آبلہ پا ہے بہار۔۔ریحان خان

مہاراشٹر میں کسانوں کے ایک بے نظیر اور پرامن احتجاج نے ایوان اقتدار میں تزلزل برپا کردیا جس کے نتیجے میں فردنویس حکومت کو مجبوراً ان کے مطالبات تسلیم کرنے پڑے اور انہیں ممبئی سے واپس بھیجنے کیلئے بھساول تک دو خصوصی ٹرینیں بھی چلائی گئیں۔ سردست تسلیم کئے گئے مطالبات پر کس حد تک عمل درآمد کیا جائے گا اس پر وہ گھنگھور گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں جس کی تمنا دہقان اپنے کھیت پر کرتا ہے۔ کسانوں کو ممبئی سے واپس بھیجنے کیلئے اس کے سوا اور کوئی طریقہ کار نہیں تھا کہ ان کے مطالبات پر سرتسلیم خم کیا جائے۔

اسی طرح مسلم ریزرویشن کے مطالبے کے ساتھ شیخ آصف کی قیادت میں مالیگاؤں سے ممبئی تک جانے والے پیدل قافلے کو اطمینان دلایا گیا تھا جس کے بعد اب تک مسلم ریزویشن کے خدوخال واضح نہیں ہوسکے ہیں، بلکہ اکثر لوگ تو بھول بھی چکے ہیں کہ مسلم ریزرویشن کے مطالبے کے ساتھ مالیگاؤں سے ممبئی تک   پیدل سفر کیا گیا تھا۔

کسان مارچ کے ساتھ وہ سفر یاد آیا اور کسانوں کو بھی اسی طرح اطمینان دلایا گیا جس طرح مسلم وفد کو اطمینان دلایا گیا تھا۔ دن، مہینے سال بیت گئے لیکن نتائج اب تک واضح نہیں ہوئے ہیں۔ مسلم وفد کو اطمینان نہیں دلایا  جاتا تو وہ ممبئی میں خیمہ زن ہوجاتے  ہیں اور کسانوں کو اطمینان نہیں دلایا جاتا تو آزاد میدان کسی کرانتی میدان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

لہٰذا مسلم ریزرویشن والے وفد کی طرح کسانوں کو بھی ان کے نوے فیصدی مطالبات تسلیم کرلینے کا اطمینان دلایا گیا بقول غالب

نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ “ہم ستمگر ہیں”

گزشتہ سنیچر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت کسانوں کے ضمن میں ہر ‘ممکن’ امدادی قدم اٹھا رہی ہے۔ امدادی اقدام کے ساتھ ممکن کی شرط کس لئے رکھی گئی اس کا اندازہ اس طرح سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس روز پینتیس ہزار کسان آزاد میدان میں خیمہ زن تھے اس دن وزیر اعظم نے ریلائنس کے سربراہ انل امبانی کے بیٹے آکاش امبانی سے ملاقات کی تھی۔

قرائن یہی ہیں کہ جہاں کسانوں کے ساتھ کارپوریٹ طبقے کے مفادات کا تصادم ہوگا وہاں کسانوں کو پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ ڈیجیٹل انڈیا میں دقیانوسی دہقان کو رجعت کی علامت تسلیم کیا جائیگا کہ وہ کاشت کاری کو ڈیجیٹلائز نہیں کرسکتا۔ وہ ڈیجیٹلائزیشن کی راہ کا روڑا ہے اور ملک کی ترقی کی راہ کی ایک رکاوٹ۔۔ ایسے ڈیجیٹل انڈیا کو وطن عزیز کے خدوخال راس نہیں آئیں گے جس طرح شائننگ انڈیا کو عوام نے مسترد کردیا تھا۔

وزیر اعظم سالانہ کرانتی میلہ میں کسانوں سے خطاب کررہے تھے اور انہوں نے اپنی تقریر میں شاید ایک بار بھی مہاراشٹر کے ان کسانوں کا ذکر نہیں کیا جو آزاد  میدان میں سارے ملک کے کسانوں کی نمائندگی کررہے تھے۔ انہوں نے قرض معافی کا بھی ذکر نہیں کیا۔ تغافل بیخود دہلوی کے مطابق۔۔
انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے
کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

کسان یاترا کے دوران کچھ ایسی تصاویر سامنے آئیں جو جگر چیر کے رکھ دینے کیلئے کافی تھیں، ایک کسان اپنے ٹوٹے ہوئے چپل کو پلاسٹک سے باندھ کر پہنے ہوئے تھا تو کئی کسان برہنہ پا تھے۔ ایک خاتون کسان کے پیروں کے آبلے تھے تو منزل مقصود پر پہنچ کر پھوٹ گئے اور اس کے پشت سے لہو ابلنے لگا۔ لیکن ان سب کی بجائے بی جے پی کی رکن پارلیمان اور بھارتیہ جنتا ہوا مورچہ کی قومی صدر پونم مہاجن کو صرف یہ نظر آیا کہ کسانوں نے کمیونسٹ پارٹی کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں اور ان میں کچھ ماؤ وادی بھی ہوسکتے ہیں۔

پونم کے مطابق وہ کسان یاترا کی بجائے کمیونسٹ پارٹیوں کا مارچ تھا۔ یہ صرف ایک رکن پارلیمان نظریہ نہیں بلکہ بی جے پی کے ینگسٹرس ونگ کی قومی صدر کا بھی نکتہ نظر تھا۔ یہاں محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کی زمام کار مستقبل میں ایسے افراد کے ہاتھوں میں آنے والی ہے جنہیں کسانوں کے پیروں کے آبلوں پر ماؤوادیوں کی سنگینوں اور ان آبلوں سے رستے لہو پر کمیونزم کی سرخی کا گمان ہوتا ہے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *