4 اپریل 1979- پے در پےشکست آرزو (حصہ دوم)

کسی بھی انسان کو کامل اور تمام خوبیوں سے مرصع دیکھنا بہت سی وجوہات کی بنیاد پرایک ناممکن سی خواہش ہے۔ ان میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خوبیاں اور کمالات بجائے خود موضوعی (سبجیکٹو) سے معاملات ہیں اور ان کے حوالے سے ہرانسان کی رائے اور پسند و ناپسند دوسرے سے بالکل مختلف ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف جس ممدوح میں آپ اپنی مطلوبہ خوبیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خود اس کا خوبیوں اور خامیوں کا معیار بھی تو آپ سے مختلف ہوسکتا ہے۔ مرحوم ذوالفقارعلی بھٹو کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ہر بڑے انسان کی طرح انہیں بھی قدرت نے کئی قسم کی غیر معمولی صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا ۔ بلا کی ذہانت اور معاملہ فہمی، دل نواز شخصیت جو مردانہ وجاہت میں یونانی دیو تاؤں کو مات دیتی تھی اور پھر اُس پر بھٹو صاحب کی خوش لباسی۔ وسیع مطالعہ اور عصر حاضر کا گہرا شعور جو اُن کی تحریروں اور تقریروں کے وفور میں جھلکتا تھا اور پھر عوام کے جذبات سمجھنے میں بے انتہا ذکاوت۔ناموافق ترین حالات میں بھی چومکھی لڑائی لڑتے ہوئے اعلیٰ ترین قائدانہ صلاحیتوں اور بروقت فیصلوں کا بہترین مظاہرہ۔ بلاشبہ بھٹو صاحب کی ذات میں بہت سے تضادات اور خامیاں بھی تھیں لیکن روئے زمین پر کون سا انسان ہے جو ان سے مبرا رہا ہو؟ ویسے بھی کچھ معاملات وقت پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے جو خود بہت بڑا منصف ہوتا ہے۔
ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اس وقت ہم جس ملک میں زندگی بسر کررہے ہیں وہ نیا پاکستان یعنی 16 دسمبر 1971 کے بعد کا پاکستان ہے جس کا سماجی و عمرانی معاہدہ بھی 1947 والے پاکستان سے مختلف ہے۔ یہ بات ایک علیحدہ تحقیق کا موضوع ہے کہ وہ کیا حالات تھے جو سانحہ سقوط مشرقی پاکستان پر منتج ہوئے اور اس میں کن اندرونی اور بیرونی عوامل اور شخصیات کا کیا کردار رہا۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ اُس ٹوٹے پھوٹے شکست خوردہ پاکستان کو مختصر سی مدت میں پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، عسکری اور سیاسی قیادت کے حوصلے بحال کرکے فوری طور پر ایک عبوری آئین اور سال ڈیڑھ سال سے بھی کم مدت میں پوری قوم کو ایک متفقہ آئین دینا ایسے کارنامے ہیں جن سے صرف نظر کرنا ملک کی سیاسی تاریخ کے کسی بھی طالب علم کے لیے ممکن ہے اور نہ ہی کوئی بھی سیاسی کارکن(خواہ اُس کا تعلق ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو) بھٹو صاحب کو بائی پاس کرکے سیاست کے میدان میں کچھ کرنے کا اہل ہوسکتا ہے۔
بہت سے فاضل دوست ایسے ہیں جنہوں نے بھٹو مرحوم کی ذات کی خامیوں اور اُن کے فیصلوں کے ضرر رساں نتائج پر بہت سا تحقیقی کام کررکھا ہے اور وہ اس موضوع پر بات کرنے کے لیے ہر گھڑی تیار رہتے ہیں لہٰذا اس معاملے پر ایک غیر موزوں فرد ہونے کی وجہ سے اس مشق پر اپنی توانائیاں صرف نہیں کروں گا۔ البتہ پاکستان کا ایک ایسا شہری اور سیاسی کارکن ہونے کے ناتے جس نے 1971 سے مابعد سارے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں، چند معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ بھی اس وضاحت کے ساتھ کہ یہ فقیر زندگی کے کسی بھی مرحلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا باقاعدہ کارکن نہیں رہا۔
ملک کی ستر سالہ تاریخ میں ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں واحد راہنما پیدا کیا جس کی اُنگلیاں تاریخ کی نبض پر رکھی ہوئی تھیں،جوعملی زندگی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور کردار سے بہت زیادہ متاثر تھا اور اُن کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا تھا اور جو صدق دِل کے ساتھ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ اور قوموں کی برداری میں باعزت مقام کا حامل ملک بنانا چاہتا تھا۔جس نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے سیاسی راہنماؤں، دانش وروں، ٹریڈ یونین لیڈروں، مزدور اور طالب علم راہنماؤں،دینی علما اور پیشہ ور ماہرین کو ایک ہی پلیٹ فارم پراُس وقت نہایت کامیابی کے ساتھ جمع کیا جب اُس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ تھا نہ ہی وہ اپنے خطے کا سب سے بڑا جاگیر دار تھا۔جس نے پیپلز پارٹی کی صورت میں سماج کے مختلف طبقات کو محض ایک پلیٹ فارم ہی نہیں دیا بلکہ اس ملک کے محنت کش مزدروں،کسانوں،ہاریوں اور عوام کے اندر پہلی مرتبہ یہ روح بیدار کی کہ اس ملک کے معاملات اورفیصلہ سازی پر بات کرنے کااُنھیں بھی پورا حق حاصل ہے۔ آج کے نوجوانوں بالخصوص شہروں میں رہنے والوں کو شاید یہ باتیں بے معنی سی دکھائی دیں لیکن اس بات کی اہمیت کو زمیں زادوں کی وہی نسلیں سمجھ سکتی ہیں جنہیں ملک کی آزادی کے 23 برس بعد پہلی مرتبہ اپنی مرضی کے پلیٹ فارم سے ووٹ کا حق استعمال کرنے کا موقع ملا ۔جنہوں نے پہلی مرتبہ پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور شہری ہونے کے ناتے اس گھر کی اونرشپ کو محسوس کیا۔آخر میں بھٹو مرحوم کی شخصیت کے اُس پہلو پر بات ضرور کرنا چاہوں گا جسے متنازع ترین قرار دیا جاتا ہے۔ وہ ہے سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھٹو صاحب کا کردار۔ حقیقت یہ کہ بھٹو صاحب جون 1966 میں ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہوچکے تھے اور تب سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے معتوبین میں شامل تھے۔ اس کے باوجود وہ 1967 کو پیپلزپارٹی جیسا پلیٹ فارم قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور 7 دسمبر 1970 کے پہلے عام انتخابات میں مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان)میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ عام انتخابات کے بعدانتقال اقتدار کا مرحلہ ڈیڈ لاک کا شکار تھا جس میں بہت سے عوامل اور مختلف و متضاد مفادات کارفرما تھا۔ یہ طالب علم اپنے برسہا برس کے مطالعے، مشاہدے اور اُس سیاسی کشاکش کے کرداروں کے حوالے سے بات چیت کے بعد اب تک اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بھٹو صاحب نے جو کچھ کیا وہ مغربی پاکستان کے عوام اور یہاں کی اسٹیبلشمنٹ کے جذبات اور خواہشات کی ترجمانی تھی۔ بھٹو مرحوم اور ملک کے مغربی بازو کی زیادہ تر سیاسی جماعتیں( اگر غلطی نہیں کررہا تو پاکستان جمہوری پارٹی اورنیشنل عوامی پارٹی کے دونوں دھڑوں کے استثنیٰ کے ساتھ) مشرقی پاکستان کے حالات اور وہاں کے عوام کی اُمنگوں اور خوہشات کے معاملے میں بہت زیادہ غیر حساسیت کا شکار تھیں۔انہیں کچھ بھی اندازہ نہیں تھا کہ مشرقی پاکستان کے عوام کیا چاہتے ہیں اور اس بحران کا حل کیسے نکالا جاسکتا ہے۔ بہر کیف بھٹو صاحب کے قد کاٹھ کے سیاسی قائد کو اس غفلت کے حوالے سے کوئی چھوٹ نہیں دی جاسکتی کہ وہ مقبولیت پسند سیاست کے ریلے میں بہہ گئے۔ یہ اس طالب علم کی عاجزانہ سی رائے ہے جس سے دوست پوری طرح اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔

تنویر افضال
تنویر افضال
پاکستان اور عالمی سماج کا ہر حوالے سے ایک عام شہری۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *