آن لائن فریب/ علی عباس کاظمی

اگر آن لائن کمائی واقعی اتنی ہی آسان ہوتی جتنی آج فیس بک پوسٹس اور یوٹیوب ویڈیوز میں دکھائی جا رہی ہے تو اس ملک میں کوئی نوجوان بیروزگار نہ ہوتا۔ نہ ہاتھ میں ڈگری لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا، نہ گھر میں بیٹھ کر ماں باپ کے طعنے سنتا اور نہ پانچ پانچ ہزار کے کورس خرید کر یہ سوچتا کہ شاید اس بار قسمت بدل جائے گی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسی کہانی پر یقین کر چکے ہیں جو حقیقت کم اور کاروبار زیادہ ہے۔

آج فری لانسنگ ایک سکل نہیں۔۔۔ ایک بیانیہ بن چکی ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو ہر اس شخص کے لیے تیار کیا گیا ہے جو مایوس ہے، بےروزگار ہےیا شارٹ کٹ چاہتا ہے۔ اس بیانیے میں محنت کا ذکر نہیں، ناکامی کا ذکر نہیں، ریجیکشن کا ذکر نہیں۔چمکتی گاڑی، اپنا گھر اور آزاد زندگی کا لالچ دے کر وہ استاد مسکرا کر یقین دلاتا ہے کہ ایک کورس کے بعد سب کچھ خود بخود مل جائے گا۔

سچ یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کو کام نہیں بیچ رہے۔۔۔ یہ آپ کو امید بیچ رہے ہیں اور امید سب سے زیادہ وہی خریدتا ہے جس کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کورس نہ امیروں کے لیے ہوتے ہیں، نہ پہلے سے سیٹ لوگوں کے لیے۔ یہ خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں جو سسٹم سے تنگ آ چکے ہیں اور کسی بھی کہانی پر یقین کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

ہر استاد کی ایک کہانی ہے، مگر کسی کے پاس مکمل سچ نہیں۔ کوئی نہیں بتاتا کہ اس نے کتنے مہینے بغیر کمائی کے گزارےاور کتنی بار ریجیکٹ ہوا۔ کوئی نہیں بتاتا کہ آج بھی اگر کورس بیچنا بند کر دے تو اس کی اپنی آمدن کیا رہ جائے گی۔ کیونکہ یہ سوال پوچھ لیے جائیں تو پورا کاروبار بیٹھ جاتا ہے۔

یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مارکیٹ میں کام ہی کام ہے، صرف سکل چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ میں کام کم اور سکل بیچنے والے زیادہ ہیں۔ ہر شخص وہی سکھا رہا ہے جو کل خود سیکھا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہزاروں لوگ ایک ہی سروس لے کر ایک ہی جگہ کھڑے ہیں، ریٹس گرا رہے ہیں، ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں، اور پھر حیران ہو رہے ہیں کہ کام کیوں نہیں مل رہا۔

یوٹیوب آٹومیشن اس جھوٹ کی بہترین مثال ہے۔ AI کے نام پر لوگوں کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ اب محنت کا دور ختم، مشینیں پیسہ کمائیں گی۔ مگر یوٹیوب کوئی خیراتی ادارہ نہیں۔ وہ ویلیو کو پیسے دیتا ہے، شارٹ کٹ کو نہیں۔ جب پلیٹ فارم نے صفائی کی تو سب سے پہلے وہی لوگ نکلے جو کورس کر کے بیٹھے تھے۔ کورس بیچنے والے؟ وہ اگلے ٹرینڈ پر شفٹ ہو چکے تھے۔

یہی کہانی ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈراپ شپنگ، کرپٹو اور کل کسی اور نئے نام سے دہرائی جائے گی۔ نام بدلتے رہیں گے۔۔۔ فریب نہیں بدلے گا۔ ہر بار ایک نیا خواب، ایک نیا کورس، ایک نئی فیس اور آخر میں وہی مایوسی۔

سب سے خطرناک بیانیہ یہی ہے کہ نوجوان کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ تعلیم بے کار، مطالعہ وقت کا ضیاع اور نوکری عزتِ نفس کے خلاف ہے۔ یہ باتیں وہی لوگ پھیلاتے ہیں جن کے پاس خود نہ ڈگری ہے، نہ مستحکم کیریئر، مگر زبان بہت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بغیر بنیاد کے کوئی بھی آن لائن کیریئر کھڑا نہیں ہوتا۔ سکل، تعلیم اور تجربہ تینوں ساتھ چلیں تو ہی بات بنتی ہے۔

آن لائن کام ممکن ہے۔۔۔ مگر سب کے لیے نہیں۔ یہ جملہ کوئی کورس والا آپ کو نہیں بتائے گا، کیونکہ اس سے اس کی سیلز رک جاتی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں بتائے گا کہ کامیابی کا کوئی ٹائم فریم نہیں، کوئی گارنٹی نہیں اور کوئی سیدھا راستہ نہیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ ہار جاتے ہیں اور وہی چند لوگ بچتے ہیں جو خاموشی سے، ضد کے ساتھ، سالوں لگاتے ہیں۔

اس ساری کہانی میں سب سے سستا مال انسان کی خودداری ہے۔ وہ پانچ ہزار دے کر نہیں، اپنی عزت نفس دے کر فریب کھاتا ہے۔ وہ ہر نئی پوسٹ پر خود کو ناکام سمجھتا ہےاور یہ سوچتا ہے کہ شاید مسئلہ اس میں ہی ہے، حالانکہ مسئلہ پورا سسٹم ہے۔

julia rana solicitors london

آن لائن دنیا میں بھی اصول وہی پرانا ہے۔۔۔ شور نہیں۔۔۔ کام۔شارٹ کٹ نہیں۔۔۔ مستقل محنت اور اسی حقیقت کو تسلیم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ جو واقعی کما رہے ہیں وہ پس منظر میں رہتے ہیں، جبکہ منظرِ عام پر زیادہ تر فروخت کنندہ موجود ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا بہت سے نقصانات سے بچا سکتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply