کھاناگرم کرنےکی ذمہ داری اور صنفی بالادستی۔۔ماہ رخ سلطانہ

 خواتین کے عالمی دن کے تناظر میں کچھ نعروں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ خواتین اب اپنے لیے معاشرے کے وضع کردہ جینڈر رولز پر آنکھیں بند کرکے  عمل کرنے کو تیار نہیں ، اور کیوں کریں، کوئی زبردستی ہے ؟ جبر تو دین میں بھی نہیں ۔

”خود کھانا گرم کرلو“ کا جواب ” میک اپ, کپڑے اور زیور اپنے پیسوں سے خریدنا “ سے دیا گیا۔ تو جناب جہاں میک اپ اور زیور جیسی عیاشی کروائی جاتی ہے وہاں کھانا نہ گرم کرنے کا سوال پیدا ہونا مشکل ہے۔ مسئلہ تو وہاں ہوتا ہے جہاں نکاح کے دو بول پڑھتے ہی ساری زندگی کے لیے نہ صرف شوہر بلکہ اس کے گھر والوں کی خدمت کی ذمہ داری بھی سماجی اصولوں کےعین مطابق بہو کے کندھوں پہ آجاتی ہے۔ اب اس کے بدلےمیں ملتا کیا ہے؟ سر چھپانےکو چھت , تین وقت کی روٹی اور شوہر کی اوقات کےمطابق لباس۔ بچوں کی پیدائش کے بعد عورت پر گھر کے کام کاج کے علاوہ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری اور تربیت میں کمی بیشی کی صورت کوتاہی کا الزام الگ۔

اول تو نکاح نامے میں عورت کے طلاق کے حق کو بہ یک جنبش قلم کاٹ دیا جاتا ہے کہ  ناقص العقل کہیں یہ حق استعمال ہی نہ کر بیٹھے۔ اگر کہیں طلاق لینےکی ہمت کربیٹھے تو مالی مجبوری کیونکہ بقول شاعر ء دولت ہے جس کے پاس عدالت اسی کی ہے اگر خوش قسمتی سے یہاں سے بچ نکلی تو والدین اور بھائیوں پہ بوجھ۔ کیونکہ اکثروبیشتر جہیز ،سسرال اور باپ کی جائیداد( اگر ہو تو) بھائیوں کے تصرف میں ہوتی ہے۔

مثل مشہور ہے کہ عورت کا کوئی  گھر نہیں  ہوتا۔ طلاق یافتہ عورت کےلیےنہ صرف بچوں کی پرورش کے ساتھ روزگار جاری رکھنا مشکل ہوجاتا اور سماج میں طلاق یافتہ ہونے کی بنإ پر امتیازی سلوک کی مستحق بھی ٹھہرتی ہے۔

یہ تو ہوگیا صنف نازک کا نوحہ، دوسری طرف معاشرےمیں مردخاندان کی مالی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دارہے ۔ نہ صرف ماں باپ بلکہ چھوٹے بہن بھائی اور شادی کے بعد ایک عدد بیوی (جیب کےمطابق)اور چند بچوں(اولاد نرینہ کی خواہش کے مطابق)کی مالی ذمہ داری بھی مرد پہ عائد ہوتی ہے۔ مرد کبھی بےروزگاری کے طعنے سنتا ہے تو کبھی گھریلو اخراجات پورے نہ ہونے پر بیوی کی شکإتیں۔

اب اگر ان حالات میں جب ا سے ” اپنا کھانا خود گرم کرو“ اور میرا جسم میری مرضی“ کے سمع خراش نعرے سننے کو ملیں تو یقین نہیں  آتاکہ وہ وفا کی دیوی جوماضی بعید میں ستی اور جوہر ہونے کو تیار تھی اورماضی قریب میں فرشتوں کی رات بھر لعنت کے خوف سے کھانا اور بستر دونوں بلا چوں و چراں گرم کر دیا کرتی تھی , اب کس راستے پہ چل نکلی ہے؟۔۔۔ کچھ سادہ لوح اس میں فیمنسٹوں کا ہاتھ اور یہودونصاریٰ  کی  سازش تلاش   کر رہے ہیں۔ حالا نکہ اگر غور کریں   کہ اس نام نہاد صنفی برتری کا نقصان مرد کو بھی ہے۔

تو معزز خواتین و حضرات ء ثبات اِک تغیر کو ہے زمانے میں ۔۔ سماجی اور ثقافتی رویے پتھر پہ لکیر نہیں  ہوتے۔ وقت کے ساتھ چلنےکے لیےان میں ردوبدل ناگزیر ہے۔ خاص طور پر جورویے صنفی استحصال کا باعث بن رہے ہوں ان کو بدلنا بہت ضروری ہے۔

چلیں چندعملی تجاویز پہ غور کرتے ہیں کیونکہ خالی نعرے بازی اور طنز سے مردوزن کے درمیان مخاصمت بڑھے گی۔ اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہوئے  بیٹا اور بیٹی دونوں کو یکساں توجہ اور پیاردیں ۔ تعلیم اور ہنر کے لیے وسائل  کے استعمال میں جنسی امتیاز نہ کریں۔ تاکہ ہر فرد صنفی برابری کا سبق اپنے گھریلو ماحول سے سیکھے۔ بلا صنفی امتیاز لباس، خوراک اور تعلیمی مضامین سے لےکر جیون ساتھی کےانتخاب تک اپنی اولاد کی مرضی اور پسند کو ملحوظ رکھیں۔

شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں تعلیم اور ہنر کے ذریعے معاشی طور پر خود مختارہوں تاکہ میاں بیوی کا رشتہ محبت اور خلوص کی بنیادوں پر قائم  ہو اور مجبوری, لالچ اور  سماجی تحفظ کی ضرورت اس رشتےکو آلودہ نہ کر سکے۔ اپنی بہن اور بیٹی کوتعلیم و ہنر کے زیور سے آراستہ کریں اورشوہر حضرات بیوی کو زیور اورمیک اپ مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کی بھی حوصلہ افزائی  کریں تاکہ خانگی زندگی مالی مفاد اور مجبوری کے بجائے  باہمی عزت اور حوصلہ افزائی  کی بنیاد پر قائم ہوسکے۔

جسمانی تعلقات میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ نکاح کسی بھی صنف کو زبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔ عورت اور مرد دونوں کو بلاتفریق جنس عزت واحترام حاصل ہو بالخصوص عورت کی سماج میں عزت اس کے شادی شدہ ہونے سے مشروط نہ ہو۔

وراثت میں عورت کے حق کی وصولی کو قانونی طور پر آسان بنایا جائے ۔ طلاق کی صورت میں عورت اگر بچوں کو ساتھ رکھے تو شوہرنہ صرف بچوں کے خرچ کی ذمہ داری با نٹے بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بھی حصہ لے کیونکہ بچوی کی ذہنی صحت کے لیے ماں اور باپ دونوں کا کردار اہم ہے۔ عورت کو گھر سے باہر  جنسی طور پر ہراساں نہ کیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی پریشانی کےاپنے خاندان کی کفالت کرسکے۔

شادی کے ادارےکوصنفی برابری کا ذریعہ بنائیں  ناکہ صنفی استحصال کا ایک مہلک ہتھيار۔ یقین جانے اس میں خواتین کے ساتھ ساتھ مرد حضرات کا بھی فائدہ ہے۔ کیونکہ حق عزت سے دے دیا جائے  تو انصاف ہوتاہے اور جب چھین کے لیا جاتا ہےتو اکثر جائز سے زیادہ بھی دینا پڑجاتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *