی نصیب نہیں ہوتی ،معاشرہ تو بہت بعد میں آتا ہے، جہاں اس قسم کی صورت حال ہو وہاں کون سی بچی اپنے لب کھولنے کا خطرہ مول لے سکتی ہے؟
اس قسم کے پروفیسرز اور مدارس میں پڑھانے والے معلمین کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ دونوں کی ذہنیت ایک سی ہی ہوتی ہے۔

“ایک مولوی صاحب بمشکل کسی مدرسے میں چند روز ہی ٹکتے تھے اور صرف ایک الزام کی بنیاد پر ہر جگہ سے نکال دیے جاتے تھے اور وہ الزام ہوتا تھا (لونڈے بازی) کا۔جسے علت مشائخ بھی کہتے ہیں۔ مولوی صاحب نے دربدر ہونے کے بعد اپنی زندگی کا ایک شعار بنا لیا کسی بھی مدرسے میں انٹری دینے سے پہلے سرپرست مدرسہ کو پیشگی بتا دیا کرتے تھے کہ چاہے مجھے رکھو یا نکالو میں نے پڑھانا بالکل اسی طرح سے ہے جس طرح سے پڑھا ہے باقی آپ کی مرضی”

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اس قسم کے جنسی بیماروں سے نک ونک ہو چکا ہے اور یہ بھیڑیے کبھی عزیز الرحمن بن کر اور کبھی عابد میر اور کبھی زاہد سرفراز کے بھیس میں ادب کی دنیا میں بھی وارد ہوچکے ہیں اور انہیں باقاعدہ ادبی میلوں میں مدعو کیا جاتا ہے اور یہ شکاری اپنی مکروہ ذہنیت اور جذباتی و جنسی استحصال میں لتھڑی ہوئی زندگی کو لفظوں کی کوزہ گری میں سمو کر اسٹیج پر بیٹھ کر بیان کرتے ہیں اور خوب داد سمیٹتے ہیں۔

ظاہر ہے اس قسم کے لوگ لفظوں سے کھیلنا تو خوب جانتے ہیں، اپنا ہنر آ زماتے ہیں اور اپنی مکارویوں کو لفظوں میں سمو کر مہان بنے رہنے کی ایکٹنگ کرتے رہتے ہیں۔
خیر اب بہت کچھ سامنے آنے لگا ہے، اب زیادہ دیر تک یہ جنسی شکاری ادب یا استاد کا چولا پہن کر ہماری بچیوں کا استحصال نہیں کر سکتے۔

جس طرح سے فیڈرل یونیورسٹی کی طالبہ نے استاد کے روپ میں ایک جنسی بھیڑیے کو ننگا کیا ہے قابلِ تحسین ہے۔ یہ ان بچیوں کے لیے ایک طرح سے مشعل راہ ہے جو اس فیز میں سے گزر کر اچھے عہدوں پر براجمان ہو چکی ہیں وہ سامنے آئیں اور اپنے اپنے حصے کی کہانی لکھیں اور سوشل میڈیا کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیں تاکہ ان مکروہ چہروں کو کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہ ملے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمیں بطور ماں باپ اپنے بچوں کا سہارا بننا چاہیے اور انہیں ہر حال میں سپورٹ کرنا چاہیے۔ یقین مانیں اگر ہمارے والدین کا رویہ اپنی بچیوں کے حوالے سے بدل جائے تو کسی جنسی بھیڑئیے کو کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی بس بھروسہ شرط ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply