نیا سال آتے ہی کیلنڈر بدل جاتا ہے مگر ریاستی مزاج نہیں بدلتا۔ تاریخ کی تختی پر ہندسہ نیا لکھ دیا جاتا ہے مگر اقتدار کے طریقے فیصلوں کی سمت اور عوام کے حصے میں آنے والی مشکلات وہی رہتی ہیں۔ ہر سال یکم جنوری کو قوم کو ایک نئی امید بیچی جاتی ہے مگر چند ہی دنوں میں واضح ہو جاتا ہے کہ امید کے الفاظ بھلےنئے ہیںلیکن حقیقت پرانی ہے۔ ہمارے ہاں نیا سال صرف پرانے طریقوں کو نئے انداز میں پیش کرنے کا بہانہ بن گیا ہے۔
سیاست میں نیا سال سب سے پہلے نعروں کی تجدید لاتا ہے۔ حکمران طبقہ اعلان کرتا ہے کہ اب اصلاحات ہوں گی نظام بدلے گا اور عوام کو ریلیف ملے گا جبکہ اپوزیشن نئے سال کو حکومت کے احتساب کا سال قرار دیتی ہے۔ مگر یہ سب کچھ ایک ایسے سیاسی ڈھانچے کے اندر ہوتا ہے جو خود تبدیلی کا راستہ روکے کھڑا ہے۔ مسئلہ افراد کا نہیں مسئلہ اس نظام کا ہے جو طاقت کو عوام کے بجائے مخصوص حلقوں میں مرکوز رکھتا ہے۔
ہر حکومت اقتدار میں آتے ہی “نئے آغاز” کی بات کرتی ہے مگر پہلا قدم ہمیشہ اقتدار کو محفوظ بنانے کا ہوتا ہے۔ نیا سال آتا ہے مگر قانون سازی عوامی ضروریات کے بجائے سیاسی مصلحتوں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ یوں سیاست عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی بقا کا فن بن جاتی ہے۔احتساب ہر نئے سال کا مقبول ترین نعرہ ہوتا ہے مگر اس کا اطلاق ہمیشہ منتخب سمت میں کیا جاتا ہے۔ طاقتور طبقات قانون سے بالا رہتے ہیں جبکہ کمزوروں کے لیے قانون پوری شدت سے حرکت میں آتا ہے۔ یہی دوہرا معیار عوام کو سیاست سے بدظن کرتا ہے۔ نیا سال آتا ہے مگر انصاف کا پیمانہ وہی پرانا رہتا ہے۔۔۔طاقت کے مطابق۔
سیاسی عدم استحکام کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے ہر سال معیشت کو اعداد و شمار کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر معاشی اہداف شرحِ نمو اور عالمی اداروں کی رپورٹس پیش کی جاتی ہیں مگر عام آدمی کے لیے معیشت ان جدولوں کا نام نہیں بلکہ مہنگی روٹی بڑھتا کرایہ اور غیر یقینی مستقبل ہے۔ہر سال بجٹ کو “سخت مگر ضروری” قرار دیا جاتا ہے۔ قربانی کی اپیل کی جاتی ہے مگر یہ قربانی ہمیشہ وہی طبقہ دیتا ہے جو پہلے ہی بوجھ تلے دبا ہوتا ہے۔ تنخواہ دار اور متوسط طبقہ ٹیکسوں کی زد میں آتا ہے جبکہ طاقتور معاشی گروہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہی رہتے ہیں۔ نیا سال آتا ہے مگر معاشی انصاف کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
مہنگائی کو اکثر عالمی حالات سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ داخلی بدانتظامی کا حساب کون دے گا؟ ذخیرہ اندوزی منافع خوری اور کمزور نگرانی ہر سال نئی قیمتوں کے ساتھ لوٹتی ہیں۔ ریاست وعدہ کرتی ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے گا مگر بازار عام آدمی کے لیے مزید بے رحم ہو جاتا ہے۔ یوں نیا سال بھی پچھلے سال کی مہنگائی کو وراثت میں لے لیتا ہے۔
بے روزگاری کا مسئلہ ہر نئے سال میں مزید گہرا ہو جاتا ہے خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔ ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوجوان نوکریوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہتے ہیں مگر دروازے نہیں کھلتے۔ سیاست میں انہیں مستقبل کہا جاتا ہے مگر معیشت میں انہیں بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان یا تو مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں یا ملک چھوڑنے کو ہی واحد حل سمجھنے لگتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور معیشت ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو جاتی ہیں۔ جب سیاسی عدم استحکام پالیسیوں کو غیر یقینی بناتا ہے تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے روزگار کے مواقع ختم ہوتے ہیں اور معیشت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ مگر ہر نیا سال آتے ہی یہ سب کچھ نظر انداز کر کے ایک نیا بیانیہ گھڑ لیا جاتا ہے جیسے پچھلی ناکامیاں خود بخود مٹ جائیں گی۔
ریاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مؤخر کرنے کی ماہر ہو چکی ہے۔ تعلیم صحت انصاف اور روزگار۔۔۔ہر شعبہ اصلاحات کا منتظر ہے مگر اصلاحات ہمیشہ “مناسب وقت” کی نذر ہو جاتی ہیں۔نیا سال آ گیا، لیکن اسکول وہی، اسپتال وہی، عدالتیں وہی۔۔۔بس کیلنڈر نیا ہو گیا۔
میڈیا اور عوامی بیانیہ بھی اس عمل میں شریک ہے۔ نئے سال کو ایک نفسیاتی ری سیٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جیسے قوم کو چند دن کے لیے خواب دکھا کر پھر اسی حقیقت کے حوالے کر دیا جائے۔ سوال پوچھنے کے بجائے صبر کی تلقین کی جاتی ہے اور احتساب کے بجائے امید پر گزارا کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہی رویہ پرانے نظام کو نئی عمر عطا کرتا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں سال بدلنے سے نہیں نظام بدلنے سے آگے بڑھتی ہیں۔نیا سال آ گیا، مگر یاد رکھیں، تبدیلی صرف تاریخ بدلنے سے نہیں بلکہ صحیح فیصلے لینے سے آتی ہے۔ جب تک سیاست میں شفافیت معیشت میں انصاف اور اداروں میں جواب دہی نہیں آئے گی تب تک ہر نیا سال پچھلے سال کا تسلسل ہی رہے گا۔
سوال یہ نہیں کہ نیا سال کیا لائے گا اصل سوال یہ ہے کہ ہم پرانے نظام کے ساتھ کیا کرنے کو تیار ہیں۔ کیا ہم وعدوں کے بجائے کارکردگی مانگ سکتے ہیں؟ کیا ہم سیاست میں اصول اور معیشت میں انصاف کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ یا ہم ایک اور سال بھی اسی خوش فہمی میں گزار دیں گے کہ اگلا سال بہتر ہوگا؟
نیا سال امید ضرور لاتا ہے مگر تبدیلی نہیں۔
تبدیلی تب آتی ہے جب پرانے نظام کو چیلنج کیا جائے
اور نئے وعدوں کو عمل کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
ورنہ ہر سال کا نعرہ یہی رہے گا “نیا سال، پرانی کہانی ۔۔۔سب کچھ وہی، بس نمبر بدل گئے ہیں”۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں