شام کے سائے گول باغ کی روشوں پر اس طرح پھیل رہے تھے جیسے کسی قدیم مسودے پر سیاہی گر گئی ہو۔ گول باغ کے عین وسط میں، جہاں پرانی بنچیں جڑوں سے اکھڑے ہوئے کسی بوڑھے درخت کے دانتوں کی طرح بکھری تھیں، تین سائے ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے تھے۔خالد سعید ایک بینچ کے وسط میں بیٹھے تھے، ان کی آنکھوں میں ملتان کی تپتی ہوئی دوپہروں کی تھکن نہیں، بلکہ ایک ایسی دانش تھی جو صدیوں کے سفر کے بعد ہی نصیب ہوتی ہے۔ ان کے دائیں جانب اوریانہ فلاشی اپنی صحافیانہ جبلت کے ساتھ بے چین بیٹھی تھی، اور بائیں جانب سمیع آہوجہ خاموشی کی ایک ایسی تہہ اوڑھے ہوئے تھے جسے چیرنا ناممکن معلوم ہوتا تھا۔
خالد سعید نے محسوس کیا کہ ہوا میں صرف آکسیجن نہیں، بلکہ صدیوں کی سسکیاں اور حروفِ تہجی کی کرچیاں بھی شامل ہیں۔ ان کے ساتھ کتبے کی طرح ساکت دو ایسےوجود بیٹھے تھے جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ وہ کسی دوسری کائنات کے مسافر ہیں جو یہاں صرف معنی کی تلاش میں اترے ہیں۔اوریانہ نے اپنے پرس سے سگریٹ نکالا۔ ماچس کی تیلی جلی تو اس کی روشنی میں اس کے چہرے کی جھریاں کسی قدیم نقشے کی لکیریں معلوم ہوئیں، جن پر فاتحین کی شکست کی داستانیں درج تھیں۔
تمہارے اس شہر میں مٹی اتنی زیادہ کیوں ہے؟۔ اوریانہ نے دھواں فضا میں اچھالتے ہوئے کہا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہاں کے لوگ سانس نہیں لیتے، بلکہ تاریخ کو پھانکتے ہیں۔ خالد سعید نے اپنے چشمے کے شیشے صاف کیے۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی تھی جہاں وجودی منطق کے کئی فلسفے غرق ہو چکے تھے۔ اوریانہ، مٹی یہاں کا لباس ہے۔ ہم ننگے لوگ ہیں، اس لیے مٹی اوڑھ لیتے ہیں۔ تم تو اقتدار کے ایوانوں سے آئی ہو، جہاں خون کی بو کو عطر سے چھپایا جاتا ہے۔خالد سعید نے دور افق پر گرتی ہوئی دیوارِ شب کو دیکھا۔یہاں ملتان میں۔ انہوں نے دھیمی آواز میں کہا۔گرد اور عقیدت کے درمیان ایک ایسا مقام ہے جہاں انسان خود کو بھول کر محض ایک استعارہ بن جاتا ہے۔
اوریانہ نے اپنی تیز، کاٹ دار آنکھوں سے خالد کو گھورا۔استعارہ؟۔ خالد، استعارے ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جن کے پاس سچ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ میں نے جنگوں میں دہکتی ہوئی خندقوں میں دیکھا ہے کہ جب گولی چلتی ہے تو استعارہ خون بن کر بہہ جاتا ہے۔ تم اس بوڑھے باغ میں بیٹھ کر علامتوں کی بات کیسے کر سکتے ہو جب باہر تاریخ چیخ رہی ہے؟۔سمیع آہوجہ نے اپنے ہاتھ کی لکیروں کو چھوتے ہوئے مداخلت کی۔اوریانہ، حقیقت صرف وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔ کبھی کبھی خاموشی کا شور گولی کی آواز سے زیادہ بھیانک ہوتا ہے۔ خالدسعید جس خلا کی بات کر رہے ہیں، وہ خلا ہم سب کے اندر ہے۔ ہم یہاں گول باغ میں نہیں بیٹھے، ہم اپنی اپنی تنہائیوں کے تصادم کے بیچ میں کھڑے ہیں۔
خالد سعید نے اپنے ہاتھ کی پوروں سے ہوا میں کوئی ان دیکھا نقشہ بناتے ہوئے کہا۔اوریانہ! تم جس سچ کو اقتدار کے ایوانوں اور جنگ کے میدانوں میں ڈھونڈتی رہی ہو، وہ سچ یہاں اس باغ کی مٹی میں ایک بیج کی طرح دفن ہے۔ تم نے ہمت کی کہ طاقتوروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا، لیکن کیا تم نے کبھی اس خلا میں جھانکا ہے جو لفظ اور معنی کے درمیان واقع ہے؟۔باغ کے درخت اچانک طویل ہونے لگے، جیسے وہ آسمان کا سینہ چاک کرنا چاہتے ہوں۔ خالد سعید کو لگا کہ ان کے الفاظ ان کے منہ سے نکل کر ہوا میں منجمد ہو رہے ہیں۔میرا مسئلہ جنگ نہیں ہے۔ خالد نے ایک سوکھے پتے کو پاؤں سے مسلتے ہوئے کہا۔میرا مسئلہ وہ لفظ ہے جو ادا ہونے سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں ہیں جہاں معنی کی جلاوطنی ہو چکی ہے۔ تم کہتی ہو کہ سچ بولو، لیکن سچ تو خود ایک خالص خیال بن چکا ہے۔ جب میں روشنی کہتا ہوں، تو میرا مطلب اجالا نہیں ہوتا، بلکہ اس اندھیرے کی کمی ہوتی ہے جو ہمیں نگل رہا ہے۔
اوریانہ نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور تلخی سے بولی۔خالد! تم لوگ مشرق کے دانشور ہو، تم خلا اور استعارے کی آڑ لے کر حقیقت سے فرار چاہتے ہو۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب جبر کا ہاتھ حرکت میں آتا ہے تو وہ کسی استعارے کو نہیں کچلتا، وہ ہڈیوں کو توڑتا ہے۔ تم اس ٹوٹتی ہوئی ہڈی کی آواز کو غیر مادی احساس میں کیسے بدل سکتے ہو؟۔خالد سعید کے لبوں پر ایک دھیمی، پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ہڈی کا ٹوٹنا ایک واقعہ ہے اوریانہ، لیکن اس ٹوٹنے کا دکھ ایک تجرید ہے۔ میں فرار نہیں چاہ رہا، میں اس کرب کی جڑوں تک پہنچنا چاہتا ہوں جہاں سے آواز پیدا ہونے سے پہلے ہی مر جاتی ہے۔ دیکھو، سمیع کو دیکھو! یہ خاموش ہیں، کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ جب درد حد سے بڑھ جائے تو وہ زبان کھو دیتا ہے اور محض ایک علامت بن جاتا ہے۔
اوریانہ نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔تمہاری یہ علامت نگاری دراصل ایک ڈھال ہے، خالد ! تم خود کو ان پیچیدہ لفظوں میں چھپا لیتے ہو تاکہ تمہیں اس ننگی سچائی کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ ہم سب اس کائنات کے بے مصرف مہرے ہیں۔سمیع آہوجہ نے سر اٹھایا، ان کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی ہوئی لگی۔خالد سعید ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اوریانہ، تم نے تاریخ لکھی ہے، میں نے تاریخ کو مٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہاں گول باغ میں، وقت کی گردش تھم گئی ہے۔ یہاں ہم تینوں صرف انسان نہیں ہیں، ہم تین شعور ہیں جو ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔
خالد سعیدکا لہجہ اب مزید گہرا اور جادوئی ہو چکا تھا۔مرا مسئلہ وہ لا ہے جو الا سے پہلے آتا ہے۔ ہم سب ایک ایسے خالی پن کے گرد طواف کر رہے ہیں جس کا کوئی مرکز نہیں ہے۔ اوریانہ، تم نے جن سے انٹرویو لیے وہ جسم تھے، لیکن ان جسموں کے اندر جو عدم تھا، کیا تم اسے چھو سکیں؟ میری علامتیں دراصل اس عدم کا نوحہ ہیں۔ میں جب گول باغ کہتا ہوں تو میرا مطلب یہ زمین نہیں ہوتی، بلکہ وہ دائرہ ہوتا ہے جس میں انسانی روح قید ہو کر رہ گئی ہے۔سمیع آہوجہ نے سر جھکا لیا۔لیکن مہرہ ہونا بھی تو ایک علامت ہے۔ خالد سعید سچ کہہ رہے ہیں۔ اس باغ کے چاروں طرف جو دیواریں ہیں، وہ اینٹوں کی نہیں، وہ ہماری اناؤں کی ہیں۔ ہم تینوں یہاں موجود ہیں، لیکن کیا ہم واقعی ایک دوسرے کو سن رہے ہیں؟ یا ہم صرف اپنے اپنے اندر گونجنے والی صداؤں کا جواب دے رہے ہیں؟
اوریانہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔تمہاری گفتگو مجھے کسی طلسماتی بھول بھلیاں میں لے جا رہی ہے۔ کیا تمہارے نزدیک اس کائنات کی کوئی مادی حقیقت نہیں۔خالد سعید نے سامنے پھیلے ہوئے بوڑھے برگد کی طرف اشارہ کیا جس کی جڑیں زمین کے اندر نہیں بلکہ فضا میں لٹک رہی تھیں۔ حقیقت صرف وہ ہے جو ہم محسوس کرتے ہیں، اور محسوس کرنے کا عمل خود ایک ذہنی یا باطنی عمل ہے۔ یہ درخت، یہ بینچ، یہ ملتان کی دھول… یہ سب محض حروف ہیں۔ میں ان حروف کو جوڑ کر ایک ایسا جملہ بنانا چاہتا ہوں جو ابھی تک تخلیق نہیں ہوا۔ ہم یہاں اس لیے ملے ہیں کہ ہم اس جملے کے تین گمشدہ الفاظ ہیں۔
میں نے آمروں کے سینے میں سنگینیں چھپتے دیکھی ہیں۔ اوریانہ کا لہجہ تلخ ہو گیا۔ میں نے ان لوگوں کی آنکھوں میں دیکھا ہے جو پوری دنیا کو مٹھی میں رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن اس باغ میں بیٹھ کر مجھے لگ رہا ہے کہ میری ساری تگ و دو محض ایک چیخ تھی جو کسی بہرے کے کان میں ماری گئی۔یہی تو وہ نکتہ ہے جہاں عدم شروع ہوتا ہے۔ خالد سعید نے ایک سوکھا ہوا پتا اٹھا کر اسے مسل دیا۔تم نے طاقت کا مشاہدہ کیا، میں نے طاقت کی لایعنیت کا۔ اس باغ کے چاروں طرف جو شہر بستا ہے، وہ ایک زندہ قبرستان ہے جہاں ہر شخص اپنی انا کا کتبہ سینے سے لگائے پھر رہا ہے۔
باغ کے درختوں کے سائے طویل سے طویل تر ہوتے جا رہے تھے، جیسے وہ زمین پر پھیل کر کائنات کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہتے ہوں۔سمیع آہوجہ اچانک ہنسا۔ ایک ایسی ہنسی جس میں درد نہیں تھا، صرف ایک عجیب سا انکشاف تھا۔تم دونوں کتنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ سمیع آہوجہ نے دور کہیں فضا میں ابھرنے والے غبار کے مرغولے کو دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لکڑی کی چھڑی تھی جس سے وہ زمین پر غیر مرئی لکیریں کھینچ رہا تھا۔تم دونوں الفاظ کی قید میں ہو۔ سمیع کی آواز جیسے کنویں کی تہہ سے آ رہی تھی۔ میں یہاں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ کیا ملتان کا کبوتر اب بھی وہی راگ الاپتا ہے جو صدیوں پہلے کسی صوفی کے ہاتھ پر بیٹھ کر الاپتا تھا؟ اوریانہ، تمہاری صحافت یہاں کے سکوت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
خالد سعید کھڑے ہوئے اور باغ کے وسط میں واقع اس پرانے فوارے کی طرف بڑھے جو اب سوکھ چکا تھا۔ انہوں نے فوارے کی تہہ میں دیکھا، جہاں پانی کی جگہ صرف آئینے کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔اوریانہ، تمہارا اگلا سوال کیا ہے۔ خالد سعید نے پوچھا۔میرا سوال اب خود سے ہے۔ اس نے سگریٹ کا ٹوٹا زمین پر مسل دیا۔ کیا موت کے بعد بھی کوئی فلاشی باقی رہتی ہے یا صرف مٹی کا ایک ڈھیر۔کچھ باقی نہیں رہتا۔ خالد سعید نے زمین پر کھینچی ہوئی لکیروں کو اپنے پاؤں سے مٹا دیا۔صرف وہ تال باقی رہتی ہے جس پر کائنات ناچ رہی ہے۔ دیکھو، وہ تال اب تھمنے والی ہے۔
اچانک باغ کے تمام پرندے ایک ساتھ اڑے، لیکن ان کے پروں کی آواز نہیں آئی۔ ایک عجیب سی زرد روشنی نے پورے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شام کی زردی میں لپٹا ہوا گول باغ اب ایک قدیم، شکستہ پیالے کی مانند محسوس ہو رہا تھا جس میں وقت کی راکھ جمع ہو رہی تھی۔اوریانہ نے مڑ کر دیکھا، لیکن وہاں نہ خالد سعید تھا اور نہ سمیع آہوجہ۔ وہاں صرف دو خالی بینچیں تھیں جن پر گرد کی ایک موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔اس نے گھبرا کر آسمان کی طرف دیکھا، جہاں ستارے اب حروف کی شکل اختیار کر چکے تھے اور ٹوٹ کر زمین کی طرف گر رہے تھے۔
تب اسے احساس ہوا کہ وہ گول باغ میں کسی سے ملنے نہیں آئی تھی، بلکہ وہ تو خود ایک ایسی کہانی کا حصہ تھی جو ابھی تک لکھی ہی نہیں گئی تھی۔ دور کہیں مندر کے گھنٹے اور مسجد کی اذان ایک ہی آواز میں مدغم ہو گئے اور اسی وقت اوریانہ نے نیچے دیکھا، تو گھاس پر تین الگ الگ سگریٹوں کا دھواں ابھی تک تین مختلف سمتوں میں لہریں بنا رہا تھا، حالانکہ وہاں سگریٹ پینے والا کوئی موجود نہ تھا۔ اوریانہ نے ایک گہرا سانس لیا اور خاموشی سے باغ سے باہر نکل گئی۔
اس کے پیچھے، گول باغ کے درختوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا اور وہ ایک ایسی زبان میں سرگوشی کر رہے تھے جس کا کوئی ترجمہ ممکن نہ تھا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں