تاریخ کا متبادل انجام۔۔مظفر عباس نقوی

سقراط زہر کا پیالہ پینے سے پہلےایک جتھے کے ہاتھوں سرقلم کروا چکا۔
قارون کا خزانہ منتقلی کے دوران ناقص سکیورٹی کے سبب گن پوائنٹ پر  چھین لیا گیا۔
بدھا کے مجسمے کی سچ بولتی آنکھیں نکال لی گئیں۔
کولمبس دریافت شدہ امریکہ کو چھوڑ کر آزادی سے سانس لینےکےلئے کسی پاک سرزمین کی طرف ہجرت کر گیا۔
اشوکا نامعلوم ٹارگٹ کلر زکے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
مونا لیزا کے ہونٹ مکمل ہونے سے پہلےلیونارڈو کے ہاتھ کاٹ دیے گئے۔

ہر اسلامی ملک میں انتشار، دہشت گردی اور قتل و غارت کے پیچھے یہودی سازش ثابت ہونے پر ہٹلر نے ہولوکاسٹ کا آغاز کر دیا۔
شہزادہ سلیم نے شک کی بنیاد پر انارکلی کا ناک اور کان کاٹ دیے۔
اورنگزیب نے ٹوپیاں سینے کے نقصان دہ کاروبار کی بجائے ایک امت کو ٹوپیاں پہنانے کا کاروبار سنبھال لیا۔

سسی، پنوں کاروکاری کے الزام میں پنچایت کے ہاتھوں جہنم واصل ہو چکے۔
اکبر نے اپنی سلطنت کو طول اور لوگوں کو قابو کرنے کے لئے نو رتنوں کو معزول اور نو مفتیوں کو اپنا مشیررکھ لیا۔
سرسید کے مغربی خیالات کی بدولت ہندوستان کے کچھ لونڈوں نے ان کی داڑھی کو غیر اسلامی اور غیر شرعی قرار دے دیا۔

نظم شکوہ لکھنے پر اقبال کے گھر کے باہرتین ہفتوں سے مختلف مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کا دھرنا اور پتھراؤ۔
محمد علی جناح کے بیان  ‘ سب اپنی عبادت گاہوں میں جا سکتے ہیں ،کے بیان کے بعد ان سے قائداعظم کا لقب واپس لےلیا گیا۔

صدام نے لاکھوں لوگوں کے قتل کے الزام کی بنیاد پر نیند کی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
ایدھی مسلسل حرامیوں کو پالنے کے سبب کسی حلال زادے کے ہاتھوں ٹھنڈا ہو چکا۔
ٹھنڈے گوشت پہ مقدمےکے سبب ملک بھر میں قصابوں کو سرعام گوشت بیچنے سے منع کر دیا گیا۔

بغاوت پھیلنے کے پیش نظر فیض احمد فیض کا’’ تجھے کتنوں کا لہو چاہییے اے ارض وطن ‘‘ پر  ملک بھر میں پابندی عائد کر دی گئی۔
ہر ڈکٹیٹر اور سرمایہ دار حکمرانوں کی طرف سے مسلسل ’’ایسے دستور کو میں نہیں مانتا ‘‘پڑھنے کے بعدحبیب جالب کا اپنی نظم سے اظہارِ لا تعلقی کا اعلان۔
اوریانیت پھیلنے کے ڈر کے سبب تمام تکہ بوٹی اور چرغہ فروشوں کو بغیر پروں ننگی مرغیاں لٹکانے پے جرمانہ عائد۔

لوگوں کے ہیش ٹیگ اور نفسیاتی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہو ئے پی ڈی ایس پانچویں جماعت کے نصاب میں شامل۔
فحاشی کو کم کرنے کے لئے میڈیا پر تمام فی میل سٹاف کو شٹل کاک برقعہ پہن کر خبریں پڑھنے کی ہدایت۔

منٹو نے آخر کار لوگوں کی منت سماجت پر  سماج کو چولی پہنا دی اور سماج وہ چولی خود ہی بھرے بازار اتار کر کوچہ کوچہ قریہ قریہ رقص کرنے لگا۔
بے تحاشہ کچا حلوہ کھانے کے سبب ایک اجتماع میں نام نہاد لبرل بیہوش ہونے پے ہسپتال منتقل۔
سرزمین پاک پر  برداشت اورعدم تشدد کے فلسفے کو مدنظر رکھتے ہو ئے تمام جھوٹ بولتے لوگ اٹھا لئے گئے۔

مظفر عباس نقوی
مظفر عباس نقوی
سیاست ادب مزاح آذادمنش زبان دراز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *