ضد ، بحث اور ہٹ دھرمی کی گرما گرمی/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

گڈو کی امی حلوے کا چمچہ لئے کھڑی گڈو کے منہ میں ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کر چکی تھیں۔ انہوں نے غصے اور الجھن پر قابو پاتے ہوئے انتہائی لجاجت کے ساتھ بیٹے سے کہا “بیٹےمنہ کھولو، دیکھو میں نے تمہاری پسند کا مزے دار حلوہ بنایا ہے۔۔ لو شاباش، ایک چمچ کھا کر دیکھو تم اسے کھاتے چلے جاؤگے”مگر گڈو نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ سختی سے منہ بھینچ لیا۔ گڈو کے بابا ظریف الطبع تھے، ہنستے ہوئے کہنے لگے، ” ارے بھئی یہ ہماری تربیت ہی تو ہے کہ گڈو بڑوں کے سامنے اپنا منہ نہیں کھول رہا”۔ “آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے اور ہمارے دم پہ بنی ہوئی ہے کہ گڈو صبح سے بھوکا ہے”۔
گڈو کی امی اس کی منت سماجت کر رہی تھیں مگر گڈو تھا کہ رٹ لگاۓ جا رہا تھا کہ میں نے کھانا نہیں کھانا۔ اس نے رو رو کے برا حال کر لیا تھا۔ لیکن ضد کی وجہ سے کچھ بھی کھانے کو تیار نہ تھا۔ اسے بری طرح بھوک ستا رہی تھی اور وہ سب گھر والوں کو بری طرح ستا بھی رہا تھا اور اول فول سنا بھی رہا تھا۔ نرمی اسے منانے میں کام آ رہی تھی نہ ڈانٹ ڈپٹ کا اس پر کوئی اثر ہو رہا تھا۔ سب ہار گئے، بالاخر سب نے یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دئے کہ اس کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا جاۓ اور جب یہ رونا بند کرے گا تو اس کی ضد بھی ختم ہو جائے گی۔ ایسا ہی ہوا گڈو روتے روتے ہلکان ہو کر بغیر کچھ کھاۓ پئے سو گیا۔ اکثر گھروں میں بچوں کی ضد کے آگے بڑے بڑے سورما اپنے آپ کو سر نگوں کر دیتے ہیں، جتنا بچوں کو بہلایا جاتا ہے وہ اتنے ہی ضدی اور باغی ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ضرورت سے زائد لاڈ پیار بچوں کو اتنا بگاڑ دیتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر بھی کسی کی نہیں سنتے۔ سنیں بھی تو کیسے؟ بڑے ہونے کی دیر ہوتی ہے تو کانوں پہ ایئرفون لگ جاتے ہیں اور پھر ان کی ہمہ تن گوش ہونے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ أپ کچھ بھی ان کے گوش گزار کریں وہ یا تو سنی ان سنی کر دیتے ہیں یا ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ بچوں کی فرمائشیں بھی انوکھی ہوتی ہیں اور اگر وہ لاڈلے بھی ہوں تو انکی ضد کو پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک گیت بھی مشہور ہے کہ “انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند”. اولاد کے لئے تارے توڑ کر لانے والے اتنا بھی نہیں کر پاتے کہ اپنے لاڈلے چاند کے کھیلنے کے لئے چاند توڑ کے لے آئیں۔
ضدی پن، کسی بات پر اڑ جانے اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کا نام ہے۔ کچھ لوگ مفاہمت پسند ہوتے ہیں اور دوسروں کے پاؤں پڑ کر بات منوانا ان کا کام ہوتا ہے۔ ضد انسان میں ہی نہیں حیوان میں بھی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے گھوڑے کو ایڑ لگائی جاۓ اور گھوڑا بھاگنا نہ چاہے تو وہ یا تو بدک جاتا ہے یا اڑیل ٹٹو بن جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہم نے اس زمانے میں بارہا کیا جب ہمارے شہر میں تانگے چلا کرتے تھے۔ کوچوان گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لئے چابک کا ظالمانہ استعمال اس طرح کرتا تھا جیسے وہ جاندار جانور نہیں کاٹھ کا گھوڑا ہو۔ گھوڑا ہنٹر سے پٹنے کے باوجود اپنی جگہ سے ہل کر نہیں دیتا، جیسے وہ سڑک پر نہیں، اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو۔ ذیادہ مار پیٹ ہونے پر وہ اپنی دو لتی رد عمل کے طور پر تانگے کے اگلے حصے پر مار کر اپنے غصے اور ضد کا اظہار کرتا تھا۔
عمومآ ضد صرف گھروں کا ہی پریشان کن مسئلہ نہیں، بلکہ ضد اور میں نہ مانوں کی عادت ہمارے ملک و معاشرے میں ایک روائت کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اپنی بات پر ڈٹے رہنا اور اپنے موقف میں کسی صورت بھی لچک پیدا نہ کرنا ایسا فعل ہے جو اکثر تنازعے اور مخالفت کا باعث بنتا ہے اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ نرم دلی، آپس داری اور مفاہمت اس ضد کی ضد ہوتی ہے۔
ضد ایک ایسے ذہنی رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جس میں دوسرے کے نقطہ نظر سے اتفاق نہ کرنے اور اپنی مرضی کو دوسرے پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ویسے بھی کچھ لوگ علی الاعلان کہتے پھرتے ہیں کہ ہمارا من ہماری مرضی۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ایسے من مرضی یا من موجی مریضوں کا ڈاکٹروں کے پاس بھی کوئی علاج نہیں ہوتا۔ اس سے بڑھ کر قابل افسوس بات یہ ہے کہ دیگر مکاتب فکر کے علاوہ ضد پر اڑ نے والوں میں ہمارے سیاست دانوں اور حکومتی کار پردازوں کا ستارہ خوب چمک رہا ہے۔ان کے دماغ میں کوئی بات بیٹھ جاۓ تو دنیا ادھر سے ادھر ہو جآۓ، وہ اس سے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ شائد ہماری سیاست اور قیادت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کا مزاج ایسے سانچے میں ڈھل گیا ہے، جس سے نکلنا مشکل نظر آرہا ہے۔ مانا کہ پچھلی حکومتوں کا طرہ امتیاز ضد اور سخت مزاجی تھا۔ چھوڑیں ان کو کہ رات گئی بات گئی۔ اب کون سے سیاست دان محبت و چاہت کا مرقع ہیں۔ اب بھی بہت سے معاملات میں ہمارے مقدر بدلنے والے سیاسی لوگ اپنی ضد اور تکرار کو بدلنے کو تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ زمانے کے انداز بدلے گئے۔ لیکن ضد اور من کے پکے سیاسی گائیک اب بھی پکے راگ دادرہ کو چھوٹے یا بڑے غلام علی کی طرح گائے چلے جا تے ہیں اور میں نہ مانوں کی رٹ لگانے والے ضدی سامعین بھی جھوم جھوم کر سر دھنتے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بھی کھلاؤ ورنہ کھیل بھی مٹاؤ۔ لوگ ضد الاضداد پر حیران و پریشان ہیں کہ انتخابات میں کم نشستیں جیتنے کے نتیجے میں، جب قومی سطح پر بننے والی حکومت کی مذاکراتی ٹیم دوسری جماعتوں کی منت سماجت کر کے حکومت میں شامل کرنا چاہتی ہے تو کسی قابل عمل حل تک پہنچنے کے لئے اسے اتنے زیادہ پاپڑ بیلنے پڑے پیں کہ پاپڑ بیچنے والوں نے بھی کبھی نہ بیلے ہوں گے۔ ضد اور شرائط منوانے کے لئے خبط کی کشتی کو دو دریاوں کے پار اتارنے کے لئے ایک دوسرے کی خوشامد، تواضع، وعدے وعید، منت سماجت اور راضی ناموں کے کئی طوفانوں، گرداب اور پانیوں کی مزاحمانہ لہروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تب جاکے کشتی غرق ہونے سے بچتی ہے۔ لیکن شاد باد منزل مراد پر پہنچنا پھر بھی باقی رہتا ہے۔ ضد اور انا کے یہ حیلے، پتھر کے کسی ٹیلے کی طرح اٹوٹ بن جاتے ہیں۔ ان کے موم ہونے کے لئے کئی اور مدارج درکار ہوتے ہیں، شائد قطرہ قطرہ دریا ہوتا ہے، کی مصداق مراحل طے ہوتے ہیں تو بات بنتی ہے۔ اور یہ سب کچھ مرضی سے نہیں، بلکہ ملک کے عظیم تر مفاد میں ہو تا ہے۔ سب کہتے ہیں ہمیں اقتدار درکار نہیں، مگر ہر دم وہ حکومت میں شامل ہونے کو تیار رہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اقتدار سونے کا سنگھاسن نہیں کانٹوں کی سیج ہے۔ جس نے اس کا مزہ چکھا وہ بھی پچھتایا اور جس نہیں چکھا وہ بھی پچھتایا۔
ضد صرف ہمارا ہی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے پذیرائی حاصل ہے۔ سب سے پہلے ہمسائے ملک کی مثال لے لیتے ہیں۔ بھارت نے کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ظلم و بربریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ انہیں حق راے دہی دینے کے حق میں نہیں۔ وہ سلامتی کونسل کی قرا دادوں کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ ہٹ دھرمی کا مظایرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے ہندو آبادکاروں کو وادی میں بسا رھا ہے۔ علاوہ ازیں بابری مسجد کے انہدام اور اس کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی ضد میں دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کو کو متشددانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اب تک اسرائیل ہولناک بمباری سے فلسطینیوں کے گھروں، بازاروں ہسپتالوں اور پناہ گایوں کو تباہ کر چکا ہے۔ تقریبآ پچاس ہزار سے زائد مرد، عورتیں، بچے اور مریضوں کو شہید کیا جا چکا ہے وہ ان جارحانہ اقدامات کو اپنے دفاع کا حق قرار دے رہا ہے، اور اپنی ضد کو برقرار رکھتے ہوۓ عالمی عدالت انصاف، حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ، ہلال احمر اور ڈبلیو ایف او کی اپیلوں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہا۔ یہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بری شکل ہے۔ اسی طرح عالمی طاقتیں جن میں امریکہ، یورپی یونین، اور دیگر مغربی ممالک شامل ہیں، ضدی پن اور اپنی ہٹ کے پکے ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ اللہ کرے ہم سب، ضد بحث کو چھوڑ کر آپس داری، محبت، روادای، دلی یگانگت اور افہام و تفہیم سے اپنے چھوٹے بڑے تمام معاملات کو حل کرلیں جو ایک عرصے سے معرض التوا میں ہیں۔ آمین۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply