یورپ اور مغرب کی ترقی کا سوال محض ایک تاریخی بحث نہیں بلکہ ایک فکری امتحان ہے۔ یہ سوال دراصل ہم سے یہ جانچتا ہے کہ ہم تاریخ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں: نعروں کی آنکھ سے، تعصبات کے شیشے سے، یا غیر جانب دار عقل کے ساتھ۔ ہمارے ہاں اس سوال کا جواب عموماً دو سادہ بیانیوں میں قید ہو جاتا ہے۔ ایک یہ کہ مغرب نے نوآبادیاتی قوت کے ذریعے دنیا کو لوٹا اور اسی لوٹ مار سے ترقی کی منازل طے کیں۔ دوسرا یہ کہ مغرب نے مذہب کو ریاست اور سیاست سے الگ کیا، اسی لیے وہاں علم، سائنس اور صنعت پھلی پھولی۔ یہ دونوں بیانیے مکمل طور پر غلط نہیں، مگر مکمل سچ بھی نہیں۔
یہ ماننا ہوگا کہ یورپی طاقتوں نے صدیوں تک ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ سے دولت، وسائل اور محنت کشی منتقل کی۔ یہ دولت یورپ کے مالیاتی نظام، صنعت اور ریاستی طاقت کے لیے ایک غیر معمولی سرمایہ بنی۔ تاریخ کا یہ باب اخلاقی طور پر جتنا تلخ ہے، معاشی اعتبار سے اتنا ہی فیصلہ کن بھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف دولت کسی قوم کو ترقی یافتہ بنا دیتی ہے؟ تاریخ اس کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ دولت اگر نظم، علم اور اداروں سے محروم ہو تو وہ یا تو ضائع ہو جاتی ہے یا محض طاقتور طبقوں کی عیاشی میں بدل جاتی ہے۔
اسی طرح یہ کہنا بھی جزوی سچ ہے کہ یورپ میں ریاستی نظم نے مذہبی اختیار سے خود کو آزاد کیا۔ اس آزادی کا مفہوم مذہب سے نفرت نہیں تھا بلکہ یہ ادراک تھا کہ اجتماعی اور دنیوی معاملات ایسے فریم ورک کے متقاضی ہیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ قانون، انتظام اور پالیسی مذہبی اختلافات کے تابع نہیں رہے بلکہ عقلِ عام، تجربے اور اجتماعی مفاد کے تحت طے ہونے لگے۔ اس تبدیلی نے فکری جمود توڑا اور اختلافِ رائے، تحقیق اور تنقید کے لیے جگہ پیدا کی۔ مگر یہاں بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ عمل تدریجی تھا، پیچیدہ تھا، اور ہر جگہ یکساں نہیں تھا۔
اصل حقیقت ان دونوں بیانیوں سے آگے شروع ہوتی ہے۔ یورپ کی ترقی کا بنیادی ستون اس کا ادارہ جاتی نظم تھا۔ قانون کی حکمرانی، انصاف کا مؤثر نظام، معاہدوں کی پاسداری اور ریاستی تنظیم نے سماج کو ایک قابلِ پیش گوئی ڈھانچہ فراہم کیا۔ سرمایہ، محنت اور علم اسی وقت پیداوار میں ڈھلتے ہیں جب انہیں یہ یقین ہو کہ ان کی حفاظت ہوگی۔ یہ یقین ہی ترقی کی اصل نفسیاتی بنیاد ہے۔
تعلیم اور علم کی تنظیم نے اس بنیاد کو مزید مضبوط کیا۔ یورپ میں علم فرد کی ذاتی ریاضت نہیں رہا بلکہ اجتماعی اثاثہ بن گیا۔ جامعات، تحقیقی مراکز، علمی مجالس اور اشاعتی اداروں نے علم کو نسل در نسل منتقل کرنے کا نظام قائم کیا۔ سائنسی رویہ محض معلومات اکٹھی کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ سوال، تجربہ، مشاہدہ اور دلیل کی مسلسل مشق تھا۔ سوال کرنے پر قدغن نہیں تھی، بلکہ اسے فکری بلوغت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی رویہ نئے تصورات، نئی ٹیکنالوجی اور نئی سماجی تشکیل کا محرک بنا۔
یورپ کی ترقی میں مسابقت نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ متعدد ریاستوں کا ایک دوسرے کے مقابل ہونا محض عسکری میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ انتظام، تعلیم، معیشت اور ٹیکنالوجی میں بھی ظاہر ہوا۔ جو ریاست اصلاح نہ کرتی، پیچھے رہ جاتی۔ یہ مسلسل دباؤ ترقی کو ایک وقتی منصوبہ نہیں بلکہ دائمی عمل بناتا رہا۔
اس پورے عمل میں آزاد فکر اور علمی بیداری نے سماج کو زندہ رکھا۔ پریس، کتاب اور مباحثے نے عوامی شعور کو وسعت دی اور ریاست و اداروں کو مسلسل جواب دہ بنایا۔ علم چند طبقات کی جاگیر نہیں رہا بلکہ بتدریج سماج میں سرایت کرتا چلا گیا۔ یہی بیداری ترقی کی اخلاقی حفاظت بھی کرتی رہی تاکہ طاقت محض جبر میں نہ بدل جائے۔
یہ تمام عوامل اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یورپ کی ترقی نہ محض لبرلزم کا معجزہ تھی، نہ صرف نوآبادیاتی لوٹ مار کا نتیجہ، اور نہ ہی مذہب سے بیزاری کا ثمر۔ یہ ایک ہمہ جہت نظمِ اجتماعی تھا جس میں تعلیم، تنظیم، انصاف، سائنسی رویہ، تحقیق، آزاد فکر، سوال پر پابندی نہ ہونا، ریاستی امور میں مذہبی اختلافات سے بے التفاتی، اور علمی و صحافتی بیداری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ نوآبادیاتی دولت نے اس نظم کو رفتار دی، اور ریاستی عقل نے اسے سمت فراہم کی۔

ہمارے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہم مغرب کی کون سی تعبیر کو قبول کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ترقی کو کس حد تک ایک سنجیدہ اجتماعی منصوبہ سمجھنے پر آمادہ ہیں۔ جب تک علم کو ادارہ، قانون کو طاقت، اور ریاست کو جواب دہ نہیں بنایا جائے گا، تب تک نہ مذہب ہمیں آگے لے جا سکے گا، نہ سیکولرزم، اور نہ کسی اور نظریے کا نام۔ ترقی کسی نعرے کا تحفہ نہیں، یہ اجتماعی عقل، مسلسل محنت اور فکری دیانت کا نتیجہ ہوتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں