ونیزویلا کے سابق صدر نکولیس میڈورو نیو یارک کی جیل میں ٹرائلز کا سامنا کر رھے ھیں۔ صدر نکولس سے قبل یوگو شاویز وینیزویلا کے صدر تھے، ان پر بھی یہی الزام تھا کہ آمر ھیں اور ونیزویلا کے وسائل کو لوٹ رھے ھیں۔انکی وفات کے بعد نکولیس ماڈورو پر بھی آمر ھونے کا الزام تھا اور وھاں کے مقامی لوگ ان پر یہ الزام لگاتے ھںیں اور وھاں کی آپوزیشن مسلسل امریکا سے رابطے میں تھی چاھتی تھی کی امریکہ انکی مدد کرے اور نکولیس آمر سے انکی جان چھڑائے۔ یہ ایسی ھی مدد ھے جس طرح ھسپانویوں نے مسلمانوں کو مدد کے لئے بلایا تھا کہ ھماری ظالم ھسپانوی بادشاہت سے جان چھڑائی جائے۔ یہ بلکل ایسی ھی مدد ھے جسطرح ایرانی عوام امریکا اور اسرائیل کو مدد کے لئے بلا رھے ھیں۔ قدرتی وسائل پر قبضہ بھی ایک اھم ایشو ھے مگر عوام کو قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ چاہئے ھوتا ھےیعنی انسانی عظمت ، بولنے ، جینے اود رھنے کی آزادی ۔انسان سماجی آزادی اور شخصی آزادی چاھتا ھے جو نکولس نے وونیزویلا کے عوام سے چھین رکھی تھی۔
نکولس کے تیل کے خریدار اور نام نہاد دوست( چین اور روس)نکولس مادورو کی گرفتاری پہ چپ رھے، چین نے بات چیت کی حد تک ھلکا پھولکا احتجاج کیا تھا مگر نکولس کے ساتھ وفادار نہیں رھے۔ نکولس وھی تیسری دنیا کے راھنماؤں والی آکڑ اور پھوں پھاں میں ھی مبتلا رھا اور طاقت کے سمندر میں مگر مچھ کے ہتھے چڑھ گیا۔ اب مگر مچھ کا شکنجہ اتنا سخت ھے کہ اسکے جکڑبند سے چھوٹنا ناممکن ھے۔ نکولس طاقت کے نشے میں امریکا کو للکارتا رھا اور اسے معلوم ھی نہیں تھا کہ جب امریکہ کا شکنجہ تنگ ھو گا تو کوئی بھی اسے چھڑانے نہیں آئے گا۔ نکولس کو چاھیے تھا کہ وہ بھی چین اور روس کی طرح اپنے اور اپنے ملک کے مفاد کو ترجیح دیتا اور امریکیوں سے خفیہ طور پر بات چیت کر لیتا مگر یہ بھی تیسری دنیا کے لیڈروں والی اکڑ کی بھنیٹ چڑھ گیا۔ کیا نکولس کو اندازہ تھا کہ امریکا کتنا طاقتور ھے اور یہ اسکا مقابلہ نہیں کر پائے گا، مجھے نکولس مادورو کی عقل پہ شک پڑتا ھے، پنجابی میں کہتے ھیں کہ لمبے کی عقل اسکے ٹخنوں میں ھوتی ھے، کاش نکولس بھی ٹخنوں سے نہیں دماغ سے کام لیتا،کاش نکولس بھی چینیوں اور روسیوں کی طرح اپنے اور اپنے ملک کے مفاد کو ترجیح دیت تو آج نیو یارک کی جیل میں نہ بیٹھا ھوتا۔ نکولس جی ابھی بھی امریکہ سے بات چیت کر لو اور اپنے عوام اور ملک کا خیال کرو۔ اٹھارہ سو ستاون میں ھمارے بھی جذباتی ھیرو منگل پانڈے برطانوی سامراج سے بات چیت کی بجائے پھانسی کے پھندے پر چڑھ گئے جس وجہ سے ھم نوے سال مزید انگریز کی غلامی میں چلے گئے۔
نکولس جی بات چیت کا رستہ اپنائے اور ضد اور ھک دھکے باز ی سے دور رھیئے پلیز۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں