معاشرتی تخریب اور ایک استاد کا خوف

پہلےجنوب اور جنوب شمالی سے خبریں آنا شروع ہوئیں کہ وہاں کچھ گڑبڑ ہے۔ بتایا گیا کہ بیرونی قوتیں اپنے مفادات کی خاطر ہمارے چند قابلِ فروخت لوگوں کو خرید چکی ہیں اور اُن کے ذریعے سے ہماری پاک سرزمین پر فساد اور انتشار پھیلانا چاہتی ہیں۔ ہم نے دشمن کے عزائم کو بروقت بھانپ لیا اور دشمن کے اُن ایجنٹوں کو یا تو مار دیا ہے یا وہ اب ہمارے تحفظ کے ضامن مستعد اداروں کی تحویل میں ہیں اور اپنے اگلے پچھلے سہولت کاروں کے بارے میں راز اگل رہے ہیں۔ ہم بہت خوش ہوۓ اور اپنی سلامتی کے ضامن اداروں کی خوب واہ واہ کی۔ ہم نے بلوچوں کو غداری کا وہ سبق چکھایا کہ وہ ہمیشہ چاہ کر بھی نہ بھُلا سکیں گے۔
پھر شمال اور شمال مغربی علاقوں سے خبر آنے لگی کہ وہاں کچھ گڑبڑ ہے۔ اطلاع ملی کہ ہمارے دشمنوں نے اب وہاں اپنے ڈیرے جما لیے ہیں۔ ہم ڈر گئے۔ ہماری نگاہ اور امیدیں ایک دفعہ پھر سے اپنی سلامتی کے ضامن اداروں سے وابستہ ہوئیں۔ انہوں نے قوم کو اس کڑی آزمائش میں بھی مایوس نہ کیا۔ آپریشنز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ پشتونوں میں انا اور خوداری بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اُن کی سیدھی گردن کو ٹیڑھا کرنے میں محنت زیادہ کرنا پڑی۔ بتایا گیا کہ اے این پی کی صورت میں انڈین اور افغان ایجنٹ تو پہلے ہی موجود تھے، اب امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ملکوں نے بھی یہاں اپنے لیے کچھ ایجنٹ خریدے ہیں۔ لہٰذا پشتونوں کو بھی اس غداری کا ایسا سبق سکھایا ہے کہ اُن کی آنے والی پشتیں بھی یاد رکھیں گی۔
کچھ دن پہلے ارادہ کیا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقے کی سیر کروں۔ سنا ہے فطرت کی خوبصورتی وہاں ٹھاٹھیں مار رہی ہے۔ پتا چلا کہ بلوچیوں کو ابھی یاد کروایا گیا سبق بھولا نہیں۔ لہٰذا اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے بلوچوں کے سبق بھولنے کا انتظار کریں۔ لاہور، سیہون اور دیگر علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ شمال اور شمال مغرب کے لوگ بھی یاد کروایا گیا سبق بھول نہیں پا رہے۔
اندرون سندھ کے لوگ تو بھٹوازم کا ستو پی کے سو رہے ہیں۔ ملک میں چاہے دنیا میں کچھ ہو جائے، انہوں نے بھٹوازم کی افیون پی ہوئی ہے۔ اُن کا بھٹو زندہ ہے اور اُن کے لیے اتنا نعرہ ہی کافی ہے۔ سندھ کی جو حالت بھٹو کے دور میں تھی وہی آج بھی ہے۔ اسی لیے ان کا بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ کچھ نئی تبدیلی آئے تو ہی ان کی یاداشت سے بھٹو محو ہو نا۔ اسی افیون کی بدولت ہی موجودہ پیپلز پارٹی اپنی تمام تر نااہلیوں اور بدعنوانیوں کے باوجود اُن پر ابھی تک مسلط ہے۔ اُن میں تبدیلی کی کوئی امنگ ہی نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ شاید یہی خوف ہے کہ کہیں انہیں اپنے بھٹو سے محروم نہ ہونا پڑ جائے۔ جنوبی پنجاب کے سرائیکی بھی سندھی زبان کی طرح سندھی مزاج سے مطابقت رکھتے نظر آتے ہیں۔
پہلے بنگالی بیرونی ہاتھوں کے مہرے قرار پائے، پھر بلوچی اور پھر پٹھان۔ مہاجر تو شروع دن سے ہی ہمیں کھٹکتے تھے۔ تقریباً تین چوتھائی باشندگانِ مملکتِ خدادادِ پاکستان کی حب الوطنی مشکوک قرار پانے کے بعد اب شنید ہے کہ پنجاب میں بھی ان مشکوک پاکستانیوں کے اثرات جڑ پکڑ رہے ہیں۔ پنجابی ہونے کی وجہ سے ان پر دہشت گرد یا غدار کا لیبل نہیں لگایا گیا بلکہ ان کا سہولت کار ہونے کا لیبل لگایا گیا ہے۔ چنانچہ ان سہولت کاروں کو سبق سکھانے کے لیے پنجاب میں بھی آپریشن کلین اپ کا اعلان کیا گیا ہے۔
سبق سکھانے کی اس آکاس بیل جیسی روایت میں ایک خطرناک پہلو کا اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے اساتذہ کو بھی سبق سکھانے کی اس روایت میں شامل کیا گیا ہے۔ پہلے خیبر پختونخوا سے خبریں آئیں، پھر پنجاب سے آنا شروع ہوئیں اور ابھی تازہ خبر کراچی سے آئی ہے۔ آپریشن زدہ علاقوں سے خبر اس لیے نہیں آتی کیونکہ وہاں سے خبر لانے والا خبر تو کجا، خود کو بھی واپس نہیں لا پاتا۔ اس لیے بلوچستان یا شمال مغربی علاقے کے اساتذہ کے بارے فی الحال کوئی خبر ہمارے علم میں نہیں۔ اور اگر خبر ہو بھی تو اس خبر کو افشا کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہو گا۔ معلومات کی حد تک اساتذہ کا اتنا احترام ملحوظ رکھا گیا کہ انہیں سبق یاد کروا کے چند روز بعد حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ کسی استاد کو دہشت گردوں کا سہولت کار بتایا گیا تو کسی کو ملک دشمن۔ کسی کو دین دشمن قرار دیا گیا تو کسی کو ملکی سلامتی کے اداروں کا دشمن۔
کسی بھی قوم یا معاشرے کی اخلاقی پستی یا بلندی پرکھنے کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ دیکھا جائے معاشرے میں استاد کو کیا مقام حاصل ہے۔ ہماری ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے اپنے ہیروز کو ذلیل ہی کیا ہے۔ قوم کے معماروں کی اگر یوں تذلیل کی جائے گی تو پھر اِس کے بعد کوئی عزت کے قابل نہیں بچے گا۔ میں خود ایک استاد ہوں۔ میں اکثر خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپنے بچوں کو حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دینا چاہیئے یا طاقت کے ساتھ۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ جب معاشرے میں استاد کے کردار کو بھی مشکوک بنا دیا جائے تو کیا اُس معاشرے میں پستی اور تباہی کا کوئی اور زینہ بھی ہے جسے پار کرنا رہ گیا ہو؟ طاقت اور اختیار کے نشے میں مخمور قوتوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عزت کے بلبوتے پر تو طاقت حاصل کی جا سکتی ہے لیکن طاقت کے بلبوتے پر عزت حاصل نہیں کی جا سکتی۔
سمجھایا اپنوں کو ہی جاتا ہے۔ یہ ملک ہم سب کا سانجھا ہے۔ اگر اسے بچایا جا سکتا ہے تو باہمی اتحاد اور یگانگت سے ہی بچایا جا سکتا ہے۔ معاشرے وہی ترقی کرتے ہیں جہاں اختلافِ رائے کو نعمت سمجھا جائے۔ کسی کے سمجھانے میں توہین محسوس کرنا انانیت کی علامت ہے۔ اور انانیت صرف خدا کی ذات کو ہی زیبا ہے۔

Avatar
عمران بخاری!
لیکچرار، قومی ادارہءِ نفسیات، قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *