بٹر فلائی افیکٹ کے موجد ایڈورڈ لورینز (Edward Lorenz) نے 1960ء کی دہائی میں دنیا کو ایک حیران کن سچائی سے روشناس کرایا۔ اس نے ریاضی اور موسمیات کے ذریعے ثابت کیا کہ کائنات کا نظام ایک نازک ڈور سے بندھا ہے، جہاں برازیل میں تتلی کا پر پھڑپھڑانا ٹیکساس میں طوفان کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ تھیوری ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی بھی چھوٹی حرکت بے مقصد نہیں ہوتی، بلکہ وہ وقت کے ساتھ ایک عظیم الشان نتیجے کی بنیاد بنتی ہے۔
اس تھیوری کو ہم تین سادہ مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ پہلی مثال خود لورینز کا تجربہ ہے جہاں ایک معمولی اعشاریہ کی تبدیلی نے کمپیوٹر پر پورے ملک کا موسم بدل دیا۔ دوسری مثال تاریخ کی ہے جہاں ایک سپاہی کا ہٹلر کو گولی نہ مارنے کا چھوٹا سا فیصلہ دوسری جنگِ عظیم اور کروڑوں اموات کا سبب بنا۔ تیسری مثال ہماری روزمرہ زندگی کی ہے جہاں گھر سے نکلتے وقت محض دو منٹ کی تاخیر ہمیں کسی بڑے حادثے سے بچا لیتی ہے یا کسی ایسی ملاقات کا سبب بنتی ہے جو ہماری تقدیر بدل دیتی ہے۔
اب ذرا اس سائنسی حقیقت کو کعبہ کے گرد ہونے والے طواف پر رکھ کر دیکھیں۔ خانہ کعبہ زمین کا وہ مقام ہے جہاں لاکھوں انسان ہزاروں سال سے ہر لمحہ اینٹی کلاک وائز (Anticlockwise) گردش کر رہے ہیں۔ سائنس بتاتی ہے کہ ایٹم کے باریک ذرات سے لے کر کہکشاؤں کے ستاروں تک، کائنات کی ہر بڑی چیز اسی سمت میں گھوم رہی ہے۔ جب انسانوں کا یہ سمندر زمین کی اپنی گردش کی سمت میں مسلسل حرکت کرتا ہے، تو یہ زمین کی زندگی اور بقا کے لیے ایک “قدرتی توازن” پیدا کرتا ہے۔
سائنسی اعتبار سے مکہ مکرمہ کی مرکزیت کی سند “گولڈن ریشو” (Golden Ratio – 1.618) سے ملتی ہے۔ اگر آپ زمین کے شمالی اور جنوبی قطب کے درمیان توازن کا بالکل درمیانی نقطہ تلاش کریں، تو وہ عین مکہ مکرمہ نکلتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جسے “زیرو میگنیٹک زون” کہا جاتا ہے، جہاں زمین کی مقناطیسی طاقت کا توازن مثالی ہے۔ یہاں کا مقناطیسی میدان بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر ایک ایسی مثبت توانائی پیدا کرتا ہے جو بٹر فلائی افیکٹ کے تحت پوری زمین کی توانائی کو برابر رکھتی ہے اور اسے بکھرنے سے بچاتی ہے۔
جدید دور میں “Did Muhammad Exist?” کے مصنف رابرٹ سپینسر جیسے لوگ جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل کعبہ مکہ میں نہیں بلکہ پیٹرا (Petra) میں تھا، تو وہ اس تمام سائنسی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پیٹرا موجودہ اردن میں چٹانوں کو کاٹ کر بنایا گیا ایک قدیم شہر ہے، جو اپنی بہترین انجینئرنگ، مصنوعی نہروں اور زراعت کی وجہ سے نبطی قوم کا مرکز رہا۔ لیکن جب ہم اسے سائنسی ترازو میں تولتے ہیں، تو پیٹرا جغرافیائی طور پر نہ تو زمین کے خشکی کے حصوں کا مرکز ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی وہاں “گولڈن ریشو” کا وہ توازن موجود ہے جو مکہ کو کائناتی محور بناتا ہے۔
بٹر فلائی افیکٹ کے مطابق، کائنیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے توانائی کا اخراج ٹھیک مرکز (Pivot) سے ہونا چاہیے۔ پیٹرا کی پوزیشن مکہ کے مقابلے میں “آف سینٹر” ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں کی گردش زمین کے مقناطیسی میدان کو وہ استحکام فراہم نہیں کر سکتی جو مکہ کر رہا ہے۔ تاریخی طور پر بھی یہ دعویٰ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تقریباً 4 ہزار سال پہلے مکہ کو “وادِ غیر ذی زرع” (بنجر وادی) قرار دیا تھا اور یہ مقام آج تک اپنی اسی جغرافیائی حالت پر قائم رہ کر زمزم کے ذریعے زندگی بانٹ رہا ہے۔ اس کے برعکس، پیٹرا ایک شاداب اور نہری نظام سے جڑا شہر تھا جو تقریباً 25 سو سال پہلے زلزلوں اور تجارتی راستوں کی تبدیلی سے تباہی کا شکار ہوا۔ اگر پیٹرا ہی اصل مرکز ہوتا تو قرآن میں اسے “بنجر” کبھی نہ کہا جاتا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے سائنس ترقی کرتی جائے گی، دل وجد میں آتے جائیں گے اور عقلیں حیرت کدہ بنتی جائیں گی کہ زمین کا یہ نظام اور مرکزِ کعبہ کی یہ جغرافیائی پوزیشن درحقیقت “احسن الخالقین” کی جانب سے “رحمتہ للعالمین” ﷺ کی آمد کی وہ اٹل سند تھی جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ ربُّ العالمین بہتر جانتا تھا کہ مستقبل میں مستشرقین اور مشرکین کس قسم کی ہرزہ سرائی کریں گے، اسی لیے اس نے مکہ کی بنجر وادی کو ایک ایسی کائناتی فریکوئنسی پر تخلیق کیا جو رہتی دنیا تک سائنس اور عقل کے لیے ایک ناقابلِ تردید چیلنج بنی رہے گی۔ مکہ کا 4 ہزار سالہ بنجر پن اور وہاں سے پھوٹنے والی عالمی توانائی اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کا یہ دل صرف وہیں دھڑکتا ہے جہاں اللہ کے حبیب اور ہمارے آقاﷺ کے قدمِ مبارک پڑے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں