وژن کسی بھی لیڈر کو سمت دیتا ہے، مگر اس سمت پر چلنے کی صلاحیت کردار سے جنم لیتی ہے۔ کردار وہ خاموش قوت ہے جو لیڈر کے ہر فیصلے، ہر رویّے اور ہر قدم میں جھلکتی ہے۔ جب نعروں کی گونج ختم ہو جائے اور حالات مشکل ہو جائیں، تب اصل امتحان کردار ہی کا ہوتا ہے۔ اسی لیے تاریخ میں وہی لیڈر زندہ رہتے ہیں جن کے پاس طاقت سے زیادہ اصول ہوتے ہیں۔
کردار محض اچھے اخلاق کا نام نہیں، بلکہ یہ اصولوں پر ثابت قدم رہنے کی وہ صلاحیت ہے جو فائدے اور نقصان کے ترازو میں نہیں تولی جاتی۔ ایک باکردار لیڈر اپنی سہولت، مقبولیت اور حتیٰ کہ اقتدار کو بھی اپنے اصولوں پر قربان کر سکتا ہے۔ یہی وصف قیادت کو وقتی کامیابی سے نکال کر دائمی اثر میں بدل دیتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے کہ کردار اقتدار سے پہلے بھی ویسا ہی ہوتا ہے اور اقتدار کے بعد بھی۔ آپ ﷺ نے وعدے، انصاف اور انسانی وقار کے جو اصول اپنائے، وہ حالات کے بدلنے سے کبھی تبدیل نہیں ہوئے۔ یہی غیر متزلزل کردار تھا جس نے مخالفین کو بھی معترف بنا دیا اور قیادت کو اخلاقی برتری عطا کی۔
برصغیر میں باچا خان کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ قیادت کے لیے تشدد یا طاقت ضروری نہیں۔ سخت مزاحمتی ماحول میں بھی انہوں نے برداشت، امن اور اصلاح کا راستہ نہیں چھوڑا۔ قید و بند، الزامات اور محرومیاں ان کے اصولوں کو متزلزل نہ کر سکیں۔ ان کی قیادت کی اصل طاقت ان کا کردار تھا، نہ کہ کوئی عہدہ۔
مہاتما گاندھی نے کردار کو سیاست کی بنیاد بنایا۔ ان کی زندگی، گفتار اور عمل میں تضاد نہیں تھا۔ وہ جو کہتے تھے، وہی جیتے تھے۔ یہی یکسانیت انہیں محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک اخلاقی قوت بناتی ہے۔ گاندھی نے ثابت کیا کہ کردار کمزور نظر آنے والے انسان کو بھی مضبوط نظاموں کے مقابل کھڑا کر سکتا ہے۔
افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے دکھایا کہ کردار صرف جدوجہد میں نہیں، اقتدار میں بھی پرکھا جاتا ہے۔ طویل قید کے باوجود ان کے دل میں انتقام نے جگہ نہیں بنائی۔ اقتدار ملا تو مفاہمت کو ترجیح دی، ذاتی بدلے کو نہیں۔ یہی کردار انہیں محض ایک صدر نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی آواز بنا گیا۔
امریکی تاریخ میں جارج واشنگٹن کی مثال بھی قابلِ توجہ ہے۔ بے پناہ طاقت کے باوجود انہوں نے اقتدار کو طول دینے کے بجائے رضاکارانہ طور پر کنارہ کشی اختیار کی۔ ان کا یہ عمل اس بات کا ثبوت تھا کہ باکردار لیڈر اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھتا ہے۔
اسی طرح عمر مختار جیسے رہنماؤں نے یہ واضح کیا کہ کردار میدانِ جنگ میں بھی اخلاقی حدوں کا پابند رہتا ہے۔ انہوں نے دشمن کے ساتھ بھی انسانی وقار کو پامال نہیں کیا۔ یہ وہ پہلو ہے جو قیادت کو محض مزاحمت نہیں بلکہ اخلاقی برتری عطا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر کردار کمزور ہو تو وژن خطرناک بن جاتا ہے۔ ایسا وژن قوم کو منزل تو دکھاتا ہے مگر راستے میں اصول قربان کر دیتا ہے۔ باکردار لیڈر ہی وہ ہوتا ہے جو طاقت کے نشے میں بھی خود کو جواب دہ سمجھتا ہے اور کمزوری میں بھی اصولوں پر قائم رہتا ہے۔
آج دنیا کا سب سے بڑا بحران قیادت کا نہیں، کردار کا ہے۔ ہم تقریروں، منصوبوں اور دعوؤں سے متاثر ہو جاتے ہیں، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ لیڈر کا کردار کیسا ہے۔ اگر ہم نے حقیقی اور پائیدار قیادت پیدا کرنی ہے تو ہمیں سب سے پہلے کردار کو معیار بنانا ہوگا، نہ کہ صرف کامیابی یا مقبولیت کو۔
میری ناقص رائے کے مطابق، لیڈر وہی ہوتا ہے جس کا کردار حالات کے دباؤ میں بھی نہ بدلے۔ کردار ہی قیادت کی خاموش طاقت ہے جو وقت کے ساتھ بلند آواز بن جاتی ہے۔ یہ تحریر میری ذاتی رائے اور مطالعے پر مبنی ہے، جس سے اختلاف ہر قاری کا حق ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں