اسلامی قانون کی تعبیر نو : روایت اور جدیدیت کی بحث۔۔ محمد عمار خان ناصر

دور جدید میں اسلامی قانون کی تعبیر نو کی بحث ایک بے حد نازک بحث ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تعبیر نو کی ضرورت فکر ونظر کے دائرے میں سامنے آنے والے نئے زاویہ ہاے نگاہ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی قانون کے تناظر میں نئے زاویہ ہاے نگاہ پیش کیے جانے اور ان کی تہذیب و تنقیح کی ایک روایت تو داخلی سطح پر ہمیشہ سے موجود رہی ہے، تاہم گذشتہ دو صدیوں میں انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقا اور بالخصوص مغرب کے تہذیبی اثرات کے تحت جدید قانونی فکر نے بھی اسلامی قانون کی روایتی تعبیر کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں اور اپنے تئیں ان سوالات کے جوابات بھی متعین کیے ہیں۔ جدید مغربی فکر چونکہ اپنی اساس میں ایک غیر مذہبی فکر ہے اور اخلاقی وقانونی اقدار اور ترجیحات کے تعین میں مذہبی مآخذ کی فراہم کردہ رہنمائی کی پابندی کو قبول نہیں کرتی، اس لیے بدیہی طور پر اس کے زیر اثر متعین کیے جانے والے جوابات بھی مذہبی زاویۂ نگاہ سے کلیتاً قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ اس تناظر میں اسلامی قانون کی تعبیر نو کا دائرۂ کار اور بنیادی ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ جدید قانونی فکر کے اٹھائے ہوئے سوالات کو لے کر دین کے بنیادی مآخذ، یعنی قرآن وسنت کی طرف رجوع کرے اور اس بات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ قرآن وسنت کی ہدایات وتصریحات یا ان کی متعین کردہ ترجیحات کی روشنی میں ان کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا جانا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اسلامی قانون کی اطلاقی تعبیر کی جو روایت پہلے سے چلی آ رہی ہے، اس کا تنقیدی جائزہ لینا بھی تعبیر نو کے اس عمل کا ایک ناگزیر حصہ ہے، تاہم اس ساری بحث میں بنیادی مآخذ قرآن وسنت کو مانتے ہوئے تگ وتاز کا اصل ہدف قرآن وسنت کے منشا کو دیانت داری کے ساتھ سمجھنا ہوناچاہیے۔

گویا تعبیر نو کا سوال درحقیقت اسلامی قانون کو جدید مغربی فکر کے سانچے میں ڈھالنے کا نہیں، بلکہ جدید قانونی فکر کے اٹھائے ہوئے سوالات کو قرآن وسنت کے نصوص پر ازسرنو غور کرنے کے لیے ایک ذریعے اور حوالے کے طور پر استعمال کرنے کا سوال ہے اور ہمارے نزدیک اس عمل میں اہل سنت کے اصولی علمی مسلمات اور فقہی منہج اور مزاج کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں سب سے اہم اصول، جسے افسوس ہے کہ بعض معاصر علمی مکاتب فکر نظر انداز کر رہے ہیں، شرعی احکام کو اصولی حیثیت میں ابدی وآفاقی اور شرعی واخلاقی اقدار کے تعین کے لیے قرآن وسنت کے نصوص کو حتمی معیار تسلیم کرنا ہے۔ اسلامی قانون میں یقیناًثبات اور تغیر کے دونوں عنصر موجود ہیں، لیکن اس کے مستقل اور متغیر اجزا کے مابین فرق کرنے کا واحد معیار نصوص ہیں اور ان کا دامن تھامے رکھنا ہی دین کی مستقل اور ابدی قدروں کے تحفظ کی واحد ضمانت ہے۔ یہ درست ہے کہ انسانی ذہن جن بہت سے دیگر عوامل سے متاثر ہوتا ہے، قرآن وسنت پر غور کرتے ہوئے ان سے کلی طورپر مجرد نہیں ہو سکتا۔ یہ عوامل نصوص کے فہم پر بھی یقیناًاثرانداز ہوتے ہیں اور نتیجتاً مذہبی متن کے حقیقی مدعا تک رسائی میں اسے الجھنیں اور مشکلات بھی پیش آتی ہیں۔ یہ مشکلات ہمارے ہاں اصولی سطح پر اصول تفسیر اور اصول فقہ کے مباحث میں زیر بحث آئی ہیں اور نصوص کی تعبیر کے مختلف امکانات میں سے کسی ایک امکان کو راجح قرار دینے کے متنوع علمی اصولوں اور زاویہ ہاے نگاہ پر اس ذخیرے میں تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ اس پیرا ڈائم میں دو باتیں نمایاں ہیں: ایک یہ کہ اس میں نصوص کے وضوح اور عدم وضوح کی دو الگ الگ صورتوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور وضوح کے مختلف درجات ومراتب کی بنیاد پر نصوص سے کیے جانے والے استدلال کی قطعیت یا ظنیت کو طے اور اختلاف راے کی گنجایش کو متعین کرنے کا ایک واضح نظام موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں کوئی بھی موقف اختیار کرنے کے لیے حتمی اور آخری ماخذ خود نصوص کو مانا گیا ہے اور نصوص ہی کے داخلی قرائن وشواہد کی روشنی میں ہر ہر مسئلے میں کسی بھی تعبیری امکان یا رجحان کی تفہیم کی کوشش کی گئی ہے۔ چنانچہ اس طریقۂ تعبیر میں جزوی اختلافات کا دائرہ کتنا ہی وسیع ہو جائے، شریعت کی اساسی اقدار اور اس کے احکام کا بنیادی سانچہ محفوظ رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر نصوص کو معیار قرار دینے کے بجاے شرعی احکام وقوانین کا محل خود شریعت کے داخلی اصولوں سے ہٹ کر کسی خارجی نظام فکر کے اثرات کے تحت متعین کرنے یا اس کی اہمیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا نتیجہ شریعت کے پورے ڈھانچے کے منہدم ہو جانے کی صورت میں نکلے گا۔ اس وجہ سے ہم کسی تقلیدی ذہن کے تحت نہیں، بلکہ علیٰ وجہ البصیرۃ اہل سنت کے اساسی منہج اور علمی اصولوں کو درست سمجھتے اور اپنے فہم کی حد تک ان کی پابندی کو ضروری تصور کرتے ہیں۔

البتہ، ہمارے نزدیک اہل سنت کی علمی روایت اپنے ثوابت اور متغیرات، دونوں سے مل کر مکمل ہوتی ہے اور اختلاف، تنوع اور لچک بھی اس کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ نصوص اور انسانی فہم کے باہمی تعامل سے نصوص کی تعبیر وتاویل کے مختلف، بلکہ بعض اوقات مخالف امکانات کا پیدا ہوجانا ناگزیر ہے اور اہل علم اصل خدمت ہی یہ انجام دیتے ہیں کہ اپنے اپنے فہم واستعداد، فکری پس منظر اور درپیش عملی حالات کی روشنی میں قرائن وشواہد کی مدد سے انسانی ذہن کو ان امکانات کی طرف متوجہ کر دیں۔ عہد صحابہ سے لے کر آج تک امت مسلمہ کی ساری مستند علمی و فکری روایت اپنے تمام تر اختلاف اورتنوع کے ساتھ اسی بنیادی نکتے سے پھوٹی ہے۔ اس عمل کو کسی خاص زمانے تک محدود نہیں کیا جا سکتا اور نہ عملاً کبھی ایسا ہوا ہے کہ فکر ونظر کا کوئی نیا زاویہ دریافت کیا گیا ہو، اسے مضبوط استدلال کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہو اور علمی دنیا اس سے گریز کا تحمل کر سکی ہو۔

ہماری راے میں نصوص کی تعبیر وتشریح میں اختلاف اور تنوع کی گنجایش جس قدر اسلام کے صدر اول میں تھی، آج بھی ہے اور سابقہ ادوار میں مخصوص علمی تناظر میں مخصوص نتائج کو حاصل ہونے والا قبول ورواج اس گنجایش کو محدود کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس نکتے کا وزن اس تناظر میں مزید نمایاں ہو جاتا ہے کہ مدون علمی ذخیرہ گذشتہ چودہ سو سال میں ہر دور اور ہر علاقے کے اہل علم تو کیا، صدر اول کے علما وفقہا کے علمی رجحانات اور آرا کا بھی پوری طرح احاطہ نہیں کرتا۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ علم وفکر سے اشتغال رکھنے اور علمی مسائل پر غور کرنے والے اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جو نہ تو خود اپنے نتائج فکر کو تحریری صورت میں محفوظ کرنے کا اہتما م کرتی ہے اور نہ سب اہل علم کو ایسے تلامذہ ورفقا میسر آتے ہیں جو ان کے غور وفکر کے حاصلات کو آیندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا اہتمام کریں۔ چنانچہ صحابہ میں سے علم وتفقہ کے اعتبار سے خلفاے راشدین، سیدہ عائشہ، معاذ بن جبل، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود، سیدنا معاویہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم نہایت ممتاز ہیں اور یہ حضرات عملی مسائل کے حوالے سے راے دینے کے علاوہ قرآن مجید کو بھی خاص طور پر اپنے تفکر وتدبر کا موضوع بنائے رکھتے تھے، تاہم تفسیری ذخیرے میں ہمیں ابن عباس اور ابن مسعود کے علاوہ دیگر صحابہ کے اقوال وآرا کا ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔

صحابہ کے دور کے جوفتاویٰ اور واقعات ہم تک پہنچے ہیں، ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو اس وقت کے معروف علمی مراکز میں پیش آئے یا جن کی اطلاع مخصوص اسباب کے تحت وہاں تک پہنچ گئی اور آثار وروایات کی صورت میں ان کی حفاظت کا بندوبست ممکن ہو سکا۔ ان کے علاوہ مملکت کے دور دراز اطراف مثلاً یمن، بحرین اور مصر وغیرہ میں کیے جانے والے فیصلوں کی تدوین سرکاری سطح پر بھی نہیں کی گئی اور مکہ، مدینہ، کوفہ اور دمشق کی نمایاں تر علمی حیثیت کے تناظر میں اہل علم نجی طور پر بھی نسبتاً کم اہمیت کے حامل ان علاقوں کے علمی آثار کی حفاظت وتدوین کی طرف متوجہ نہ ہو سکے۔ بعد میں مستقل اور باقاعدہ فقہی مکاتب فکر وجودمیں آئے تو صحابہ وتابعین کی آرا و اجتہادات کا جو کچھ ذخیرہ محفوظ رہ گیا تھا، اس کو مزید چھلنی سے گزارا گیا۔ اس طرح مدون فقہی ذخیرہ سلف کے علم وتحقیق کو پوری طرح اپنے اندر سمونے اور اس کی وسعتوں اور تنوعات کی عکاسی کرنے کے بجاے عملاً ایک مخصوص دور کے ترجیح وانتخاب کانمایندہ بن کر رہ گیا ہے۔

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مذاہب اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کی نسبت سیدنا عمر کی فقہ کے ساتھ وہی ہے جو مجتہد منتسب کو مجتہد مطلق کے ساتھ ہوتی ہے اوریہ چاروں فقہی مذاہب درحقیقت سیدنا عمرہی کی آرا اور اجتہادات کی تفصیل پر مبنی ہیں۔ (ازالۃ الخفاء ۲/۸۵) شاہ صاحب کے اس تجزیے میں بڑا وزن ہے، تاہم یہ دیکھیے کہ خود سیدنا عمر کی بعض نہایت اہم آرا ان چاروں فقہی مذاہب میں کوئی جگہ نہیں پا سکیں۔ مثال کے طور پر سیدنا عمر بعض آثار کے مطابق غیرمسلم کو زکوٰۃ دینے کے جواز کے قائل تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۰۴۰۶۔ ابو یوسف، کتاب الخراج ۱۳۶) ان کے نزدیک مرتد ہونے والے شخص کو ہر حال میں قتل کر دینا ضروری نہیں تھا اور وہ اس کے لیے قید وغیرہ کی متبادل سزا کا امکان تسلیم کرتے تھے۔(مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۶۹۶۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم۱۶۶۶۵) ان کی رائے یہ تھی کہ اگر کسی یہودی یا نصرانی کی بیوی مسلمان ہو جائے اور خاوند اپنے مذہب پر قائم رہے تو دونوں میں تفریق ہرحال میں ضروری نہیں اور سابقہ نکاح کے برقرار رکھے جانے کی گنجایش موجود ہے۔ (مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۸۱، ۱۰۰۸۳) یہ اور ان کے علاوہ بہت سی آرا ایسی ہیں جنھیں مذاہب اربعہ میں کوئی نمایندگی میسر نہیں آسکی۔

اس ضمن میں ایک حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہماری عام علمی روایت میں اہل سنت کے دو جلیل القدر فقیہوں، امام جعفر صادق اور امام زید بن علی کی آرا واجتہادات کوجو باقاعدہ مدون صورت میں موجود ہیں اور ان کی نسبت سے دو مستقل فقہی مکتب فکر امت میں پائے جاتے ہیں، قریب قریب کلی طورپر نظر انداز کر دیا گیا ہے اوران سے استفادے کا دائرہ محض اس وجہ سے محدود ہو گیا ہے کہ ان ائمہ کی فقہوں کی پیروی اختیار کرنے والے مکاتب فکر بعض کلامی اور سیاسی نظریات کے حوالے سے اہل سنت کے عمومی رجحانات سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ امام ابو حنیفہ یا امام مالک کی آرا کو ابتدائی قبولیت اسی طرح کے کسی گروہ کے ہاں حاصل ہوئی ہوتی تو آج ان کی فقہی بصیرت سے روشنی حاصل کرنے کا دروازہ بھی ہمارے لیے بند ہوتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ائمۂ اہل بیت کے فقہی رجحانات کی نمایندگی جس خصوصیت کے ساتھ امام جعفر صادق اور امام زید بن علی کی فقہوں میں ہوئی ہے، عام فقہی مکاتب فکر میں، جن کے اخذ و استفادہ کادائرہ دوسرے فقہاے صحابہ وتابعین تک وسیع ہے، نہیں ہو سکی اور اس تناظر میں اس ذخیرے سے صرف نظر کرنے کا رویہ زیادہ ناقابل فہم اور ناقابل دفاع قرار پاتا ہے۔

سابقہ علمی روایت کے ظاہری نتائج اور حاصلات کو حتمی قرار دینے کا رویہ بالخصوص فقہ اور قانون کے میدان میں اس وجہ سے بھی قبول نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ذخیرہ اپنے ماخذ کے اعتبار سے فقہاے صحابہ وتابعین کی آرا اور فتاویٰ کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع سے عبارت ہے اور ظاہر ہے کہ ان آرا اور فتاویٰ کا ایک مخصوص عملی پس منظر تھا جس سے مجرد کر کے ان کی درست تفہیم ممکن نہیں، جبکہ صدر اول کے ان اہل علم کی آرا کے حوالے سے جو مواد جس صورت میں ہم تک نقل ہوا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا کہ صحابہ اور تابعین نے کون سی متعین راے کس استدلال کی بنیاد پر اختیار کی تھی، بالعموم ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بغیر یہ طے کرنا بھی ممکن نہیں کہ مختلف نصوص یا احکام کے حوالے سے ان کی جو آرا بیان ہوئی ہیں، وہ آیا درپیش عملی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ’اطلاقی تعبیر‘ کے طور پر پیش کی گئی تھیں یا ان میں اطلاقی صورت حال سے مجرد ہو کر نصوص کی کوئی ایسی تعبیر سامنے لانا پیش نظر تھا جو ان کی راے میں جملہ اطلاقی امکانات کو محیط تھی۔
یہی صورت حال مدون فقہی مکاتب فکر کی ہے۔ چنانچہ امام شافعی کے علاوہ، جن کی آرا بڑی حد تک خود ان کے اپنے بیان کردہ استدلال کے ساتھ میسر ہیں، باقی تینوں ائمہ کے طرز استدلال کے حوالے سے چند عمومی رجحانات کی نشان دہی کے علاوہ جزوی مسائل میں ان کی آرا کے ماخذ اور مقدمات استدلال کی تعیین کے ضمن میں تیقن سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مخصوص احکام کی تعبیر وتوجیہ اور ان کے ماخذ استدلال کے حوالے سے ان ائمہ کی راے اور منشا متعین کرنے کے باب میں ان مکاتب فکر میں اختلاف، تنوع اور وسعت کی ایک پوری دنیا آباد ہے، لیکن علما کے روایتی حلقے میں اس ساری صورت حال سے صرف نظر کرتے ہوئے مدون فقہی ذخیرے میں بیان ہونے والے ’نتائج‘ کو اجتہاد کے عمل میں اصل اور اساس کی حیثیت دے دی جاتی ہے، جبکہ ان نتائج کے پس منظر میں موجود استدلالی زاویۂ نگاہ کے مختلف امکانات ومضمرات اور ان عملی عوامل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو ان کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

اس ساری طول بیانی کا مقصد اس نکتے کو واضح کرنا ہے کہ مدون فقہی وتفسیری ذخیرہ ان آرا کی نمایندگی تو یقیناًکرتا ہے جنھیں ہماری علمی تاریخ کے ایک مخصوص دور میں امت کے نہایت جلیل القدر اہل علم نے اختیار کیا اور جنھیں مختلف سیاسی وسماجی عوامل کے تحت ایک عمومی شیوع حاصل ہو گیا، تاہم یہ ذخیرہ کسی طرح بھی قرآن وسنت کے نصوص کی تعبیر کے جملہ علمی امکانات کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس پس منظر میں ہم پوری دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح کے امکانات کو مدون ذخیرے کی تنگ نائے میں محدود کر دینا کسی طرح درست نہیں ہے اور قدیم وجدید زمانوں میں مختلف فکری وعملی اثرات کے تحت وجود میں آنے والی تعبیرات کی قدر وقیمت کو خود نصوص کی روشنی میں پرکھنا اور اس طرح قانون سازی کا ماخذ زمان ومکان میں محدود اطلاقی وعملی روایت کو نہیں، بلکہ براہ راست نصوص کو قرار دینا تجدید واجتہاد کا ایک لازمی تقاضا ہے۔

ہمارے نزدیک دور جدید میں اسلام کی علمی روایت کے احیا کے لیے قرآن وسنت پر براہ راست غور وتدبر کی ضرورت اور تفسیری، کلامی اور فقہی استنباطات وتعبیرات کا ازسر نو جائزہ لینے کے امکان کو تسلیم کرنا بنیادی شرط pre-requisite  کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ چیز بذات خود ہماری علمی روایت کا حصہ ہے، کیونکہ وہ کوئی جامد اور بے لچک روایت نہیں، بلکہ صدیوں کے علمی و فکری ارتقا کا نتیجہ اور توسع اور تنوع کا مظہر ہے۔ ہم اس علمی روایت کا اصل ترجمان ابن حزم، رازی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، انور شاہ کشمیری اور حمید الدین فراہی رحمہم اللہ جیسے اکابر کوسمجھتے ہیں جو اصولی علمی منہج کے دائرے میں رہتے ہوئے سابقہ آرا وتعبیرات پر سوالات واشکالات بھی اٹھاتے ہیں اور جہاں اطمینان نہ ہو، نصوص کے براہ راست مطالعہ کی بنیاد پر متبادل تعبیرات بھی پیش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم مخصوص نتائج فکر اور آرا وتعبیرات کو نہیں، بلکہ اس مزاج اور شرعی نصوص اور احکام کی تعبیر کے اس اصولی منہج کو معیار سمجھتے ہیں جو اہل سنت کے ان ائمہ اور اکابر نے اختیار کیا ہے۔ بعض مخصوص اور متعین تعبیرات کو معیار قرار دینا کسی فرقے یا گروہ کے امتیاز کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے، لیکن یہ طریقہ اہل سنت کی مجموعی علمی روایت کو اپنی گرفت میں لینے سے پہلے بھی ہمیشہ قاصر رہا ہے اور آیندہ بھی ہمیشہ قاصر ہی رہے گا۔

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *