اگر ہو ہر میر کارواں ایسا/شہزاد ملک

نظم و ضبط کے بغیر کوئی چھوٹے سے چھوٹا ادارہ بھی درست کام نہیں کرسکتا۔ قائد اعظم کے اس دوسرے اصول کی بے حد قائل ہمارے کالج کی پرنسپل مس وحیدہ کچلو نے اپنے آنے کے ابتدائی چند دنوں میں ہی اندازہ کرلیا کہ اس ادارے میں نظم و ضبط نامی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اپنے پہلے تعارف میں انہوں نے اپنے منشور کی اس شق کا اجمالی ذکر تو کر دیا تھا مگر اب اس پر تفصیلی عمل بھی شروع ہوگیا۔ کالج کے سامنے سڑک کے پار پرنسپل کے لئے بنائی گئی رہائش گاہ سے پونے آٹھ بجے مس کچلو برآمد ہوتیں اور نہایت وقار سے چلتی ہوئی کالج کے گیٹ میں داخل ہو کر ادھر ہی کھڑی ہو جاتیں اور آٹھ بجے کے بعد آنے والی طالبات کو انتظامیہ کے گیٹ پر اپنے دیر سے آنے کی وجہ ایک رجسٹر میں لکھ کر اور اس پر اپنے دستخط کرنے کے بعد اندر داخل ہونے کی اجازت ملتی۔ ایک سے ذیادہ بار ایسا کرنے پر لڑکی کے گھر سے کسی کو بلا کر بتایا جاتا کہ آپ کی لڑکی لیٹ آتی ہے آپ اسے وقت کی پابندی سکھائیں۔
ان دنوں لباس میں ٹیڈی فیشن چل رہا تھا کچھ لڑکیوں نے یونیفارم بھی اسی فیشن کے مطابق سلوا لئے۔ قمیضوں کے چاک بہت چھوٹے اور شلواروں کے پائینچے اتنے تنگ کہ بٹنوں کے بغیر پہنے نہ جا سکیں جب کہ مس کچلو کا فرمان تھا کہ کپڑوں کا سائز درمیانہ ہو نہ اتنے کھلے کہ نوجوان لڑکیاں جھلی لگیں نہ اتنے تنگ کہ اعضائے بدن ان میں پورے آنے سے انکار کرتے نظر آئیں۔ شلواریں بٹنوں کی محتاج نہ ہوں۔

سدا کی خود سر کچھ لڑکیاں پرنسپل کی ہدایات کو خاطر میں نہ لائیں اور یونیفارم کی سلائی میں من مانی کے علاوہ چوڑیاں انگوٹھیاں اور بڑے بڑے بندے پہننے سے بھی باز نہ آئیں۔ علاج تو ان کی خودسری کا مس کچلو نے خوب کیا جو لڑکی اس لباس کے ساتھ گیٹ کے اندر داخل ہوتی نظر آتی اسے ایک طرف کھڑا کرتی جاتیں اور وقت ختم ہونے کے بعد اپنے آفس میں لے جا کر قمیض کے چاک اور شلوار کے پائینچے اوپر تک ادھیڑ دئیے جاتے۔ زیور اتروا کر اپنے پاس رکھ لیتیں اور حکم ہوتا کہ سارا دن اسی حلیے میں کلاسوں میں جائیں اور گھر بھی ایسے ہی جائیں تاکہ گھر والوں کے نوٹس میں بھی آئے کہ صاحبزادیاں کالج کے اصولوں کی پرواہ نہیں کرتیں اور زیورات لڑکی کے گھر سے کسی کو بلا کر ان کے حوالے کئے جاتے۔

ایسی سزا کی نوبت بس ایک ہی دفعہ آتی دوبارہ کسی کو حکم عدولی کی ہمت نہ ہوتی۔ مس کچلو کو جب بھی تھوڑی فرصت ہوتی تو وہ کالج کے راؤنڈ پر نکلتیں۔ کالج کی عمارت کے علاوہ پچھلی وسیع و عریض گراؤنڈ کا کوئی کونہ کھدرا ان کی نظروں سے اوجھل نہیں تھا اور چاروں کلاسوں کے تمام سیکشنوں کا ٹائم ٹیبل انہیں ازبر ہوچکا تھا۔ انگلش اور اردو کے لازمی مضامین کے پیریڈ ہر کلاس کے تمام سیکشنوں کے ایک ہی وقت میں ہوتے۔ کئی لڑکیاں اس پیریڈ میں کلاس میں جانے کی بجائے پچھلی گراؤنڈ میں درختوں کے نیچے بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف ہوتیں۔

مس کچلو اپنے آفس کے پچھلی طرف کھلنے والے دروازے میں کھڑی ہوکر نظر دوڑاتیں دوپٹّے کے مخصوص رنگ کی وجہ سے انہیں دور سے پتہ چل جاتا کہ گراؤنڈ میں گلابی دوپٹّے ذیادہ ہیں تو یہ سیکنڈ ائر کے کسی سیکشن کا فری پیریڈ ہے۔ تھرڈ ائر کا اس وقت انگلش کا پیریڈ ہے تو یہ پیلے دوپٹّے والی لڑکیاں باہر کیوں ہیں وہ اچانک ان کے سر پر پہنچ کر ان کی پرسش کرتیں کہ وہ کلاس سے کیوں باہر ہیں گھر سے پڑھنے آتی ہیں یا آپس میں گپیں لگانے۔

اسی طرح وہ مختلف اوقات میں راؤنڈ کے دوران دوپٹوں کے رنگوں کی مدد سے کلاس سے باہر رہنے والی لڑکیوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا کرتیں۔ تب ہمیں چاروں کلاسوں کے دوپٹوں کے الگ الگ رنگوں کی مصلحت سمجھ میں آئی اور ہم مس کچلو کی دانش کے اور بھی قائل ہوگئے۔ گیٹ کے اندر گزرنے والے راستے کے دونوں طرف لان تھے جہاں فری پیریڈ میں لڑکیاں بے فکری سے بیٹھی رہتیں اس وجہ سے وہاں گھاس اور پھولوں کی کیاریاں اجڑی ہوئی لگتی تھیں۔ پرنسپل کے حکم سے ادھر بیٹھنا منع کردیا گیا فری پیریڈ میں پچھلی گراؤنڈ میں وقت گذار لیں درختوں کی چھاؤں میں یا سردیوں کی سنہری دھوپ میں۔

ہر جمعہ کو صبح اسمبلی میں ایک ولولہ انگیز لیکچر ہم سب کے دلوں کو گرماتا اور ہم ملک کے اچھے شہری بننے کا عہد کرتے۔

کالج کے ملازمین مالیوں اور چپراسیوں کو خاکی لباس پر جناح کیپ پہننی لازم کردی گئی۔ کلرک بھی پرنسپل کے دفتر میں جناح کیپ کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ کالج کی کچھ اساتذہ لاہور سے ٹرین کے ذریعے گوجرانوالہ جایا کرتی تھیں ان کی سہولت کے لئے ان کا ٹائم ٹیبل اسی لحاظ سے بنایا گیا تھا۔ اسی طرح کالج کا پورے سال کا ٹائم ٹیبل بنا لیا جاتا۔ شدید گرمیوں کے پورے موسم میں پڑھائی کے علاوہ اور کچھ نہ ہوتا۔

گرمی کی چھٹیوں کے بعد سال اوّل میں نئی آنے والی طالبات کے لئے سیکنڈ ائر کی طرف سے ویلکم پارٹی ہوتی جس میں فرسٹ ائر اور سیکنڈ ائر کی طالبات اساتذہ پرنسپل اور کالج یونین کی طالبات شامل ہوتیں۔ اکتوبر کے مہینے میں کالج میں سالانہ مینا بازار منعقد ہوتا۔ ٹکٹ خرید کر شہر کی خواتین بھی آ سکتی تھیں۔ ڈرامیٹک سوسائٹی کی طرف سے سالانہ ڈرامہ پیش کیا جاتا جس میں پہلے دو دن کالج کی طالبات کے ہوتے اور اگلے دو دن شہر کی خواتین کے ہوتے۔ ٹکٹ کی رقم نہایت معقول ہوتی اور اس سے اکٹھا ہونے والی رقم کالج کی ہی بھلائی پر خرچ ہوتی۔

نومبر کا پورا مہینہ ادبی سرگرمیوں کا مہینہ ہوتا اردو انگلش کی سوسائیٹیوں کے زیر اہتمام تقریری مقابلوں کے لئے لڑکیاں دوسرے شہروں میں جارہی ہوتیں یا دوسرے کالجوں کو اپنے کالج بلا رہی ہوتیں۔ طالبات کے درمیان سالانہ مشاعرہ منعقد ہوتا دوسرے شہروں سے بھی طالبات شریک ہوتیں۔ اسلامک سوسائٹی بھی اسلامی مذاکرے کا اپنے ہاں اہتمام کرتی دسمبر کے پہلے دو ہفتوں تک خوب گہما گہمی رہتی دسمبر کے درمیان سے جنوری کے شروع تک چھٹیاں ہوتیں پھر پڑھائی اور مارچ میں فرسٹ ائر اور تھرڈ ائر کے امتحانات ہوتے پھر سیکنڈ ائر اور فورتھ ائر کی الوداعی پارٹیاں ہوتیں اور یوں کالج کا پورے سال کا کیلنڈر اختتام پذیر ہوتا۔

چار سال کب بیت گئے کچھ پتا ہی نہیں چلا لیکن طالب علمی کا یہ چار سالہ سنہری دور میری زندگی کا حاصل ہے جو مس وحیدہ کچلو کی ولولہ انگیز قیادت میں گزرا۔ ہمیں یہ سبق ملا کہ قیادت میں خلوص نیت محنت کا جذبہ اور مقصد سے لگن ہو تو اور وہ اپنے ساتھ کام کرنے کے لئے ایک بہترین صلاحیتوں والی ٹیم منتخب کرکے کام کرے تو بہت بگڑے ہوئے حالات بھی سدھر سکتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply