• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عمران خان کے ننھیال پر قادیانیت کےجھوٹے الزام کا رد ثبوتوں کے ساتھ۔۔ہارون وزیر

عمران خان کے ننھیال پر قادیانیت کےجھوٹے الزام کا رد ثبوتوں کے ساتھ۔۔ہارون وزیر

سیاسی و دین فروش ملاؤں کے سرخیل فضل الرحمن کو جب اٹھارہ سال بعد بنگلہ نمبر بائیس سے عمران خان نے بے دخل کر دیا تو اس نے اور اس کے پیروکاروں نے اسے دل پر لے لیا۔
پہلی مرتبہ دو ہزار انیس میں کمشنر احمد حسن ولد منشی گوہر علی قادیانی کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا ۔۔۔کچھ نہیں بنا۔
پھر اسلام آباد دھرنے پہ بیٹھ گئے ۔ کچھ نہیں بنا۔ بلکہ الٹا بڑے بے آبرو ہو کر کوچہ اسلام آباد سے نکلے۔
لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری ۔
اب ایک مرتبہ پھر شیطان صفت کتوروں کو عمران خان کے پیچھے لگا دیا گیا۔ اللہ کا خوف نہیں ان میں۔ میں سب کو شیطان صفت نہیں کہہ رہا۔ شیطان صفت فقط وہ ہیں جنہوں نے یہ ساری گیم بنائی ہے۔ باقی ان کے وہ کارکنان جو ثواب کی نیت سے شیئر کر رہے ہیں۔ وہ جاہلین مطلق ہیں۔ وہ صمٌ بکمٌ عمیٌ ہیں۔ ان کی عقلوں پر تالے پڑے ہیں ۔ یہ کچھ نہیں جانتے۔
خدا کی قسم اب تو مجھے ان مذہب فروشوں سے گھن آنے لگی ہے۔ اپنےسیاسی و معاشی مفادات کے حصول کیلئے ہمیشہ مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔ جب دنیا کو دکھانا ہو کہ ہم تو بڑے معتدل ہیں تو عیسائی پادریوں ، کاردینالوں کو اجتماعات میں اپنے ساتھ سٹیج پر بٹھاتے ہیں ۔ لیکن جب کسی کی مخالفت کرنی ہو تو ایک راسخ العقیدہ مسلمان کو کبھی یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں کبھی شیعہ اور ایران نواز قرار دیا جاتا ہے ۔اور کبھی قادیانیت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ آپ کبھی ان کے فیس بک گروپس میں جھانک کر دیکھے۔ وہاں پر صبح شام ایک تقریر ہوتی ہے ۔ یہودی ایجنٹ ، قادیانی ایجنٹ۔ سیدھے سادے کارکنان کے ذہنوں کو صبح شام اسی ذکر سے زہر آلود کرتے رہتے ہیں۔ گٹر سے بھی گندی سیاست کرتے ہیں یہ نام نہاد ملا۔

ان نام نہاد ملاؤں کے کرتوتوں سے آپ سب خوب واقف ہیں اس لئے ان پر مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کی والدہ شوکت خانم کے والد کمشنر احمد حسن قادیانی تھا۔ انہوں نے جالندھر میں قادیانیوں کا پہلا مرکز بنایا تھا۔ کمشنر احمد حسن خان کا والد منشی گوہر علی مرزا غلام احمد قادیانی کے تین سو تیرہ اصحاب میں پندرھویں نمبر پر تھا۔ اس لسٹ کو بھی شیئر کرتے ہیں یہ لوگ جس میں منشی گوہر علی کا نام درج ہوتا ہے۔
ان ملاؤں کا طریقہ واردات بڑا فُول پروف تھا۔ ان کو پتہ تھا کہ کمشنر احمد حسن خان تک شوکت خانم کا خاندان ہر کوئی جانتا تھا۔ جا بجا حوالے موجود تھے۔ کمشنر احمد حسن سے پہلے کا کوئی حوالہ کم از کم معلوم یا معروف نہیں ہے۔ اس لئے انہوں منشی گوہر علی کو کمشنر احمد حسن کا والد قرار دیا ۔ ایک مزید خیال یہ بھی رکھا گیا تھا کہ ایسے شخص کو کمشنر احمد حسن سے جوڑا گیا تھا جس کا تعلق بھی جالندھر سے ہی تھا۔ اب عام لوگوں مغالطے کا شکار کرنے کیلئے اتنا کافی تھا۔ معاملہ ویسے بھی دینی تھا جس پر عام لوگ جذباتی ردعمل دیتے ہیں زیادہ سوچنے سمجھنے کو خیال نہیں رکھتے۔
اب میں آپ کو کمشنر احمد حسن کی بیٹی ، شوکت خانم کی بہن نعیمہ آپا کا اردو ڈائجسٹ شمارہ مارچ 2013 کو دیا گیا انٹرویو کا اقتباس دکھاتا ہوں ۔ اس شمارے کا لنک نیچے کمنٹ میں دے رہا ہوں آپ وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔
پڑھیں کہ وہ اپنے دادا کا نام منشی گوہر علی بتاتی ہیں یا کچھ اور۔
اقتباس ملاحظہ ہو

نعیمہ آپا
میری پیدائش جالندھر کے نامور پٹھان خاندان میں ہوئی۔ ہمارے خاندان کے کئی افراد نے کسی نہ کسی حوالے سے اہم سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے پاکستان کی خدمت انجام دی۔ میرے دادا “احمد شاہ خان” بحیثیت “سیشن جج” ریٹائر ہوئے۔ اپنے دور کے بے حد پڑھے لکھے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ یوں تعلیم و تدریس کا سلسلہ اپنے گھر سے ہی شروع ہوا۔ اسی درس تدریس والے ماحول میں رہنے کی وجہ سے مجھے سماجی کام کرنے کا موقع ملا۔ اسی ماحول نے مجھ میں خوداعتمادی پیدا کی اور مجھے آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ یوں مجھے علم کی طاقت کا اندازہ ہوا۔

میرے دادا ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آبائی گھر میں آگئے۔ انھوں نے پرانے گھر کی توسیع کی اور اسے حویلی کی شکل دی۔ جالندھر والا ہمارا گھر کئی کنال میں پھیلا ہوا تھا۔ گھر بڑا کرنے میں میرے ابا کے نیک مقاصد بھی شامل تھے۔ انھوں نے حویلی کو لڑکیوں کا سکول بنا دیا۔ اس علاقے میں لڑکیوں کا کوئی سکول نہ تھا۔ آج بھی اس سکول میں ۴ ہزار بچیاں زیرِتعلیم ہیں۔

میرے دادا کے ۳ بیٹے اور ۲ بیٹیاں تھیں۔ بچوں پر خاص توجہ کے نتیجے میں تینوں لڑکے تعلیم سے فراغت کے بعد بہت اچھے سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ بڑے بیٹے، شاہ زمان خان جالندھر میں آنریری مجسٹریٹ تھے۔ زمیندارہ کرتے اور سبھی کی زمینوں کے نگران بھی تھے۔ دوسرے نمبر پر “احمد حسن خان” صاحب میرے والدِ ماجد تھے جو میانوالی سے بحیثیت “ڈپٹی کمشنر” ریٹائر ہوئے۔ تیسرے نمبر پر محمد زمان خان تھے جو پوسٹ ماسٹر جنرل ڈاک خانہ جات رہے۔ انھوں نے لاہور کے علاقہ زمان پارک کی بنیاد رکھی۔ زمان پارک انہی کے نام سے منسوب ہے۔

میری والدہ کا نام امیربانو تھا۔ والدین کا آپس میں مہرومحبت کا تعلق تھا۔ دونوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔ ہم سب بہن بھائی اپنے والدین کے بہترین کردار کی گواہی دیتے ہیں کہ ہماری اچھی پرورش میں انہی کا ہاتھ ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات میں عام طور بیوی کو بہت زیادہ صبر اور برداشت سے کام لینا پڑتا ہے تاکہ گھر کا ماحول خوشگوار رہے۔ یوں امیربانو صبر کی بہترین مثال تھیں۔ ان کا خمیر صبر سے گندھا ہوا تھا۔ دوسروں کو صبر کی تلقین کرنا بہت آسان ہے مگر خود کرنا ازحد مشکل کام۔ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آسانی پیدا کی کہ ان کے خمیر میں صبر شامل کر دیا تھا۔

[to_like id=”14254″]
وہ بچوں پر بہت مہربان تھیں۔ نہایت پیاری اور شفیق والدہ تھیں۔ انہی کی تربیت تھی کہ ان کی بیٹیاں انتظام وانصرام میں ماہر مانی گئیں۔ انتہائی ذمے دار، بہترین اخلاق کی مالک، دوراندیش، عقل مند، مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھیں۔ ہم ۳ بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ سب سے بڑی بہن اقبال جن کے شوہر واجد علی کیرلی تھے۔ وہ صدرایوب کے دور میں وزیرِصحت رہے۔ خود ماہرِامراضِ چشم تھیں۔

دوسری بہن شوکت خانم ہیں جن کے میاں اکرام اللّٰہ سول انجنیئر تھے۔ مری کا گورنمنٹ ہائوس انھوں نے بنوایا تھا۔ شوکت خانم کے بیٹے عمران خان نے کرکٹ اور سیاست کے میدانوں میں شہرت پائی۔ بڑے بھائی احمد رضا خان تھے۔ جو پنڈی سے بطور کمشنر ریٹائر ہوئے۔ علی گڑھ کے تعلیم یافتہ تھے۔۔
مزید آپ کمنٹ میں دیئے گئے لنک سے شمارے کو ڈاؤنلوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ شوکت خانم کے دادا اور کمشنر احمد حسن کے والد کا نام منشی گوہر علی نہیں بلکہ سیشن جج احمد شاہ خان تھا۔ یہ کوئی سیکنڈ ہینڈ انفارمیشن نہیں بلکہ نعیمہ آپا کے ذریعے سے فسٹ ہینڈ اور چوبیس قیراط خالص انفارمیشن ہے۔

اب آتے ہیں منشی گوہر علی کی طرف ۔ منشی گوہر علی بالکل قادیانی تھا ۔ تین سو تیرہ اصحاب میں پندرھویں نمبر پر بھی تھا۔ اس کا تعارف قادیانیوں کے ویب سائیٹ پر موجود ہے ۔ وہ بھی آپ ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ یہ کون تھا ۔ اور اس کے بیٹوں میں کہیں کوئی کمشنر احمد حسن خان نام کا کوئی شخص تھا کہ نہیں۔
احمدیہ ہسٹری ویب سائیٹ کا اقتباس جوں کا توں ملاحظہ کریں۔ اس ویب سائیٹ کا لنک بھی کمنٹس میں دے رہا ہوں۔

ملاحظہ ہو

حضرت منشی گوہر علی صاحبؓ جالندھر

بیعت: ۱۸/جنوری۱۸۹۰ء

تعارف و بیعت:

حضرت منشی گوہر علی رضی اﷲ عنہ کے والد صاحب کا نام جہانگیر خاں افغان تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب دوسری بار کپور تھلہ تشریف لے گئے تو کپورتھلہ میں تین دن قیام حضرت منشی گوہر علیؓ صاحب افسر ڈاک خانہ کے مکان پر رہا۔ (ابتداء ً آپ سب پوسٹ ماسٹر کپورتھلہ متعین ہوئے تھے) حضرت اقدسؑ سے آپ کا تعلق حضرت چوہدری رستم علی صاحب ؓکے ذریعہ ہوا تھا۔آپ نے ۱۸؍جنوری۱۸۹۰ء میں بیعت کی۔ آپ کی بیعت کا نمبر ۱۶۱ ہے۔ جہاں آپ کا نام میاں علی گوہر درج ہے ۔
اولاد:

آپ کی اولاد میں سے مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب سالہا سال تک راج گڑھ لاہور کے صدر رہے ہیں۔

پڑھ لی ساری بات۔ یہ دونوں ذرائع سے تصدیق ہے۔ کوئی سنی سنائی بات نہیں۔
عمران خان کا ننھیال اور ددھیال اور بذات خود عمران خان صاحب راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ کسی مسلمان کو جھوٹ کی بنیاد پر اسلام سے نکالنا کتنا بڑا جرم ہے۔ لیکن ان کو اللہ کا خوف کہاں ۔ ان کو تو اپنے سیاسی مفادات عزیز ہیں۔ ویسے بھی کوئی شخص اپنے باپ دادا یا نانا کے عقیدے یا اعمال کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ لیکن ان جاہلوں کو کون سمجھائے۔
آپ اس کو شیئر کریں تاکہ جو لوگ ثواب سمجھ کر عمران خان کے خلاف اس کمپین کا حصہ بن رہے ہیں ان کی آنکھیں کھل جائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”عمران خان کے ننھیال پر قادیانیت کےجھوٹے الزام کا رد ثبوتوں کے ساتھ۔۔ہارون وزیر

  1. محترم یہ بھی تو آپ کا خود ساختہ تبصرہ ہے ۔ اور جو زبان آپ نے استعمال کی ہے اس سے صاف واضع ہوتا ہے ۔ کہ دا ل میں کچھ کالا ضرور ہے ۔ عمران نیازی المعروف بنارسی ٹھگ کے قریب آج بھی قادیانیوں کی کافی تعداد موجود ہے ۔ اس کے علاوہ گوہر شاہی والے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ۔ کہ یہ ہمارا بھونکا ہے ۔

  2. بہت خوب۔۔۔۔اللہ ان مذہب فروشوں کے شرسے پاکستان کو محفوظ رکھے۔ آمین۔۔۔۔۔۔۔۔انڈین کی مذہب فروش جماعت نے اقتدار میں آکر جو کچھ کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔۔خدانخواستہ پاکستان کے مذہب فروش کبھی پاور میں آگئے تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *