محبت زندہ باد /علی عباس کاظمی

فروری کی سرد شامیں آتے ہی فضا میں ایک ان کہی سی سرخی گھلنے لگتی ہے۔ کہیں دکانوں پر سجے گلاب مسکراتے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں زبانوں پر سوالات کے کانٹے اگ آتے ہیں۔ پاکستان میں ویلنٹائن ڈے محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے۔۔۔ جس میں ہم اپنا سماجی چہرہ دیکھتے ہیں۔ اس آئینے میں کچھ چہرے مسکراتے ہیں، کچھ تیور چڑھاتے ہیں اور کچھ نظریں چرا لیتے ہیں۔ محبت جیسے لطیف جذبے کو ایک دن میں قید کرنے کی کوشش ہو یا اس دن کو مکمل طور پر رد کرنے کی ضد۔۔۔ دونوں صورتیں ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ آخر ہم کس موڑ پر کھڑے ہیں۔

محبت انسان کی فطرت میں شامل وہ جذبہ ہے جو موسم، مذہب اور سرحدوں کا محتاج نہیں۔ یہ وہ تپش ہے جو کبھی نگاہوں کی چمک بن جاتی ہے اور کبھی خاموش لمحوں میں اپنا وجود منواتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے جب بھی محبت کو دبانے کی کوشش کی، اس نے کسی نہ کسی صورت میں اپنا راستہ بنا لیا۔ ویلنٹائن ڈے بھی اسی انسانی خواہش کا ایک اظہار ہے جو مغرب سے چل کر مشرقی گلیوں تک آن پہنچا۔فرق صرف یہ رہ جاتا ہے کہ یہاں آ کر اس پر سوال اٹھتے ہیں۔

پاکستانی معاشرہ جذبات کا نہیں۔۔۔جذبات کے اظہار کا محتاط معاشرہ ہے۔ یہاں محبت کی بات شاعری میں ہو تو واہ واہ، کہانیوں میں ہو تو امر، مگر روزمرہ زندگی میں آ جائے تو آنکھوں میں کھٹکنے لگتی ہے۔ ہم نے ہیر کے درد کو سراہا، سسی کی تڑپ کو گایا، سوہنی کی بغاوت کو امر کیا۔۔۔ مگر اپنے گرد بسنے والے دلوں کے لیے اکثر خاموشی کو بہتر سمجھا۔ ویلنٹائن ڈے اسی خاموشی کو چھیڑتا ہے اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی “خطا” بن جاتی ہے۔

جب یہ دن پاکستان میں آیا تو اس کے ساتھ گلاب، کارڈز اور چاکلیٹس ہی نہیں آئے بلکہ ایک نئی بحث بھی ساتھ لے آیا۔ نوجوان نسل نے اسے خوشی، اظہار اور رنگین لمحوں کا دن سمجھا جبکہ بڑی نسل نے اسے ثقافتی یلغار کا نام دیا۔ کہیں یہ دن محبت کا تہوار کہلایا، کہیں بے حیائی کی علامت ٹھہرا۔ یوں ایک ہی دن نے دو انتہاؤں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا اور بیچ میں رہ گئی وہ خاموش اکثریت جو صرف جینا چاہتی ہے۔۔۔کسی لیبل کے بغیر۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان ایک اسلامی معاشرہ ہے جہاں مذہب زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہاں حیا، وقار اور خاندانی نظام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی احساس کے تحت ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ خدشہ یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ دن مغربی طرزِ زندگی کو فروغ دیتا ہے جہاں تعلقات کی بنیاد وقتی جذبات پر ہوتی ہے۔ یہ خوف بے بنیاد بھی نہیں کیونکہ ہر معاشرہ اپنی اقدار کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔

کیا محبت کا اظہار خود کوئی گناہ ہے؟ کیا احساسات کو چھپانا ہی اخلاق کی معراج ہے؟ اسلام نے محبت کو کبھی رد نہیں کیابلکہ اسے پاکیزگی کے دائرے میں رہنے کی تلقین کی ہے۔ ماں باپ کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، میاں بیوی کے رشتے کو سکون قرار دیا گیا، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کو عبادت کہا گیا۔ یہ سب محبت ہی کی شکلیں ہیں۔ اگر ویلنٹائن ڈے کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو شاید اس کی شدت کچھ کم ہو جائے۔

اصل مسئلہ دن کا نہیں۔۔۔ انداز کا ہے۔ محبت اگر صرف دکھانے کی چیز بن جائے تو خالی ہو جاتی ہے، اور اگر زبردستی چھپا دی جائے تو بھاری محسوس ہوتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے ساتھ بھی یہی رویہ نظر آتا ہے جب توجہ احساس کے بجائے صرف تحفوں پر ہو تو یہ دن خالی سا محسوس ہونے لگتا ہے اوراسے مکمل طور پر غلط کہہ دینے سے بات سمجھنے کا موقع ختم ہو جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان معاشرے کا ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے جذبات کو اسٹیٹس اور اسٹوریز میں بدل دیا ہے۔ نوجوان نسل سوال کرتی ہے، بحث کرتی ہے اور اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ اسے صرف پابندیوں کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بات کی جائے، سمجھایا جائے، سنا جائے۔ اگر ہم نوجوانوں کو صرف یہ بتاتے رہیں کہ کیا غلط ہے، مگر یہ نہ بتائیں کہ صحیح کیا ہے تو خلا خود بخود غلط راستوں سے بھر جائے گا۔

ہماری ثقافت میں بدلاؤ کی گنجائش ہمیشہ رہی ہے یہ ایک دریا کی مانند ہے جو مختلف تہذیبوں سے گزرتا ہوا اپنی صورت بدلتا رہتا ہے۔ ہم نے بہت کچھ باہر سے لیا ہے اور اپنے رنگ میں رنگا ہے۔ لباس بدلا، زبان بدلی، رہن سہن بدلا۔۔۔ مگر بنیادیں اب بھی قائم ہیں۔ جب اس دن کو فہم و توازن کے ساتھ اپنی تہذیب میں شامل کیا جائے تو یہ ہنگامہ نہیں بنتا۔

محبت صرف محبوب کے نام گلاب دینے کا نام نہیں۔۔۔ یہ بیمار ماں کے لیے دوائی لانے میں بھی ہے، باپ کی تھکی ہوئی آنکھوں کو پڑھنے میں بھی اور کسی اجنبی کے دکھ پر دل بھر آنے میں بھی۔ اگر ویلنٹائن ڈے ہمیں یہ یاد دہانی کرا دے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے نرم ہو جائیں تو شاید اس سے بڑا فائدہ کوئی نہیں۔ لیکن اگر یہ دن دوسروں کے عقائد کو روندنے کا ذریعہ بنے تو پھر اس پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

یہ دن ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔ کیا ہم محبت سے ڈرتے ہیں یا اس کے غلط استعمال سے؟ کیا ہمیں ثقافت بچانی ہے یا اپنی انا؟ کیا ہم اختلاف کو برداشت کر سکتے ہیں یا صرف شور مچانا جانتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب کسی عدالت، کسی حکم یا کسی نعرے میں نہیں بلکہ اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہیں۔

julia rana solicitors

محبت کو نہ کیلنڈر کی قید چاہیے۔۔۔نہ پابندیوں کی زنجیر۔ یہ وہ خوشبو ہے جو اگر دل میں ہو تو خود راستہ بنا لیتی ہے۔ شاید دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم محبت کو سمجھیں، اسے سنواریں اور اتنا وسیع کر دیں کہ اس میں اختلاف رکھنے والوں کے لیے بھی جگہ نکل آئے۔ کیونکہ جو معاشرہ محبت کے کئی رنگ برداشت کر لے۔۔۔وہی اصل میں زندہ رہتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply