گڑ ہمارا سماجی و ثقافتی سرمایہ ہے۔ یہ شہر شہر گاؤں گاؤں، بڑے بڑے اسٹورز ہوں یا گلی کے نکڑ پر موجود کریانے کا کھوکھا ہو، ہر جگہ اپنی مختلف شکلوں اور رنگوں میں نظر آتا ہے۔ اس کے سب رنگ، پسندیدہ ہوتے ہیں۔ کوئی خریدار ترنگ میں ہو تو اسے گڑ کا پیلا رنگ، سنہری دھوپ کی طرح اجلا پن دکھائی دیتا ہے۔ کبھی یہ کسی دوشیزہ کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے سجائی گئی مائیوں کی خوبصورت تقریب کے زرد لباسوں کی طرح، یہ جاذب نظر بن جاتا ہے ۔ بلکہ وہ’ yellow ‘ گڑ کو بانٹتے ہوۓ کہتا جاتا ہے ” یہ لو گڑ”. کوئی گورے گورے سفید گڑ کو یوں کن انکھیوں سے دیکھتا ہے جیسے کوئی گوری اپنے ناز و انداز دکھا کر اسے اپنی طرف مائل کر رہی ہو۔ گورا رنگ ویسے بھی سب کی کمزوری ہوتا ہے۔ کسی کو میووں والے لال گڑمیں چپکے بادام، ناریل اور کشمش میں ایسا حسن دکھائی دیتا ہے جیسے کسی دلہن کے سرخ دوپٹے اور غرارے میں سلمہ ستارے، موتی، نگ، گوٹے کے پھول اور گوکھرو جڑے ہوۓ ہوں۔ رہ گیا سانولا سلونا گڑ تو اس کے بھی بہتیرے چاھنے والے اس پر یوں فریفتہ ہوۓانکی نگاہوں جاتے ہیں، جیسے ان کی نگاہوں کے سامنے سیاہ ریشمی زلفیں سرمئ شاموں کا حسن بڑھا رہی ہوں۔
کھانے پینے کی میٹھی مصنوعات، ہمیشہ قدردان خریداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہیں۔ حقے کے تمباکو سے لیکر گائے بھینسوں کے چارے تک بیچارے گڑ کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔ گڑ کے شیرے سے بنی میٹھی کھیلیں موتیئے کے پھولوں کی طرح کھلی نظر آتی ہیں اور مرنڈے ہوں یا سفید بتاشے ہر چیز میں اسکا وجود ہوتا ہے۔ گنے کی کاشت سے لیکر گڑ بننے تک اس کے سارے مراحل مٹھاس کے بھر بھرے دانوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ گنا شروع شروع میں گاؤں دیہات میں رہنے والوں کی طرح گاؤدی اور اکھڑ مزاج نظرآتا ہے لیکن جونہی اسے شہروں کی ہوا لگتی ہے، اس کے نازو انداز اسی طرح بدل جاتے ہیں جیسے گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت کرنے والے لوگ مہذب اور شکر مقال بن جاتے ہیں ۔
گنے کی فصل تیار ہوتی ہے تو گنےکے گٹھڑ کے گٹھڑ ٹرکوں اور ٹرالیوں میں سوار ہو کر شوگر ملز کی جانب رواں دواں ہوجاتے ہیں۔ مگر میلوں کے راستے طے ہونے کے باوجود ملوں کے دروازوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ کٹھن انتظار اورتھکا دینے والے لمحات ٹرکوں میں موجود گنے کے رس اسی طرح چوس لیتے ہیں، جس طرح کوئی عاشق نامراد اپنے معشوق کے انتظار میں کھڑا کھڑاسوکھ جاتا ہے۔ گنوں کی رگوں میں دوڑتا رسیلا مادہ خشک ہو کر گنوں کو سرکنڈہ بنا دیتا ہے۔ جس سے گنے کے مول گر جاتے ہیں، بالکل اسطرح جیسے میٹھے بول بولنے والے شیریں سخن اس دور کے تلخ نواؤں اور یاوہ گو لوگوں کے ہجوم میں بے قدر اور بے وقعت ہو کر منہ میں کڑواہٹ محسوس کر تے ہوئے خوش کلامی سے تائب ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ گنے کا رس بیچنے والا ریڑھی بان بھی برے بول کا لیموں, رس میں نچوڑ کر زہر کا پیالہ ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔
گنے کی گنڈیریوں سے لیکر اس کے پھوک تک سے انسانوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ گنے سے نچوڑے رس کو بڑہے بڑے کڑاہوں میں جب تیز آنچ پر پکا یا جاتا ہے کہ اس کا شیرہ کڑاہوں کے کناروں سے ابل ابل کر یوں زمین پہ بکھر جاتا ہے جیسے آپس کے اختلافات سے تنگ آئے اہل وطن کے اتفاق کا شیرازہ بکھر گیا ہو۔اس شیرے کو خوب گاڑھا کر کے اس کے گٹے اور گزک (گجک) بنتی ہے جو بڑے ذوق و شوق سے کھائی جاتی ہے۔ ریوڑیوں کا کاروبار کرنے والے بیوپاری ریوڑیاں ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ البتہ کچھ کور چشم خریدار میووں والی ریڑھیوں سے ریوڑیاں خرید کر اپنوں اپنوں میں بانٹ دیتے ہیں، اور غیرانک منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ حکیموں کا کہنا ہے کہ گڑ ہاضم ہوتا ہے اس لئے کھانے کے بعد اس کی ایک ڈلی کھا لینی چاہئے۔ مگر گڑ کھانے کے شوقین اور برہم مزاج لوگوں پر اسکی مٹھاس کا کم کم اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ ” انسان گڑ نہ دے گڑ جیسی بات تو کرے”.

گڑ کی دوسری پراڈکٹس میں شکر، دیسی چینی، ولائتی چینی اور کھانڈ کی بڑی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ شکر نہ ہوتی تو یہ تعریفی کلمہ بھی وجود میں نہ آتا کہ ‘ آپکے منہ میں گھی شکر” ۔ شہرت اور مقبولیت میں ولائتی چینی کا وہی مقام ہوتا ہے جو ہمارے خاندانوں میں ولائت پلٹ لوگوں کا ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چینی اگر کھلی پڑی ہو تو اس پر چیونٹیاں حملہ آور ہوتی ہیں جبکہ ولائت پلٹ کے رشتے دار تحائف کی وصولی کے لئے اس پر بری طرح جھپٹتے ہیں۔ جاپانی ہو، ہندوستانی ہو، پاکستانی ہو یا چینی، سب چینی پھانکتے یا پیتے ہیں۔۔ چائے پھیکی ہو تو پی نہیں جاتی۔ لسی میں چینی نہ پڑی ہو تو بد مزہ ہو جاتی ہے۔ شربت میں چینی کی مقدار کم ہو تو اسے کوئی منہ نہیں لگاتا۔ البتہ مٹھائی میں چاہے جتنی بھی چینی ہو بری نہیں لگتی۔ جب تک شیرے میں ڈوبی گلاب جامن نہ ہو تو وہ محض جامن بن جاتی ہے۔ جلیبی پہ سے شیرا نہ ٹپکتا ہو تو جلیبی، جلیبی نہیں رہتی بلکہ گراٹوکا روپ دھار لیتی ہے۔ شادی کا فنکشن میٹھی ڈشوں کے بناء پھیکا رہتا ہے۔ رس ملائی ہو یا لب شیریں، گاجر کا حلوہ ہو یا جتن سے پکی کھیر، کھوئے والی قلفی ہو یا پستے بادام والا قلفہ، ان کے کھانے سے نہ کسی کی شوگر ہائی ہوتی ہے نہ صحت خراب۔ رہی بات ستو۔ کی تو اس کے شربت کے لئے بھی شکر کا کمبینیشن لازمی ہوتا۔ اس بعد ستو پینے والا آرام سے سوتا ہے۔ یہی تو ہے میٹھی چیزوں سے رغبت۔ میٹھے پن سے ایسی محبت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ حلاوت مزاج میں نہ ہوتی اورمیٹھے بولوں کا کال ہوتا، شائد ہی کوئی شیریں دہن ہوتا، نہ کوئی طوطی شکر مقال ہوتا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں