سیاسی جماعت کیسی ہونی چاہیے؟ مبشر زیدی

سیاسی جماعت کی ہر ضلع میں تنظیم ہونی چاہیے۔ کئی جماعتوں کی ہے بھی۔ اس سطح پر سرگرم کارکنوں کی سیاسی تربیت کی جانی چاہیے۔ انھیں سیاسی کلچر کی تعلیم دینی چاہیے۔ ان میں سے چند کو عہدے دار بنانا چاہیے۔ ان کو بلدیاتی انتخابات میں کونسلر کا امیدوار بنانا چاہیے۔ جو جیت جائے، اس سے پارٹی عہدہ واپس لے لینا چاہیے۔
اچھا کونسلر یا ضلعی سطح پر اچھا پارٹی عہدیدار ثابت ہونے والے کو صوبائی تنظیم میں ترقی دی جانی چاہیے۔ اس سطح پر ایک اور تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ انھیں سیاسی تاریخ کی تعلیم دینی چاہیے۔ انھیں دلائل دینے اور عوام سے خطاب کا قابل بنانا چاہیے۔ ان میں سے چند کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں امیدوار نامزد کیا جانا چاہیے۔ جو جیت جائے، اس سے پارٹی عہدہ واپس لے لینا چاہیے۔
اچھا ایم پی اے یا ضلعی سطح پر اچھا پارٹی عہدیدار ثابت ہونے والے کو قومی سطح کی تنظیم میں ترقی دی جانی چاہیے۔ اس سطح پر ایک اور تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ انھیں آئین پڑھانا چاہیے۔ انھیں قانون سازی کی تربیت دینی چاہیے۔ ان میں سے چند کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں امیدوار نامزد کیا جانا چاہیے۔ جو جیت جائے، اس سے پارٹی عہدہ واپس لے لینا چاہیے۔
صوبائی اور قومی اسمبلی کے جو ارکان خود کو اہل ثابت کریں، انھیں حکومت ملنے کی صورت میں اپنی مہارت والے شعبوں میں وزیر بنانا چاہیے۔ جس کے کارکردگی اچھی نہ ہو، اس سے وزارت لے لینی چاہیے۔
قانون سازی کے ماہر اور قومی اسمبلی کے سینئر ترین ارکان کو سینیٹ میں بھیجنا چاہیے۔
کسی رہنما کے ایک سے زیادہ بار صدر مملکت، دو سے زیادہ بار وزیراعلیٰ، وزیراعظم اور پارٹی سربراہ بننے پر پابندی ہونی چاہیے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں اقربا پروری دیکھنے کو نہیں ملتی اس لیے رشتے دار بیک وقت کسی پارٹی یا حکومت میں نظر آجاتے ہیں۔ لیکن ہمارا جمہوری نظام ابھی پسماندہ ہے۔ یہاں صدر، وزیراعظم، کابینہ ارکان اور پارٹی سربراہ کی مدت کے دوران میں اس کے رشتے داروں کے سیاست کرنے پر پابندی ہونی چاہیے۔
پارٹی کو اپنے سرپرستوں سے چندے کا ایک اکاؤنٹ بنانا چاہیے اور اس سے جلسوں پر رقم خرچ کرنی چاہیے۔
الیکشن میں تمام امیدواروں کی انتخابی مہم پارٹی کو چلانی چاہیے تاکہ امرا اپنی دولت کے بل پر غریبوں کا راستہ نہ روک سکیں۔
کارکنوں یا رہنماؤں کو گرفتار کیے جانے کی صورت میں پارٹی کو مقدمہ لڑنا چاہیے۔
ایک بار ایسی کوئی پارٹی بن گئی یا کسی پارٹی نے خود کو اس روپ میں ڈھال لیا تو فوری طور پر موروثی سیاست کا خاتمہ ہوجائے گا۔
شفاف نظام ہونے کی وجہ سے شریف، سمجھ دار اور عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھنے والے لوگ سامنے آئیں گے۔ پیسہ بنانے کی خواہش رکھنے والے چھٹ جائیں گے۔
کرپشن سو فیصد نہیں روکی جاسکتی لیکن پارٹی کے اندر احتساب کا نظام ہونے کی وجہ سے برے لوگ جلد پکڑ میں آجائیں گے۔
نیچے سے اوپر آنے والے سیاسی رہنما نڈر اور بگ باک ہوں گے۔ وہ کسی منتقم مزاج چیف جسٹس اور ظاہر یا پوشیدہ ڈکٹیٹر سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
صرف دو پارٹیاں ایسی بن گئیں تو باقی سب فارغ ہوجائیں گی۔ سیاسی کلچر بہتر ہوجائے گا۔ کرپشن برائے نام رہ جائے گی۔ عدالتی اور فوجی آمریت چونکہ اصل میں بزدل ہوتی ہے، اس لیے عوامی حمایت رکھنے والی نڈر سیاسی قیادت کی موجودگی میں کبھی بری نیت پر عمل نہیں کرسکے گی۔
یہ ترقی یافتہ فلاحی ریاست بننے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔

مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سیاسی جماعت کیسی ہونی چاہیے؟ مبشر زیدی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *