یہ 1971 کی بات ہے ہمارے والد مرحوم نے ہمیں میٹرک کے بعد راولپنڈی کے ایک معروف تجارتی مرکزموتی بازار میں کپڑے کی ایک دکان پر بطور سیلزمین بھرتی کروا دیا۔ انکا کہنا تھا کہ تعلیم کے تسلسل کے ساتھ ساتھ بزنس انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔ واقعتا ان کی بات صحیح نکلی۔ ہمیں کاروبار کا فائدہ اس طرح بھی پہنچا کہ ہم نے وقت پڑنے پرجزووقتی کاروبارکرنے کا ارادہ کیا تو تجربہ کام آیا، جس نے نا صرف نفع و نقصان سے اگاہی دی، بلکہ حسب حال گفتکو کا سلیقہ بھی سکھا دیا۔ کسی حد تک اچھے، برے انسان کی پہچان بھی کروا دی۔ کپڑے کی دکان پر کام کے دوران ہمیں پارچہ جات سے انسیت سی پیدا ہوگئی۔ کپڑے فروخت کرنے والے، خریداروں کی فہم سے بالا، سمجھ میں نہ آنےوالی جو زبان استعمال کرتے ہیں، اس سے بھی بخوبی آگاہی ہو گئی۔ ہم کپڑے کے تھان کو کبھی سینے کے ساتھ لگا کر لپیٹتے اور کبھی ایک ٹانگ کے گٹھنے پر دوسرا پیر رکھ کر کھلے کپڑے کو رولر پر لپیٹتے تو ہماری کپڑیائی شفقت اور کپڑوں کی کی ریشمی و مرمریں قربت نے ہمیں ان سلے کپڑوں سے ایسا مانوس کیا کہ وہ ہمیں بھانے لگے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ہم سے باتیں کر رہے ہوں۔ ہمیں ان کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ہم نے جلد ہی ناصرف تجارتی معاملات کے اسرار و رموز سے اگاہی حاصل کرلی، بلکہ پارچہ جات کے درمیان رہتے رہتے ان کی مخفی بولیاں بھی سمجھ آنے لگیں۔
ایک روز یہ ہوا کہ ہم نے صبح کے وقت دکان کے تالے کھولے تو دکان کے اندر کپڑوں کے درمیان تو، تو، میں، میں اور اپنے حقوق کے حصول کی جنگ کے لئے نوک جھونک اور نعرے بازی کا شور سنائی دیا۔ دکان میں جا بجا گل احمد، آدم جی، الکرم، نشاط، جوبلی، لارنس پور اور کوہ نور کے بینرز لگے دکھائی دئیے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پورے ملک میں کچھ عرصہ پہلے عام انتخابات ہو چکے تھے۔ مگر انتخابی ماحول اب بھی گرم تھا۔ اس لئے اسٹوڈنٹ یونین، ٹریڈ یونین، وکلاء، صحافتی و ادبی تنظیموں، الغرض ہر جگہ انتخابات ہو رہے تھے۔ کپڑے بھلا پیچھے کیوں رہتے۔
دیکھا دیکھی میں کپڑوں کو بھی اپنے انتخابات کروانےکا خیال آیا۔ یہ انتخابات چیف الیکشن کمشنرچیئرمین لٹھا کے زیرانتظام ہو رہے تھے۔ پریذیڈنٹ لٹھا صدر کا الیکشن لڑ رہے تھے۔ دونوں لٹھوں میں پہلے سے شدید اختلاف تھا۔ ایک لٹھا دوسرے لٹھے سے جھگڑرہا تھا۔ چیئرمین لٹھا نے کہا کہ جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں، اسی طرح ایک دکان میں دو لٹھے نہیں رہ سکتے۔ اس لئے پریذیڈنٹ لٹھے کو کسی دوسری دکان میں چلے جانا چاہئے۔ قریب تھا کہ دونوں لٹھم لٹھا ہو جاتے، مگر کچھ بزرگ پارچہ جات، کاٹن اورکیمرک نے بیچ بچاؤکروا دیا۔ اتنے میں پاپلین کا تھان اپنے خانے سے پھدکتا ہوا باہرنکلا۔ پاپلین مجلس عاملہ کی رکنیت کی امیدوارتھی۔ انہیں شکائت تھی کہ جب بھی کوئی خریداراسے پسند کرتا ہے تو ٹیفٹا الماری سے باھر نکل کر خریدار کے سامنے آ گرتا ہے اور خریدار منہ دیکھتے رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حرکت ہمارے اخلاقی اصول کے خلاف ہے، اسے ترک کر دینا چاہئے۔ نائلون نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی مگر اسے چپ کرا دیا گیا۔
اب باری تھی پرنٹڈ لان (آدم جی کی لان) کی۔ اس نے کہا کہ گرمیوں میں وہ الون، سب سےذیادہ پاپولر تھی، مگر موسم سرما کی وجہ سے وہ لونلی فیل کر رہی ہے۔ لیکن پھر گرمیوں میں میری مانگ دوبارہ بڑھ جاۓ گی اس لئے ضروری ہے کہ اسے جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پر منتخب کیا جاۓ۔ وائل نے یہ بات سنی توواویلا کرتی بھڑک اٹھی۔ وہ کہنے لگی کہ “میں تو ایسی ہوں کہ جس سے بنا ہوا لباس اے سی کی طرح ٹھنڈک دیتا ہے۔ اس لئے میں اس عہدے کی حقدار ہوں”، بھلا ململ کیوں خاموش رہتی, وہ جسامت میں منحنی اور عمر رسیدہ تھی, مگر گیتوں کی شوقین تھی، اس نے گنگنانا شروع کر دیا، ” میرا لال دوپٹہ ململ کا، ہو جی، ہو جی”۔ کسی کونے سے ایک شرارتی آواز آئی، “ بس کرو بی ململ تمہارا شو ختم ہو گیا ہے۔ اب تمہارا مصرف فقط ایک شمیز یا نماز کی ٹوپی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اس لئے تم چپ رہو تو بہتر ہے” ۔ اس کے بعد ساٹن صاحبہ میدان میں آ گئیں، ‘ وہ ریشم ریشم کردی آپے ای ریشم ہوئی’، اس وجہ سے وہ بار بار پھسلے جا رہی تھی۔ ایسے میں لیڈی ہملٹن نے اگے بڑھ کر انکا ہاتھ تھام لیا۔ سب پارچہ جات نے لیڈی ہملٹن کے اس جذبے کی بھر پور تعریف کی اور پوری دکان کپڑوں کی تالیوں سے گونج اٹھی۔ کریپ کو لیڈی ہملٹن کی اتنی پذیرائی اچھی نہ لگی مگر وہ خاموش رہی۔ وہ جنرل سیکریٹری کے عہدے کی امیدوار تھی۔
اتنے میں با ادب، با ملاحظہ، ہوشیار کی آواز آئی۔ دیکھا تو مغل اعظم کلاتھ جگمگ کرتے ، لاہور کی اعظم کلاتھ مارکیٹ سے کروفر کے ساتھ تشریف لے آۓ۔ وہ تختہ نشین ہونے کی بجاۓ شوکیس میں جلوہ افروزہو گئے۔ ان کے دائیں بائیں ابریشم اور اطلس کا لباس پہنے ہوۓ دو دربان تھے۔ بروکیڈ ان کے پیچھے کھڑی پنکھا جھل رہی تھی۔ مغل اعظم انتخابات کا معائنہ کرنے آئے تھے۔ وہ تھوڑی دیر بعد وہ مہمان خانےنما اپنے مخصوص شیلف میں چلے گئے۔ انکے بعد مون لائٹ کا تھان اوپر کے شیلف سے نیچے آن گرا۔ یہ سیکریٹری نشرو اشاعت کا امیدوارتھا۔ کسی نے فقرہ کسا کہ وہ دیکھو عید کا چاند نکل آیا۔ انکے آنے سے پوری دکان جگرجگر کر اٹھی۔ ان کے پیچھے پیچھے ٹیشو تھی وہ بھی مجلس عاملہ کی رکن بننا چاہتی تھی مگر ٹیشو نے اپنا کوئی ایشو نہیں اٹھایا۔ تھوڑی ہی دیر میں دلہن کی طرح خوب بنی سنوری زربفت نے اپنی سہیلیوں سلک اور خاموش کے ہمراہ اپنی رونمائی کی۔ کمخواب بھی گھونگھٹ نکالے محفل کی رونق بڑھانے آگئیں۔ سب نے انکے حسن و جمال کی تعریف کرتے ہوئے ماشاء اللہ کہا۔ یہ دونوں الیکشن میں کھڑی نہیں ہوئی تھیں، اس لئے جہاں کھڑی تھیں وہیں بیٹھ گئیں۔
دکان کے شو کیس میں سجے ہوئے چند فارن آبزرورز دکان میں داخل ہوئے۔ ان میں جاپان کی “کے۔ ٹی- چار ہزار” اور” تہترسو تیس جارجٹ” تھی۔ ان کے علاوہ چائنا شنگھائی بھی انکے ساتھ دکھائی دیں۔ چکن کلاتھ فورآ ان سے ملاقات کرنے پہنچ گئیں، وہ دکھڑا رونے لگیں کہ ہمارا دکان دار بہت لا پروا ہے۔ اس نے اسے جس خانے میں رکھا ہوا ہے، وہاں پہلے سے چار خانے والی کیمرک موجود ہے۔ جگہ کی تنگی سے وہ بے آرام ہے اس لئے اسے کہیں اور شیلف میں شفٹ کر دیا جاۓ۔ اس کے بعد وہ کراہتے ہوۓ بولیں کہ” میرے خانے میں بہت سی کیلیں باہر نکلی ہوئی ھیں، جن سے میرا سینہ ہی نہیں، بلکہ پورا وجود چھلنی ہو گیاہے”۔ یہ کہتے ہوۓ وہ آبدیدہ ہو گئی۔ نرم و نازک اندام شیفون اور طاقتور جامہ ور فنانس سیکریٹری کا الیکشن لڑ رہی تھیں۔ لیکن شیفون نے جامہ ور کے حق میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا۔ اب دو بہنیں مخمل اور شنیل ایک ساتھ اپنے مخملیں دامن کو لہراتی، شوخیاں بکھیرتی اور لشکارے مارتی ہوئی آئیں اور کیٹ واک کرتی ہوئی ریمپ سے ہوتی ہوئی واپس چلی گئیں۔ ابھی یہ گئی ہی تھیں کہ چارسوتی نے پہلے چارسوچکرلگایا اور پھروہ موٹی سوئیوں کی شکائت کرتے ہوۓ گویا ہوئیں کہ وہ جس گھر میں بھی جاتی ہیں، وہاں کی خواتین انکے جسم پر سوئی دھاگوں کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں۔ اس طرح وہ ہمارا تن بدن زخمی کر دیتی ہیں۔ “ہم درد سہ سہ کر بیمار پڑ گئی ہیں، اس لئے ہمارا مفت علاج کروایا جائے۔
فلالین بولی ہم بیمار کپڑوں کے علاج کے لئے کوئی ہسپتال ضرورہونا چاہئے۔ لوجی اب کمالیہ کا کھدرآکھڑا ہوا۔ ان کی شکائت بھی کمال کی تھی. وہ کھردرے لہجے میں کہنے لگا کہ آج کل اسے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ انہیں بھی اوروں کی طرح فروخت کے مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ مارکین نے اپنی آنکھوں کے جھروکوں سے سارا منظردیکھا اورپھرطنز کرتےہوئے بولیں کہ جن جن کو دوسروں سے کوئی گلا ہے، بہتر ہے کہ ان کودکان بدر کردیا جاۓ۔ شیشہ نائلون اٹھیں اور پورے جلسےکی عکس بندی کرتے ہوۓ سب کپڑوں کو شیشے میں اتارنے لگیں۔ ٹسر نے ٹسوے بہاتے ہوئے کہا کہ اج کل اس کی طلب ختم ہو گئی ہے، کیونکہ اب ٹیٹرون کی شرٹ اور جینز کی پینٹوں کا زمانہ ہے۔ اس لئے وہ نا قدری کا شکارہوگئے ہیں۔ ہماری عزت کی بحالی کے لئے قدم اٹھاۓ جائیں۔ اب چھینٹ کا تھان نیچے اتر آیا، اس نے اپنے ضعف کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ “ ہم، عمر رسیدہ، دامن بوسیدہ مگر سرد و گرم’ چشیدہ تاریخی فیبرک کی حیثیت رکھتی ہیں، رپھڑا یہ ہے کہ ہمارے سب پھول بوٹے مرجھا تے جا رہے ہیں۔ وہ اب اینٹیک ہو چکے ہیں لہذا انکے لئے کوئی ایسا عجائب گھر قائم کیا جاۓ جس میں ہم جیسوں کو خوب صورتی سے سجا کر محفوظ کر دیا جاۓ”. پٹے کے کپڑے نے اپنے جیسے دوسرے دھاریدار کپڑوں کو پٹا کے اپنا ہم نوا بنالیا۔ اس نے اپنی دھاریوں کا واسطہ دیا اور چھینٹ کے چھینٹوں سے بچنے کے لئے خود بھی میوزیم کے الگ شوکیس میں جانے کے لئے درخواست کردی۔ اتنے میں ٹائی اینڈ ڈائی شرٹنگ کلاتھ ایک اعتراض کے ساتھ سامنے آگیا اس کا کہنا تھا کہ “چاہے ہمیں باندھا جاۓ یا ماراجاۓ ہم اپنےاس موقف سے دست بردار نہیں ہونگے کہ ہمارا نام اورڈیزائن تبدیل کیا جاۓ, کیونکہ ہم یہ برداشت نہیں کرسکتےکہ ہمارے جسم پربادل اورگھٹائیں برص کی طرح نظر آئیں۔ جینز ابھی تک پڑی سو رہی تھی، وہ بھاگم بھاگ حاضری لگوانے کے لئےموقع پر پہنچی۔ یہ فائنانس سیکریٹری کی امیدوار تھیں مگرزین ان کی پولنگ ایجنٹ کے طور پر وہاں موجود تھی۔ کیونکہ جینزتاخیر سے پہنچیں تھیں، اس وجہ سے وہ تقریر نہ کر سکیں۔ پلچھی نے انہیں تقریر کی اجازت دینے کی سفارش کی جو مسترد کر دی گئی۔
الیکشن کمشنر نے آرڈر جاری کیا کہ
انتخابات دو جماعتی بنیاد پر ہونگے۔ اس میں ایک جماعت کا انتخابی نشان گز ہوگا اور دوسری کا انتخابی نشان قینچی ہوگا۔ اور اگر کسی پارٹی کو اکثریت نہ ملی تو مخلوط انجمن بنے گی اوراس کا نام انجمن مخلوط پارچہ جات ہوگا۔ چنانچہ پرامن انتخابات شروع ہوگئے۔ نتیجہ حسب توقع نکلا۔ دکان میں کپڑوں کے ایک بھی گروپ کو اکثریت نہیں ملی۔ لہٰذا دونوں گروپس نے آپس میں اتحاد قائم کرکے انجمن مخلوط پارچہ جات کے راج کی راہ ہموار کرلی۔ مرینہ، جیکوارڈ عرف جیکارڈ، لائلہ اور پوستین نے الیکشن کی کامیابی اور انجمن کے جیتنے پر زور دار نعرے لگائے اورپھر سب ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنے اپنے خانوں میں چلے گئے۔ ان دنوں ہمیں اپنے شاعروادیب دوستوں کی محفلوں میں جانے کا شوق چرا رہا تھا۔ چنانچہ قلم کاری کے لئےمواد موزوں تھا کہ طبع آزمائی کروں۔ سو ہم نے جلدی جلدی انجمن مخلوط پارچہ جات کے انتخابات کی رپورٹ تیارکی اور اشاعت کے لئے ایک رسالے میں بھیج دی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں