نیاسال ، عزائم اور ادھورے خواب
تحریر: احمد شہزادنیا سال آتے ہی خوابوں کی ایسی بارش ہوتی ہے جیسے بجٹ کے موقع پر حکومتی خوش کن اعلانات ، یوں ذہن کے گوشوں سے کچھ پرانی اور دیرینہ خواہشات بھی انگڑائی لیتے ہوئے بیدار ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں کچھ پرانے اور ادھورے خوابوں پر بھی ٹاکی شاکی مار کے انہیں پورا ہونے کےلیے لائن میں لگا دیا جاتا ہے ، نیا سال اُمیدوں کی نئی پٹاری اور کلینڈر بدلنے کی خوشی بھی لاتا ہے۔اس سال “یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا ” یعنی ارادوں کے غازیوں کی ایک نئی داستان کو جنم دیتا ہے ، نئے سال کا استقبال دراصل گزشتہ سال کی ناکامیوں پر ” مٹی پاؤ ” مہم کا آغاز ہوتا ہے۔
نئے سال کی آمد پر خاص طور پر خواتین کو اپنی دیرینہ خواہش پوری ہونے یعنی سِلم اور سمارٹ ہونے کا جنون زوروں پر ہوتا ہے ۔نئے ڈائٹ پلان کی تلاش شروع ہو جاتی ہے ، جوشِ جنون میں جِم کی فیس بھری جاتی ہے۔ چند دنوں میں سمارٹ کرنے والی ایکسرسائز اور یوگا کا سوچ کر پرانے “کامدار سوٹ” پہننے کی حسرت جاگ جاتی ہے ساتھ ساتھ آئینے میں خود کو نہ پہچاننے کا خواب بھی، ا یکسرسائز اور ڈائٹ پلان یعنی دن بھر بھوکا رہنا دوپہر کو صرف سلاد ، شام کو پھیکی گرین ٹی اور رات کو چکن سوپ پر دل و جان سے عمل پیرا ہوا جاتا ہے ، ایک ہفتے بعد جب ویٹ مشین کو دیکھا جاتا ہے تو کچھ خاص فرق نہیں پڑتا تو ایسے میں جسم کی طرف دیکھ کر حسرت سے آہ نکلتی ہے جبکہ وزن کہتا ہے ” میں رہنا تیرے نال نال ” جیسے ہی دو ہفتے گزرتے ہیں نقاہت زوروں پر محسوس ہوتی ہے اور سوچا جاتا ہے کہ کیا غلطی کر بیٹھے ہیں ؟
جسم فریادی ہے ہر پیکرِ تقصیر کا
جیسے جیسے وقت گزرتا ہے روایتی سُستی غالب آنا شروع ہو جاتی ہے ، جیسے ہی فرائی مچھلی یا گاجر کا حلوہ سامنے آتا ہے تو سارا ڈائٹ پلان دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے ، اور پھر وہی روٹین وہی ناشتے اور کھانے ، اللہ اللہ خیر صلا ۔
خواتین کا سارا سال جوڑوں کی ہائے ہائے میں گزرتا ہے یعنی جوڑوں کا درد سال کے آغاز میں ہی عود کر آتا ہے کہ “سالِ گزشتہ کے کپڑے ٹائٹ ہو گئے ہیں” یوں نئے کپڑے بنانے کا بہانہ مل جاتا ہے ۔ ایسے میں کسی برانڈ پر سیل کی اطلاع مل جائے تو صاحبِ خانہ کی جیب خالی ہی سمجھیں ۔ نئے سال کے وعدوں میں سب سے مظلوم وعدہ بچت کا ہے۔ تنخواہ آتے ہی اس کے ساتھ بڑے سنجیدہ مذاکرات کیے جاتے ہیں کہ کہاں کہاں استعمال کی جا سکتی ہے ؟جہاں باقی خرچے ہوتے ہیں وہاں بندہ کبھی کبھی سیر و تفریح کر کے دل پشوری بھی کرنا چاہتا ہے اس کے منصوبے بنائے جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی بجلی ،پانی اور گیس کے بل آتے ہیں نہ صرف بلبلانے کی نوبت آ تی ہے بلکہ مہینے کا آخر بڑبڑانے میں بھی گزرتا ہے ایسے میں بچت کا خواب بس خواب ہی رہ جاتا ہے ۔ بقول شاعر
لگا دیا ہے اسے ہم نے کارِ وحشت میں
وہ دل جس سے دھڑکنے کا کام لینا تھا
ہر سال یہ خواب دیکھا جاتا ہے کہ اس سال سورج ہمیں نہیں ہم سورج کو جگائیں گے لیکن جنوری کی سرد صبح جب الارم بجتا ہے تو اسے تھپکی دے کر سنوز snooze کر دیا جاتا ہے اور خواب میں خود کو وقت کاپابند دیکھ رہے ہوتے ہیں حقیقت میں نئے سال میں صبح بارہ بجے کے قریب شروع ہو رہی ہوتی ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ رات کو جلدی سونا عقل مندی ہے لیکن سردیوں میں بستر چھوڑنا خاصا کارِ دشوار ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ نیا سال پرانی غلطیوں کو نئے جوش کے ساتھ دہرانے کا نام ہے ۔ سارے خواب جنوری کے وسط بلکہ آخر تک ایسے ہی دم توڑ دیتے ہیں جیسے شادی کے بعد انسان کے ارمان۔
نہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی
حقیقت تو یہ ہے کہ سال بدل جاتا ہے مگر ہماری ” کل سے شروع کروں گا /گی” عادت نہیں بدلتی ۔ ہم ہر سال وہی پرانے ادھورے خواب نئے انداز اور نئی تاریخوں سے سجانے کے ماہر ہیں لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ خواب تو اچھے ہوتے ہیں لہذا دیکھتے رہیں اور خواب دیکھنے پرکوئی ٹیکس بھی نہیں ہے ۔شاید اور کچھ ہو نہ ہو لیکن تمغہء حُسنِ خواب تو سینے پر سجا سکتے ہیں۔
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند اُمیدیں
انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں