کیا پاکستان آئیڈل فلاپ ہو گیا؟- نعیم ہیری

جب پاکستا ن ا ٓئیڈل کا آغاز ہواتو پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پوری دُنیا میں اسکی صدا گونجی۔ اُردو، پنجابی اور ہندی بولنے والوں کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ پروگرام کے آغا ہی سے سوشل میڈیا پر اس کا ری ایکشن بہت خوش آئند تھا۔ بعض لوگ بےانتہا خوش تھے، بعض اسکی کامیابی کی دُعائیں کر رہے تھے اور بعض اس پر مثبت اورتعمیری تنقید کر رہے تھے۔ پاکستان آئیڈل کے بعض فین تنقید کرنے والوں سے ناراض تھے اور انہیں کسی بھی قسم کی تنقید سے باز رہنے کی تلقین کر رہے تھے یعنی ہرطرف پاکستان آئیڈل کے چرچے تھے اور اسی پروگرام کے متعلق چہ مگوئیاں دن رات جاری رہتیں۔

پاکستان آئیڈل کی ٹیم نے محنت بہت کی اور سات ہزار سے زیادہ بچوں میں تھوڑےسے بچے سیلکٹ کئے گئے اور یہ انتخاب کافی معیاری تھا۔ پاکستان آئیڈل میں فوک،کلاسیکی، نیم کلاسیکی، گانے، کافی اور غزل گانے والوں کا انتخاب کیا گیا اور تمام مقابلہ میں حصہ لینے والوں نے بھی بہترین طریقے سے کنٹری بیوٹ کیا۔ہرگلوکار ایک سے ایک بڑھ کر تھا۔

مقابلہ میں حصہ لینے والے بچے فواد خاں اور تنویر آفریدی کے اخلاق کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ فواد خاں موسیقی میں تو مہارت نہیں رکھتے مگر اداکاری کے وہ کاری گرہیں۔ شکل بھی خُدانے خوبصورت دی ہے اس لئے سوپر بسکٹ والوں نے پاکستان آئیڈل کی مارکیٹ ویلو کے لئے انہیں بھی ججز کے پینل میں بٹھایا ہوا تھا۔ پینل کی خوبصورتی تھے فواد خان۔

پاکستان آئیڈل کے تین اہم حصے تھے:

1: مقابلے میں حصہ لینے والے بچے

2: میوزک ڈائریکٹر

3: ججز

پاکستان آئیڈل کے بالکل آغاز میں گانے اور کنٹیسٹنٹ کوالٹی وائز بہت معیاری تھے مگرمیوزک اچھا تھا مگر نہایت ہلکا تھا، یعنی گانے کی بیک گراؤنڈ میں بھرواں میوزک نہیں تھا جس وجہ سے بچوں کی پرفارمنس پہ بہت اثر پڑا۔ لیکن سوشل میڈیا پر تنقید کےبعد میوزک ڈائریکٹر تبدیل کیا گیا اور مزید میوزیشنز بھی شامل کئے گئے جس سےمیوزک کی کوالٹی اور معیار ایک دم اوپر گیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان آئیڈل کی انتظامیہ بہت حساس تھی۔

ججز کا پینل پاکستان آئیڈل کے آغاز ہی سے تنقید کا نشانہ بنا رہا، راحت فتح علی خاں کے علاؤہ تینوں ججز شدید تنقید میں رہے۔ کہتے ہیں کہ بلال مقصود ایک بینڈ چلاتےرہے ہیں اور گٹارسٹ ہیں، ایک دو بار انہیں فیس بک پر پیانو کے ساتھ اپنا کوئی ٹریک سناتے دیکھا تو یہ ڈھنگ سے پیانو نہیں بجا پا رہے تھے اور پیانو کے ساتھ بھی ان سےگایا نہیں جا رہا تھا اور یہ جج کا حال تھا۔

زیب بنگش ماشا اللہ خوبصورت خاتون ہیں، کہتے ہیں استاد مبارک علی خاں کی شاگردہ تھیں مگر کچھ demonstrate کر کے نہیں دکھایا۔ فواد صاحب بس ایسے ہی تھے۔ راحت خاں صاحب کے سامنے یہ تنیوں جج بونے لگتے تھے۔ راحت جی کی وجہ سے پاکستان آئیڈل کا معیار برقرار رہا ورنہ خدا نخواستہ۔۔۔۔۔

پاکستان آئیڈل کے آغاز ہی سے میری یہ آبزرویشن تھی کہ کنٹیسٹنٹ ججز سے بہتر ہیں اور بعض اوقات میں سوچتا کچھ بچے جج کی  پوزیشن پہ بیٹھنے کے لائق ہیں، بچوں اور ججز کے اس imbalance کی وجہ سے پاکستان آئیڈل کی پیشکش اور کوالٹی کوشدید نقصان پہنچا۔

پاکستان آئیڈل سوپر بسکٹ کی پیشکش تھی اور وہی اس پروگرام کو سپانسر کر رہےتھے۔ سوپر بسکٹ والے پاکستان آئیڈل میں صرف بسکٹ نہیں بیچ رہے تھے وہ اس پروگرام میں میوزک کے ذریعے بسکٹ کی مارکیٹنگ کر رہے تھے،پاکستان آئیڈل کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ پاکستان آئیڈل خوب صورت اور مقبول چہروں سے مقبول ہوگا لیکن content کی کوالٹی کسی بھی پروڈکشن کی جان ہوتی ہے۔ میرے مشاہدے کےمطابق پروگرام کے وقت ججز distraction کا باعث تھے کیونکہ فواد، زیب اور بلال بچوں کی پرفارمنس پر چہرے پر وہ تاثرات نہیں دے پاتے تھے جیسے راحت فتح علی دیتے تھے۔ اکثر اوقات فواد ایسے behave کرتے تھے جیسے انہیں بچوں کی پرفارمینس کی پیچیدگیوں کی سمجھ ہی نہیں آ رہی تقریباً یہی حال زیب اور بلال کا تھا۔ میرے خیال میں اگر ججوں کی شکلوں کی بجائے انکے کام اور کوالٹی کی بنا پہ انہیں رکھا جاتا توپھر کچھ اُمید کی جا سکتی تھی مگر افسوس انتظامیہ نے کسی کی نہیں سنی اور وہ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے اور پاکستان آئیڈل قربان ہو گیا۔

julia rana solicitors london

پاکستان آئیڈل دیکھتے ہوئے میں یہ بھی سوچتا تھا کہ کیاپاکستان آئیڈل کیساتھ پاکستانی میوزیکل لیجنڈز کی دُعائیں اور نیک خواہشات ہیں، میرے خیال میں پاکستان آئیڈل میوزیکل اساتذہ کی دُعاؤں سے کسی حد تک محروم رہا، اسی وجہ سے   ہچکولے کھاتا چلتا رہا۔ لیکن پاکستان آئیڈل نے اتنے کم وقت میں کتنے فنکار متعارف کرائے اور پاکستان آئیڈل کے پلیٹ فام نے انہیں پہچان اور نام دی۔ شکریہ پاکستان آئیڈل

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply