اپنی اہمیت پہچانیں/ علی عباس کاظمی

یہ تحریر دراصل ایک خاموش نصیحت ہے اُن دِلوں کے نام جو بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں، بہت زیادہ سہہ لیتے ہیں اور بہت کم اپنے لیے جیتے ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے لیے سبق ہے جو دوسروں کو خوش رکھنے کی خاطر خود کو تھکاتے رہتے ہیں اور پھر بھی مطمئن نہیں ہو پاتے۔ زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نیکی، ہمدردی اور خلوص اچھی صفات ہیں مگر جب یہی صفات عقل اور خود آگاہی سے خالی ہو جائیں تو انسان کے لیے آزمائش بن جاتی ہیں۔

دوسروں کا خیال رکھنا اچھی بات ہے مگر ہر ایک کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لینا دانش مندی نہیں۔ مسلسل سمجھوتے انسان کو بے زبان بنا دیتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اپنی بھی ایک زندگی ہے، ایک وقت ہے، ایک حد ہے۔ انسان اگر اپنی حد نہ پہچانے تو دنیا اسے پہچاننے کے بجائےبس استعمال کرنا سیکھ لیتی ہے۔

کسی کے جذبات کو سمجھنا ہمدردی ہے، مگر ان جذبات کی مکمل ذمہ داری اٹھا لینا خود کو نقصان پہنچانا ہے۔ آپ کا فرض یہ نہیں کہ آپ ہر شخص کی خوشی کے ضامن بن جائیں۔ ہر دل کو خوش رکھنا نہ آپ کے اختیار میں ہے اور نہ آپ کی ذمہ داری۔ جو یہ توقع رکھے کہ آپ اپنی سہولت، اپنے آرام اور اپنی ضرورت قربان کر دیں، وہ دراصل آپ سے محبت نہیں بلکہ فائدہ چاہتا ہے۔

انکار کرنا گناہ نہیں۔۔۔ “نہیں” کہنا بدتمیزی نہیں بلکہ خودداری کی علامت ہے۔ جب آپ اپنی مجبوری بیان کرتے ہیں اور پھر بھی خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ مسئلہ آپ کے اخلاق میں نہیں، آپ کی حدود میں ہے۔ حدود بنانا سیکھئے، کیونکہ جو شخص اپنی حد نہیں بناتا وہ دوسروں کے لیے آسان شکار بن جاتا ہے۔

اپنے لیے حدیں مقرر کرنا سرد مزاج یا بے حس ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ نرمی کے ساتھ انکار کرنا، وضاحت کے ساتھ اپنی بات کہنا اور احترام کے ساتھ اپنی حد طے کرنا ہی اصل سمجھ داری ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ “آج مجھ سے یہ ممکن نہیں”، بغیر اس خوف کے کہ کوئی ناراض ہو جائے گا۔جب کوئی ناراض ہو تو اسے اپنی ناکامی نہ سمجھیں۔۔۔یہ صرف اُن کا امتحان ہے۔

احساسِ جرم کو پہچاننا سیکھئے۔۔۔ ہر وہ جگہ جہاں آپ کو یہ لگے کہ آپ اپنی مرضی کے خلاف صرف اس لیے ہاں کہہ رہے ہیں کہ سامنے والا برا نہ مانے، وہیں رک جائیے۔ یہ احساسِ جرم اکثر دوسروں کے فائدے اور آپ کے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ جو لوگ آپ کو چند جملوں سے جھکا لیتے ہیں، وہ آپ کی کمزوری کو نہیں بلکہ آپ کی بھلائی کو اپنے حق میں استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

مضبوط رشتے وہی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی حدود کا احترام کریں۔ جو تعلق صرف تب قائم رہے جب آپ ہر وقت دستیاب ہوں، وہ تعلق وقتی فائدے کا ہوتا ہے۔۔۔ محبت کا نہیں۔ جو لوگ آپ کو واقعی چاہتے ہیں وہ آپ کی “نہیں” کو بھی سمجھیں گے اور آپ کی مجبوری کا احترام کریں گے۔

زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ خود سے بے وفائی کر کے کسی اور سے وفا نہیں نبھائی جا سکتی۔ آپ کی قدر و قیمت اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ آپ دوسروں کے لیے کتنا کرتے ہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ آپ خود کو کتنا سمجھتے اور سنبھالتے ہیں۔ جب آپ اپنی اہمیت پہچان لیتے ہیں تو دنیا بھی آپ کو اسی نظر سے دیکھنا سیکھ لیتی ہے۔

julia rana solicitors london

ہمدرد بنئے۔۔۔ مگر خود کو بھول کر نہیں۔ اپنی حدود بنائیے، کیونکہ یہی حدود آپ کی عزت، سکون اور ذہنی صحت کی محافظ ہوتی ہیں۔ جو انسان خود کا خیال رکھنا سیکھ لیتا ہے۔۔۔وہی دوسروں کا خیال بھی سچائی اور خلوص کے ساتھ رکھ پاتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply