زندگی کی توانائیوں سے لبریز پولیس آفیسر ، ذوالفقار چیمہ ، کی خود نوشت پر تبصرہ لکھنا محض کتاب پر رائے دینا نہیں بلکہ یہ معاشرے کے اخلاقی اور سماجی بیانیے سے مکالمہ کے مترادف ہو گا کیونکہ اُن کی خود نوشت محض ذاتی یاداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے ، جہاں طاقت ، اختیار ، دباو ، خوف ، لالچ اور اصول ہمہ وقت برسرِ پیکار رہتے ہیں ، زیرِ نظر کتاب اِسی کشمکش کی اثر انگیز تصویر پیش کرتی ہے ۔ صحافی کی حیثیت سے ذولفقار چیمہ کے ساتھ میری شناسائی سنہ 2004 میں ان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں بطور آر پی او تعیناتی سے شروع ہوئی ، جو بتدریج ذہنی ہم آہنگی میں ڈھل کر ایسے غیر جذباتی رشتوں میں ڈھلتی گئی ، جو طبقاتی تقسیم ، سیاسی اختلافات اور حالات کی اونچ نیچ سے ماوراء ہوتے ہیں ۔ مجھے ذولفقار چیمہ کو سمجھنے کا دعوی تو نہیں تاہم اِس طویل تعلق میں انکی مجموعی شخصیت کا جو پرتُوں میری لوح شعور پہ منعکس ہوا ، اس کی تفہیم ممکن ہے بلاشبہ وہ بااصول اور ڈسپلن کے پابند پولیس افسر کے طور پہ بظاہر سخت گیر نظر آتے ہیں لیکن مجھے انسانی فضیلتوں سے لبریز انکی معمور روح کے اندر بہادر ، سخی ، نرم دل اور خداترس انسان جگمگاتا نظر آیا ، وہ زندگی سے محبت کرنے والے ایسے زندہ دل انسان ہیں جس کے وجود سے ہر لمحہ اُمید کی درخشندگی پھوٹتی ہے ۔ شائستگی، اصول پسندی اور عظیم انسانوں کے اسالیب کو نشان منزل بنا کر جس طرح انہوں نے معاشرے کی تطہیر کو اپنا نصب العین بنایا ، اِسی طرح وہ خود اپنے نفس کو بھی آلودگیوں سے بچاتے رہے ، اُن کے ہاں دیانت صرف مالی بدعنوانی سے اجتناب تک محدود نہیں بلکہ ذہنی دیانت ، جذباتی سچائی اور اعترافِ کمزوری تک پھیلی ملتی ہے ۔ مصنف نے کہیں خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ لغزشوں ، تذبذب اور بعض فیصلوں پر پچھتاوے کا بھی پوری ایمانداری سے ذکر کیا ، ناقابل فراموش واقعات کے باب میں انہوں نے لاہور کے محلہ اسلام پورہ میں وقوع پذیر ہونے والے دو خونی واقعات ، جن میں دہشتگردوں نے بچوں اور خواتین سمیت درجن بھر معصوم شہریوں کو بیدردی سے قتل کر دیا تھا ، بارے لکھتے ہیں کہ ” دو روز بعد وزیراعظم نواز شریف لاہور آئے تو سیدھے اسلام پورہ گئے ، انہوں نے ہجوم کے سامنے اعلان کیا ، ہم 72 گھنٹوں کے اندر مجرموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے ، گرفتاری کے بعد انہیں اسی جگہ پھانسی پہ لٹکائیں گے ، وزیراعظم نے آئی ایس آئی اور آئی بی کے ڈی جی صاحبان کو حکم دیا کہ وہ بہترین تفتیشی افسران بلائیں اور اس وقت تک اسلام پورہ میں بیٹھے رہیں جب تک مجرم گرفتار نہیں ہوتے ، مجھ سے بھی وزیراعظم اس کیس بارے پوچھتے رہے مگر افسوس کہ پولیس اور ایجنسیوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ کیس معمہ ہی رہا اور اس گھناونی واردات کے مرتکب درندوں کو ٹریس نہ کیا جا سکا ” ۔ یہی وصف اس خود نوشت کو مصنوعی تقدس سے بچا کر انسانی سطح پر قابلِ قبول بناتا ہے ۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی بلند مینار پر کھڑے افسانوی کردار کو نہیں بلکہ گوشت پوست کے ایسے انسان کو پڑھ رہا ہے، جو ہمیشہ مشکل ترین حالات میں بھی درست راہِ عمل تلاش کرنے کی جدوجہد کرتا رہا ۔
خود نوشت کا دوسرا نمایاں پہلو ایسی اصول پسندی کے گرد گھومتا ہے جو معاشرے پہ بوجھ بننے کی بجائے خود پولیس افسر کو حق و انصاف کا پابند بناتی ہے ، چنانچہ مصنف نے بار بار زور دیا کہ پولیس افیسر کے لئے سب سے بڑا امتحان طاقت کے نشے میں اصولوں کو قربان کرنے سے بچانا ہے ۔ ایسے واقعات جن میں سیاسی دبا ، بااثر افراد کی سفارش یا ادارہ جاتی خاموشی کے باوجود قانون کے مطابق راہ عمل اپنانا پڑے ، نہایت موثر انداز میں بیان کئے ۔ راولپنڈی کے معروف ایم این اے شیخ رشید کے زیر سرپرستی چلنے والے ٹریننگ کیمپ اور جُوئے کے اڈے پر چھاپہ کے ضمن میں لکھا کہ ” ابھی اُس توہین کا پسینہ خشک نہیں ہوا تھا کہ گستاخ ایس پی(راقم) نے مقامی ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو بتائے بغیر جُوئے کے بدنام ترین اڈے پہ خود ریڈ کر دیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شیخ جی نے لاہور جا کر چیف منسٹر آفس میں ڈیرہ لگا لیا ، سی ایم سے کہا ، سر جی ! میں شہر میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہا ، انہوں نے اس حد تک ضد کی کہ ” اگر ایس پی وہاں رہتا ہے تو میں کسی صورت پنڈی نہیں جا سکتا ، اگر آپ کو میری عزت کا پاس ہے تو ایس پی کو تبدیل کریں ، ظاہر ہے اہم ساتھی کے مقابلہ میں سول سرونٹ کی کیا اہمیت ہو سکتی تھی ، لہذا چیف منسٹر کو اپنے ایم این اے کی ضد ماننا پڑی اور میرا تبادلہ کر دیا گیا ” ۔ اس سے یہی ثابت ہوا کہ مصنف نے اصولوں کو محض کتابی باتوں کے طور پر پیش کرنے کی بجائے عملی نمونہ دکھایا کہ اصولوں پر قائم رہنے کی قیمت کیا ہوتی ہے لیکن تبادلے ، تنہائی ، حکام بالا کی شکر رنجی اور بَسا اوقات اہلِ خانہ کی پریشانی جیسی مشکلات میں ثابت قدم رہ کر انہوں نے معاشرے کو یہ پیغام دیا کہ وقتی نقصان کے مقابلے میں اصولی موقف کی اخلاقی فتح کہیں بڑی ہوتی ہے۔
خود نوشت میں فرض شناسی نہایت اہم اور گہرا موضوع نظر آئی ، مصنف نے واضح کیا کہ اگرچہ قانون کا اطلاق بے لاگ ہونا چاہیے مگر انسانوں کے حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ وہ طاقتور اور کمزور، مجرم اور مجبور ، غلطی اور جرم ، قانون شکنی اور ناانصافی کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت کو اچھے پولیس افسر کی بنیادی خصوصیت قرار دیتے ہیں ، خاص طور پہ بوٹی مافیا کے خلاف ٹنڈ آپریشن اور ریڈ لائٹ ایریا میں علامتی کاروائیوں میں ان کی ذہنی لچک کی جھلک نمایاں نظر آئی ، ایسے واقعات میں فرض شناسی نے نہ صرف انصاف کو انسانی چہرہ فراہم کیا بلکہ معاشرے میں پولیس بارے پائی جانے والی نفرت و بیزاری کو کم کرنے میں بھی مدد دی ، ان کی شخصیت کا یہی پہلو خود نوشت کو سرکاری یادداشت کے بجائے اخلاقی دستاویز بنا گیا ۔
اِس خُود نوشت کی زبان سادہ ، رواں اور تصنع سے عاری ہے ، غیر ضروری خطابت نہ مبالغہ آرائی ، یہی سادگی زور بیاں اور حسن بیان کو متشکل کر گئی ۔ ہاں البتہ کہیں کہیں جذباتی مناظر میں زبان خود بخود شاعرانہ ہوتی گئی مگر یہ شاعرانہ پن بھی مصنوعی نہیں بلکہ تجربے کی شدت سے جنم لیتا رہا ۔ خاص طور پر وہ مقامات جہاں مصنف نے مظلوم شہریوں یا ناکام انصاف کے واقعات بیان کئے ، قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
مصنف نے نظام کی خامیوں کو چھپانے یا جواز فراہم کرنے کے بجائے کھلے دِل سے نشاندہی کی ، تفتیشی کمزوریاں ، سیاسی مداخلت ، وسائل کی کمی، تربیت کا فقدان اور اندرونی احتساب کی ناکافی صورت حال پر نہایت متوازن تبصرے کئے ۔ کم و بیش 35 سالوں پہ محیط اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے تجربات و مشاہدات کے بعد مصنف نے نظام کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا نہ اس کا اَندھا دفاع کیا بلکہ اصلاح کی امید کے ساتھ ہمدردانہ تنقید کرکے ایک ذمہ دار پولیس افسر کی سوچ کی درست عکاسی کی ہے۔
ذولفقار چیمہ کی خود نوشت نوجوان پولیس افسران اور سول سروس میں آنے والوں کے لئے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ اس میں محض نظریاتی بحثیں نہیں بلکہ معروضی حقائق کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ مشکل ترین حالات میں کس طرح درست فیصلے کئے جا سکتے ہیں ، خاص کر لاہور میں امریکی کونسل جنرل مسٹر مکی کو ڈیل کرنے کا واقعہ انکی پیشہ ورانہ مہارت کی کلاسیکی مثال ہے کہ عالمی تعلقات کی نزاکتوں اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باوجود کیسے دباو کو سنبھالا جا سکتا ہے ۔ عام قاری کے لیے بھی یہ کتاب پولیس بارے رائج یک طرفہ تاثر کو توڑنے میں مددگار بن سکتی ہے ۔ یہ دکھاتی ہے کہ وردی کے ڈیٹرنس کے پیچھے بھی حساس دل ، باشعور ذہن اور جواب دہ ضمیر زندہ رہ سکتا ہے ۔ مصنف کے تجربات یہ احساس دلاتے ہیں کہ اگرچہ نظام میں خرابیاں ہیں مگر افراد کی نیت اور مضبوط کردار تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ دیانتدار، بااصول اور فرض شناس پولیس افسر کی یہ خود نوشت محض یادوں کا بیان نہیں بلکہ اخلاقی دستاویز ، گہری سماجی تنقید اور ایک امید افزاء پیغام بھی ہے ۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقت کا اصل حسن اس کے درست استعمال میں ہے ، انصاف صرف قانون کی کتاب میں نہیں بلکہ انسان کے ضمیر میں زندہ رہتا ہے ۔ ایسی تحریریں معاشرے میں نہ صرف مثبت مکالمے کو جنم دیتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے کردار اور اصول کی اہمیت کو بھی اجاگر کرجاتی ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں