آج کل رویت علمی اور رویت بصری کے بارے میں بحث چل رہی ہے اور اس بارے میں اپنے اپنے دلائل دیے جا رہے ہیں۔ رویت علمی اور رویت بصری کی اس بحث میں پڑنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کی رویت کا مسئلہ کیا ہے اور یہ کیوں پیدا ہوا۔۔؟اصل میں روئیت کا مسئلہ بالکل سیدھا ہے یعنی اگر روئیت کو مرکزیت سے الگ کر کے دیکھا جائے تو روئیت کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ سارا ابہام روئیت کو مرکزیت کی طرف لے جانے سے پیدا ہوا ہے ۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے آج سے چودہ سو سال پہلے کے زمانے کا تصور کریں جب اکثریت کےپاس ابتدائی رسمی تعلیم بھی نہیں تھی۔ وہ کسی مکتب، سکول، مدرسہ میں نہیں گئے تھے ۔چونکہ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لہذا ان کے پاس کوئی اور علم جیسے علم فلکیات، علم ہئیت، علم حساب، ذرائع مشاہدہ، سائنسی طریقے نہیں تھے یا اگر تھے تو وہ محدود پیمانے پر تھے ۔ لہذا چاند کے ہونے یا نہ ہونے، روزے رکھنے اور عید کرنے کے لئے چاند کی خبر کا کوئی اور ذریعہ سوائے اس کے کوئی اور نہیں تھا کہ شہادت ملے اور آنکھوں سے دیکھ کر رؤیت یا عدم رؤیت کا اعلان کیا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سوسائٹی کے حوالے سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایانَحْنُ اُمَّةٌ اُمِّیَ لَا نَکْتُبُ وَلَا نَحْسِبُ (ہم ان پڑھ قوم ہیں جو لکھنا اور حساب کتاب کرنا نہیں جانتے)۔اس کے علاوہ اس زمانے میں ابلاغ کے جدید وسائل ناپید تھے اور پیغام رسانی کا ذریعہ گھوڑے یا اونٹ تھے۔ ان دنوں میں مکہ اور مدینہ کے درمیان اونٹوں یا تیز رفتار گھوڑوں پر بھی سفر کم از کم تین یا چار دنوں میں ہو تا تھا ۔اب اگر مکہ میں مطلع صاف ہے اور مکہ والوں نے چاند دیکھ لیا ہے اور مدینہ میں مطلع ابر آلود ہے اور وہاں چاند دیکھنا ناممکن ہے تو جب تک مکہ کی خبر مدینہ پہنچے گی تو مکہ میں عید کا اختتام ہوچکا ہوگا۔
عید میلاد االنبی کی تاریخ کے حوالے سے امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی کی تحقیق سے اس مسئلے پر بخونی روشنی پڑتی ہے یعنی جیسا کہ عید میلاد االنبی۱۲ یا۱۳ ربیع الاول کوہونے کے بارے میں ابہام موجود ہے۔ اس کے مطابق حضورپُرنورصلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات 13ربیع الاول ہے اور جمہور کے قول 12 ربیع الاول کی۔ وہ اس کی 13 ربیع الاول کے ساتھ یوں تطبیق فرماتے ہیں ….. اور تحقیق یہ ہے کہ حقیقتاً بحسب رؤیتِ مکۂ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرھویں تھی۔ مدینۂ طیبہ میں رؤیت نہ ہوئی (یعنی چاند نظر نہیں آیا) لہٰذا اُن کے حساب سے بارہویں ٹھہری وہی رُواۃ (یعنی روایت کرنے والوں) نے اپنے حساب کی بناہ پر روایت کی اور مشہور و مقبول جمہور ہوئی یہ حاصل تحقیق امام بارزی و امام عماد الدین بن کثیر اور امام بدر الدین بن جماعہ و غیرھم محدثین و محققین ہے۔” (فتاوٰی رضویہ، جلد 26، صفحہ 417)۔)
اب سوال یہ تھا کہ اس مسئلے کا کیا حل کریں۔ اس حوالے سے اس کا سیدھا سیدھا حل یہ تھا کہ مکہ والے اپنا چاند دیکھ کر عید کریں ، مدینہ والے اپنا اور طائف والے اپنا اور اسی طرح علی ہٰذالقیاس تمام مسلمان اپنی اپنی جگہ چاند دیکھ کر عید کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے۔۔ْ[ صُوْمُوْا لِرُوْيَتِه وَاَفْطِرُوْا لِرُوْيَتِه فَاِنَّ غمَّ عَلَيْکُمْ فعدة ثلاثين۔ ] (چاند کی رؤیت کی بنیاد پر روزہ رکھو اور چاند کی رؤیت کی بنیاد پر افطار کرو اور جب چاند پوشیدہ ہوجائے تو مہینے کے 30 دن پورے کرلو۔‘‘) (جامع ترمذی).. یہ حدیث، دیگر کتب حدیث میں بھی الفاظ کے تھوڑے بہت فرق سے روایت ہوئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں صُوْمُوْا لِروْيَتِه وَاَفْطِرُوْا لِرُوْيَتِه فَاِنَّ غمَّ عَلَيْکُمْ فَاَکْمِلُوْا الْعِدَّةِ چاند کی رؤیت کی بنیاد پر روزہ رکھو اور چاند کی رؤیت کی بنیاد پر افطار کرو اور جب چاند پوشیدہ ہوجائے تو اپنی گنتی پوری کرلو۔
ان احادیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ روزہ رکھنا اور افطار کرنا رؤیت کے ساتھ خاص ہیں۔ رؤیت سے مراد جیسے کہ اس زمانے میں ہوتا تھا رویت بصری ہے یعنی آنکھ سے دیکھنا۔ اسی بنیاد پر ہمارے ہاں چاند آنکھ سے دیکھنا، شرعی شہادتیں لینا اور پھر ان شہادتوں کی بنیاد پر رویت یا عدم رویت کا اعلان کرنے کا معمول ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد مبارکہ سے کہ’’ قوم حساب کتاب کرنا نہیں جانتی تھی۔‘‘ میں موجودہ علت کی وجہ سے اس وقت اس ذریعہ یعنی آنکھوں سے دیکھ کر چاند پر اعتماد کیا جاتا تھا۔ اب یہ حساب کہ 30 سے آگے اسلامی مہینہ نہیں جائے گا، اصل میں علم الہیت اور علم الحساب تھا جو پرانے وقتوں سے دستیاب سائنسی علم انسانیت کے پاس ، جو چلا آرہا تھا کہ 30 سے زیادہ کا مہینہ نہیں ہوتا، اس بنیاد پر فرمایا کہ 30 دن پورے کرلو۔
اب علم الحساب اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ آپ آنے والے 100 سال میں چاند کی پیدائش۔۔۔ اس کی منازل۔۔۔ سورج کے ساتھ چاند کا زاویہ۔۔۔ کتنا فاصلہ طے کر چکا۔۔۔ اس کی عمر کب کتنی ہوگی۔۔۔ غروب شمس اور غروب قمر میں کتنا فرق ہوگا۔۔۔ ان تمام چیزوں کے متعلق واضح بتا سکتے ہیں۔ ان چیزوں کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کی ترقی کی وجہ سے یہ ممکن ہے پورے سعودیہ بلکہ پوری دنیا میں کہیں بھی چاند نظر آئے اس کی اطلاع سیکنڈوں میں ایک مرکز میں پہنچ جاتی ہے۔ یوں پورے ملک کے مسلمانوں کو ایک مرکز کے طرف لاتے ہوئے ایک ملک میں ایک عیدکا ہونا ممکن ہوا۔
اس مرکزیت کی جمع اور تقسیم کی مثال ہمارا اپنا ملک پاکستان ہے ۔۔ جہاں اختلاف کی موجودگی کے باوجود تقسیم برصغیر سے پہلے، چاند دیکھنے کے لئے ایک ہی مرکزی کمیٹی ہوا کرتی تھی تھی۔۔۔ پھر پاکستان بننے کے بعد دو۔۔۔۔ اور اب بنگلہ دیش بننے کے بعد تین تین مرکزی کمیٹیاں ہو گئی ہیں۔ مجھے اچھے طرح یاد ہے کہ ایوب خان کا دور تھا اور ہم لوگ تراویح پڑھ کے روزہ رکھنے کی نیت سے سوئے تھے کیونکہ مغربی پاکستان میں چاند نظر نہیں آیا تھا مگر سحری کے وقت مساجد سے اعلان ہو رہا تھا کہ چٹاگانگ کی پہاڑیوں میں چاند نظر آگیا ہے اور آج عید ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم چٹاگانگ کی پہاڑیوں میں چاند دیکھ کر عید کر سکتے ہیں تو پھر پوپلزئی صاحب کے چاند (بشرطیکہ وہ صحیح ہو۔) کے حساب سے عید کیوں نہیں کرسکتے۔ اس طرح عید کرنا دراصل مرکزیت کی طرف ایک قدم ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بنائے گئے نظام کائنات کی خوبی بھی یہی ہے کہ اِس میں موجود سارے سیارے اپنے اپنے مدار میں اپنی ایک متعین کردہ رفتار سے ہمیشہ گھومتے رہتے ہیں۔ یہ کبھی آگے پیچھے نہیں ہوتے ۔اگر ایسا ہو تو سارا نظام ہی تتر بتر ہو جائے۔لہذا اِن کی معلومات کی روشنی میں علما اور سائنسدانوں کی مدد سے ایک ایسا اسلامک یا سائنٹفک نقشہ وضع کیا جا سکتا ہے جس پر سب اعتماد کریں ۔
اگرچہ سائنسی رویت کے خلاف بات کرنے والوں کے پاس بھی اپنے مضبوط دلائل موجود ہیں لیکن ان پر بات کرنے سے یہ مضمون لمبا ہو جائے گا۔تاہم اس سائنسی علم کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک تجویز پیش کی جاسکتی ہے کہ اگر روئیت بصری ضروری ہے تو اس سلسلے میں اجتہاد کرتے ہوئے روئیت علمی سے مدد لی جائے۔ یعنی اگر مسلمانوں کو مرکزیت کے طرف لانا ہے تو تمام علما بیٹھ کر روئیت علمی کی مدد سے یہ طے کریں کہ اگر فلاں جگہ (مثلاً مکہ میں۔۔۔) چاند نظر آگیا تو فلاں فلاں ممالک میں روزہ یا عید ہو گی اور اگلے دن فلاں فلاں مملک میں(کیونکہ چاند کی روئیت میں ایک دن سے زیادہ کا فرق نہیں ہو سکتا ۔) اس طریقے میں نہ صرف روئیت بصری اور روئیت علمی بھی ہو جائے گی بلکہ مسلمانوں کی مرکزیت کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا ۔اس کے علاوہ مسلمانوں کو جو ہر سال دو یا تین عیدوں کی شکل میں جو شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے اس سے بھی بچت ہو جائے گی۔

اگر ایسا نہیں کرنا تو پھر اس کا ایک آسان سا حل ہے جس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔یعنی اس مسئلے کو الٹ دیں اور فرض کر لیں کہ دنیا میں ابلاغ کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔۔۔ اور چونکہ روئیت بصری ضروری ہے۔۔۔اس لئے جیسا اسلام کے ابتدائی زمانے میں ہوتا تھا کہ ہر علاقے (ملک نہیں!) کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں اور اپنا اپنا روزہ رکھیں یا عید کریں۔ کیا کہتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلے کے ۔۔کون کون واپس لوٹنا چاہے گا ؟؟؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں