ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسسز/سلیم زمان خان

اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسیوں کے لیے ایک اہم اور لمحہ فکریہ!

دوستو، آج ایک ایسے موضوع پر بات کرنا ضروری ہے جسے ہم عموماً “شرم” یا “خوف” کی وجہ سے نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن اب یہ خاموش قاتل ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں HIV/AIDS کے کیسز میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، وہ ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

(متاثرہ علاقے)
حالیہ ڈیٹا کے مطابق، اب یہ وائرس صرف پسماندہ علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز F-6, F-7, F-10, E-11 اور DHA جیسے علاقوں کے پڑھے لکھے نوجوان اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ راولپنڈی میں اڈیالہ جیل اور گنجان آباد علاقے ہاٹ اسپاٹس بن چکے ہیں۔

سب سے زیادہ خطرے میں کون ہے؟
حیران کن اور افسوسناک بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا گروپ 18 سے 30 سال کے نوجوان ہیں۔ ہماری نسل کا مستقبل اس موذی مرض کی لپیٹ میں ہے۔

پھیلاؤ کی 3 بڑی وجوہات (ترجیحی بنیادوں پر):
1️⃣ غیر محفوظ طرزِ زندگی: پوش علاقوں میں نوجوانوں کا غیر محفوظ جنسی تعلقات میں ملوث ہونا اس وقت اسلام آباد میں پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔
2️⃣ منشیات کا استعمال: انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد کا ایک ہی سرنج شیئر کرنا دوسری بڑی وجہ ہے۔
3️⃣ طبی غفلت: عطائی ڈاکٹروں کی سوئیوں کا دوبارہ استعمال، حجام (Barbers) کے پرانے بلیڈز اور بیوٹی پارلرز کے غیر معیاری آلات۔

اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
* آگاہی: اس مرض کو چھپانے کے بجائے اس کے بچاؤ پر بات کریں۔
* احتیاط: ہمیشہ نئی سرنج کا مطالبہ کریں اور حجام کے پاس اپنا بلیڈ یا ٹول کٹ استعمال کریں۔
* ٹیسٹ: اگر آپ کو ذرا بھی شک ہو تو فوری طور پر کسی مستند ART سینٹر (جیسے پنڈی میں بینظیر بھٹو ہسپتال) سے مفت ٹیسٹ کروائیں۔
یاد رکھیں، HIV چھونے، ساتھ بیٹھنے یا کھانا کھانے سے نہیں پھیلتا، بلکہ یہ ہماری “لاپرواہی” سے پھیلتا ہے۔ آئیے اپنے شہروں کو محفوظ بنائیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply