قانون اور سیاسی طاقت کا سنگم اکثر ایک ایسا میدانِ جنگ تخلیق کرتا ہے جہاں عدالتیں طاقت کی کشمکش کا ثانوی تھیٹر بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں جمہوری نمائندگی اور ادارہ جاتی دباؤ کے درمیان جاری کشمکش میں قانونی نظام کو اکثر ریاست کی جانب سے اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، جسے جدید علمی اصطلاح میں لافیئر (Lawfare) کہا جاتا ہے ۔ ہم اس تجزیہ میں سیاسی قائدین کے ان تاریخی اور معاصر نقوش کا جائزہ لیتے ہیں جنہوں نے قانونی جبر کا سامنا کیا، اور نیلسن منڈیلا، شیخ مجیب، باچا خان اور مولانا مودودی کی مثالوں سے عمران خان کی رہائی کے لیے تزویراتی لائحہ عمل مرتب کرے۔
سیاسی لافیئر میں ریاست کا ہدف انصاف نہیں بلکہ اپنے سیاسی حریف کو “سیاسی قرنطینہ” (Political Quarantine) میں رکھنا ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ کا 1956 کا غداری کا مقدمہ (Treason Trial) اس حوالے سے ایک کلیدی مثال فراہم کرتا ہے۔
نیلسن منڈیلا اور غداری کا مقدمہ (1956–1961)
دسمبر 1956 میں اپارتھائیڈ حکومت نے اے این سی (ANC) کی قیادت سمیت 156 رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان پر غداری کا الزام لگایا ۔ ریاست کا موقف تھا کہ “فریڈم چارٹر” دراصل ایک کمیونسٹ سازش ہے جس کا مقصد تشدد کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنا ہے ۔ ساڑھے چار سال تک جاری رہنے والے اس طویل مقدمے میں پراسیکیوشن یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ اے این سی کی پالیسی متشدد انقلاب پر مبنی تھی ۔
مارچ 1961 میں جسٹس رمپف (Justice Rumpff) نے تمام ملزمان کو بری کر دیا ۔ یہ بریت ثابت کرتی ہے کہ جابرانہ نظام میں بھی عدالتی دیانت ریاست کے بیانیے کو شکست دے سکتی ہے۔ منڈیلا کے لیے یہ بریت ایک موڑ ثابت ہوئی؛ انہوں نے بھانپ لیا کہ ریاست اب قانون سے بالا تر ہو کر جبر کرے گی، جس کے بعد وہ روپوش ہو کر “بلیک پمپرنل” (Black Pimpernel) بن گئے اور مسلح ونگ “ایم کے” (MK) کی بنیاد رکھی۔
منڈیلا کے برعکس، عمران خان کو ایک بڑے مقدمے کے بجائے “کیس کلسٹرز” (توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ، سائفر اور عدت) کا سامنا ہے، جن کی تعداد 280 سے تجاوز کر چکی ہے ۔ اس جدید لافیئر کا مقصد “ضابطہ جاتی تھکاوٹ” (Procedural Attrition) ہے، جہاں ایک ہی واقعے پر متعدد ایف آئی آرز درج کر کے ملزم کو مسلسل عدالتی چکروں اور دوبارہ گرفتاریوں کے جال میں الجھائے رکھا جاتا ہے۔
پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست قانون کو انتقام کا ذریعہ بناتی ہے، تو رہائی کا راستہ اکثر عوامی احتجاج اور سیاسی بریک ڈاؤن سے نکلتا ہے۔
شیخ مجیب اور اگرتلہ سازش کیس (1968–1969)
عوامی بریت کی سب سے بڑی مثال شیخ مجیب الرحمٰن کے خلاف اگرتلہ سازش کیس ہے۔ ایوب خان کی حکومت نے ان پر بغاوت کا سنگین الزام لگایا، لیکن 1969 کے ملک گیر عوامی احتجاج نے ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔ ریاست کو 22 فروری 1969 کو غیر مشروط طور پر مقدمہ واپس لینا پڑا، جس نے مجیب کو “بنگا بندھو” کا خطاب دلایا اور 1970 کے انتخابات میں ان کی فتح کی راہ ہموار کی ۔ سبق واضح ہے: جب لافیئر عوامی مقبولیت سے ٹکراتا ہے، تو عدلیہ سیاسی حقیقت کے تابع ہو جاتی ہے۔
مولانا مودودی کو 1953 میں ایک مارشل لاء عدالت نے سزائے موت سنائی، لیکن انہوں نے رحم کی اپیل کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ اس دو ٹوک موقف نے اتنا شدید عوامی دباؤ پیدا کیا کہ حکومت کو 48 گھنٹوں کے اندر سزا کو عمر قید میں بدلنا پڑا ۔ عمران خان کا کسی بھی “ڈیل” سے انکار اسی مودودی نقشِ قدم کی عکاسی کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں 9 مئی کے واقعات کے بعد شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل لافیئر کی ایک نئی اور سخت شکل ہے۔ آرمی ایکٹ کی بحالی اختلافِ رائے کو دہشت گردی سے خلط ملط کرنے کا ایک ایسا فریم ورک ہے جو منڈیلا کے دور سے بھی زیادہ پابندیاں عائد کرتا ہے۔
طبی بنیادوں نے پاکستان میں ہمیشہ ریاست اور سیاسی قائدین کے لیے ایک “سافٹ ایگزٹ” (Soft Exit) فراہم کیا ہے، جس سے قانونی الجھنوں کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی منتقلی ممکن بنائی جاتی ہے۔
خان عبد الغفار خان باچا خان (1964) کو اکثر بغیر مقدمے کے قید رکھا گیا، لیکن 1964 میں ایوب خان حکومت نے انہیں طبی بنیادوں پر رہا کر کے لندن بھیج دیا، جو درحقیقت ایک ریاستی جلاوطنی تھی۔ اسی طرح نواز شریف (2019) سزا یافتہ ہونے کے باوجود پلیٹ لیٹس کی کمی نے ریاست کو ایک سیاسی راستہ فراہم کیا کہ انہیں طبی علاج کے لیے لندن جانے دیا جائے۔
جنوری 2026 میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں سنٹرل ریٹینل وین اکلوژن (CRVO) کی تشخیص نے ان کی قید کو انسانی حقوق کے ایک عالمی بحران میں بدل دیا ہے ۔ 24 جنوری کی رات پمز (PIMS) ہسپتال میں کی گئی “خفیہ” طبی کارروائی نے ریاستی بدنیتی کے بیانیے کو تقویت دی ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے تشدد (UN Special Rapporteur) نے متنبہ کیا ہے کہ خان کی تنہائی اور طبی غفلت “نفسیاتی تشدد” کے زمرے میں آ سکتی ہے ۔ یہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ (WGAD) کی اس رائے کو مزید مضبوط کرتا ہے جس نے خان کی قید کو غیر قانونی قرار دیا ہے ۔
موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پی ٹی آئی محض علامتی سیاست کے بجائے ایک منظم اور مرحلہ وار عوامی تحریک کی جانب بڑھے۔
تجزیہ بتاتا ہے کہ جہاں عام کارکن “عمران خان کے عشق” میں سڑکوں پر ہے، وہیں پارلیمانی قیادت (MNAs/MPAs) فرنٹ لائن پر آنے سے کتراتی دکھائی دیتی ہے۔ منتخب نمائندوں کی خاموشی اور “ٹک ٹاک پالیٹکس” پر انحصار تحریک کے مومینٹم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
عمران خان کی رہائی کا تزویراتی روڈ میپ (Phase-wise Strategy) ہونا چاہئے۔
پہلا مرحلہ (پارلیمانی دھرنا): تمام ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز کو اڈیالہ جیل کے باہر مستقل دھرنا دینا ہوگا تاکہ ریاست کے لیے سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے ۔
دوسرا مرحلہ (قانونی موبلائزیشن): انصاف لائرز فورم (ILF) کو عدالتی جنگ کو سڑکوں کے بیانیے سے جوڑنا ہوگا، جس میں اقوام متحدہ کے WGAD کی رائے کو بنیاد بنایا جائے۔
تیسرا مرحلہ (تنظیمی فعالیت): آئی ایس ایف (ISF) اور آئی وائی ایف (IYW) کو وارڈ لیول تک متحرک کرنا اور مرکز و صوبے کے درمیان چین آف کمانڈ کو بحال کرنا لازمی ہے۔
چوتھا مرحلہ (عوامی ریلا): جب منظم قیادت میدان میں ہوگی، تبھی عوام کی “فائنل کال” فیصلہ کن ثابت ہوگی۔
موجودہ عالمی صف بندی میں امریکہ، سعودی عرب یا چین پر انحصار کرنا عبث ہے۔ امریکہ اس وقت عمران خان کی رہائی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے قاصر ہے، جبکہ دیگر ممالک پاکستان کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت سے گریزاں ہیں۔ لہذا، رہائی کا واحد راستہ “خود انحصاری” ہے، یعنی ایک بھرپور مقامی تحریک جسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے فریم ورک کی حمایت حاصل ہو۔

منڈیلا اور مجیب کے نقوش بتاتے ہیں کہ جب عوامی قانونی بیانیہ اور جسمانی موجودگی (Physical Presence) ایک ساتھ مل جائیں، تو ریاستی جبر کو پسپا ہونا پڑتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں