مکالمہ کانفرنس — میرے تاثرات

مکالمہ کانفرنس– میرے تاثرات
عامر ہاشم خاکوانی
لاہور کی مکالمہ کانفرنس کے حوالے سے چند تاثرات بیان کرنا چاہ رہا ہوں، وہاں پر ہونے والے مباحث پر کبھی الگ سے بات ہوگی ۔
کانفرنس کی کارروائی بہت عمدہ طریقے سے چلی، وقت کی کمی کواچھے طریقے سے ہینڈل کیا، تھوڑی سی تاخیر سے شروع ہوئی اور عین وقت پر ختم ہوگئی۔ انعام رانا نے اس معاملے میں گوروں والی پابندی دکھائی۔
لوگوں کی شمولیت بہت ہی بھرپور تھی۔ انعام رانا اور ان کے ساتھیوں کی محنت نظر آئی۔ لوگوں کی رانا کے ساتھ محبت دیدنی تھی۔ بہت خلوص اور پیار سے انعام رانا کی خاطر سب آئے ، ان کا اپنا انٹرویو بھی دلچسپی سے سنا گیا اورآخر میں دادا کے نام خط کی بھی بار بار فرمائش ہوتی رہی، جسے رانا کو پورا کرنا پڑا۔
ایک دلچسپ بات دیکھی کہ سیک کے سمینارز اور مکالمہ کانفرنس میں شریک ہونے والوں میں خاصے لوگ مشترک تھے، میرا خیال ہے کہ بیس سے تیس فیصد چہرے وہی تھے، خاص کر مذہبی حلقہ وہی تھا جو سیک کے اسلام آباد اور لاہور سمینارز میں شریک ہوا ۔ مکالمہ ویب سائیٹ کا مزاج معتدل اور درمیان کا ہے، وہاں رائیٹ ، لیفٹ کے لوگ شامل ہیں، بلکہ دو چارلکھنے والے تو باقاعدہ قسم کے کامریڈ ہیں۔ یہی رجحان شرکا میں بھی نظر آیا، مقررین میں بھی اس کی جھلک تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ سب کی بات شائستگی اور سلیقے سے سنی گئی۔ جے یوآئی کے نوجوان وقاص خان نے اپنی گفتگو میں ایک آدھ فقرہ پی ٹی آئی کی طرف اچھالا تو کچھ ردعمل آیا،مگرلوگ بھی سنبھل گئے اور نوجوان مقرر نے بھی اچھے طریقے سے اپنی بات کی وضاحت کر دی۔ مکالمہ نے دونوں اطراف کی گفتگو سنانے کی ایک اچھی مثال قائم کی ۔
مجھے ذاتی طور پر مقررین میں سے مفتی زاہد صاحب کی گفتگو بہت عمدہ لگی۔ کمال کا ٹو دی پوائنٹ وہ بولے اور سچ تو یہ ہے کہ اس ایشو پر مزید کچھ بولنے کی گنجائش ہی نہیں رہی۔ ڈاکٹر شہباز منج کا مختصر مقالہ علمی معیار اور متانت لئے ہوئے تھا۔ بلال قطب نے اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کی ،ورکرزپارٹی پنجاب کے صدر خالد محمود کو پہلی بار سنا، انہیں زیادہ نہیں جانتا، صاحب علم آدمی ہیں،کامریڈوں کی پرانی نسل کی استقامت ان میں نظر آئی، دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی ،مگر اپنی دھن کے پکے لوگ قدم جمائے کھڑے ہیں۔ کئی خوبصورت باتیں انہوں نے کیں، کچھ سے جزوی اور بعض سے شدید اختلاف تھا، مگر یہ ماننا پڑے گا کہ بات سلیقے سے کی ، اگر وقت ہوتا تو ان پر بات ہوسکتی تھی۔ پہلے سیشن میں تقاریر تھیں، دوسرے میں مختلف لوگوں کے انٹڑویوزتھے۔ پروفیسر طفیل ہاشمی کا انٹرویو دلچسپ تھا۔ ہاشمی صاحب مختصر اور جامع تبصرہ کرتے ہیں۔ لالہ عارف خٹک کا انٹرویو انعام رانا نے لیا اور وہ بہت دلچسپ رہا۔ عارف خٹک بہت کھلے ڈلے انداز میں لکھتے ہیں، ایسی تحریر کہ بندہ پڑھے اور پھر چپکے سے کھسک جائے، لائیک کی غلطی بھی نہیں کی جاتی کہ کہیں دوسروں کو علم نہ ہوجائے کہ یہ پڑھا۔ لالہ کی بعض تحریریں ماڈرن کوک شاستر کی جھلک لئے ہیں، ان کی باتیں دلچسپی سے سنی گئیں، لالہ شرمائے شرمائے لگے ، ایک تحریر لکھ کر لائے تھے، مگر سامنے خواتین بیٹھیں دیکھ کر پڑھنے پر آمادہ نہ ہوئے ، انعام رانا نے سوال بھی مزے کے پوچھے ۔ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کا بھی انٹڑویو تھا، وقت کی کمی کا مسئلہ تھا، ڈاکٹر صٓاحب کمال ہوشیاری سے سائیڈ پر ہوگئے ، نوجوان لکھاری وقاص خان کا انٹرویو دلچسپ رہا، مکالمہ میں چھپے ان کے ایک کالم پر کے پی کے نے نوٹس لیا تھا۔ وقاص خان جے یوآئی کے معتدل اور پڑھے لکھے حلقے کا نمائندہ لگا، میرا خیال ہے کہ جے یوآئی کے اندر کے مذہبی حلقے بھی اس پر تنقید کرتے ہیں، مگر ایک ملنسار مسکراہٹ والا وقاص خان سے مل کر خوشگوار احساس ہوا۔ ثاقب ملک کا انٹرویو بھی ہوا۔ ثاقب نے مختصرجوابات دئیے، سیکس اور سماج کتاب کے مصنف سعید ابراہیم کا بھی انٹڑویو تھا۔ ان کی کتاب تو نہیں پڑھی، مگر جس طرح کی گفتگو انہوں نے فرمائی، اگر کتاب بھی ویسی سوئپنگ سٹیٹمنٹس اور اوور سمپلی فکیشن پر مبنی ہے تو پھر اسے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمارے ہاں ایک حلقہ خواتین کی آزادی کا پرجوش حامی ہے، اس میں چلیں کوئی حرج نہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ بعض مغالطوں کا وہ اسیر ہے اور ان سے باہر آنے کو تیار بھی نہیں۔ سعید صاحب نے جس طرح کھل کر سوئپنگ سٹیٹمنٹس کے چوکے ، چھکے لگائے ، اس پر مجبوراً ایک سوال کیا، جس پر انہوں نے کسی قدر دفاعی پوزیشن اختیار کی اور اپنی بات کواپنی رائے قرار دیا، حالانکہ پہلے وہ اسے عالمگیر حقیقت کی طرح سب پر تھوپنے پر مصر تھے۔ آخر میں انعام رانا کا دلچسپ انٹرویو ہوا۔ وقت کی کمی کے باعث یہ سشنز زیادہ کھل کر نہیں ہوسکے، سوال جواب کا بھی مسئلہ تھا کہ کارڈلیس مائیک کا انتظام نہیں تھا۔ ہال بھی اس طرح کا تھا کہ لوگ گھٹے ہوئے بیٹھے تھے، مگر ساڑھے تین گھنٹوں میں اتنا کچھ کر دینا کسی کمال سے کم نہیں تھا۔ وقت کی کمی کے باعث ہی حافظ صفوان کی گفتگو بھی نہیں رکھی گئی، میرا خیال ہے کہ حافظ صاحب کی تقریر ہونا چاہیے تھی۔ وہ چونکہ یکے از میزبان تھے، اس لئے شائد قربانی دینا پڑی۔ عارف خٹک نے حافظ صاحب کو نہیں بخشا اور جملے چست کئے، حافظ صفوان تبلیغیوں کی سی روایتی سمجھداری اور متانت سے سنی ان سنی کر گئے، فیس بک پر ہوتے تو کبھی نہ بخشتے ، جواباً فقرہ جڑ دیتے ۔ بعض مقررین نہیں آ سکے، ان کی کمی محسوس ہوئی، مجھے خاص طور پر برادرم عمار خان ناصر سے ملنے کا اشتیاق تھا، وہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہیں آ پائے۔ فرنود عالم بھی نہیں آ سکے، کانفرنس میں پہنچا تو ایک دو دوستوں نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ یہ بات بتائی، غالباً ان کا خیال تھا کہ فرنود کو ’’روک‘‘ لیا گیا،مگر میرا خیال ہے کہ فونود عالم اتنی آسانی سے ’’مینج ‘‘ہونے والا نہیں، حقیقی مصروفیت نے ہی اسے روکا ہوگا۔ ویسے حسنین جمال کی موجودگی بہت خوشگوار تھی، حسنین سیک کے سمینار میں بھی شریک ہوا، ہاتھی کے پیر میں سب کا پائوں کا محاورہ حسنین کی صحت کو دیکھ کر فٹ نہیں ہوتا، وسی بابا اگر ہوتا تو یہ جڑ دینا تھا، اگرچہ حقیقی معنوں میں یہ محاورہ خاکسار پر فٹ آ سکتا ہے۔
تقریب کی نظامت جین سارتر (موسیو)نے کی اور کمال کر دیا۔ بہت خوبصورت، شستہ ، شگفتہ جملے وہ بولتے رہے، اگرچہ وہ لکھ کر آئے تھے، مگر دلکش مسکراہٹ کے ساتھ بڑی بے ساختگی سے بولتے رہے۔ ان کی نظامت بہت عمدہ رہی۔ ان کے ساتھ کوہوسٹ ایک بہت ڈیسنٹ خاتون تھیں، بڑی دل جمعی اور محنت کے ساتھ وہ پوری تقریب میں متحرک رہیں، ایک طرح دار نوجوان بھی تقریب کے منتظمین میں شامل تھے، حسنین جمال کی طرح تو نہیں، مگر کچھ ویسے ہی بانکپن اور دلکش مردانہ سٹائل کی ڈاڑھی مونچھیں تھیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ محترم خاتون عائشہ آزان ہمارے رانا صاحب کی ہمشیر ہیں اور وہ صاحب ان کے شوہر نامدار آزان ملک، غالباً سما ٹی وی میں وہ پروڈیوسر ہیں۔ توانائی، خلوص سے بھرپور اس جوڑی کو دیکھ کر بہت اچھا لگا، اور پھر خیال آیا کہ ایسی جانثاری کوئی بہن ہی بھائی کے لئے دکھا سکتی ہے۔ رانا صاحب کی والدہ بھی شریک ہوئیں۔ اللہ انہیں صحت اور دراز عمر عطا کرے، آمین۔
تقریب کے درمیاں میں پانچ منٹ کا وقفہ کیا گیا تھا، جو سیلفیوں کی نذر ہی ہوگیا۔ آخر مین چائے ،سینڈوچ اور سموسوں کا انتظام تھا۔ جگہ کی کمی کے باعث رش ہوگیا۔ بعد میں خاصی دیر تک باہر لوگ آپس میں گپ شپ لگاتے رہے۔ سیک کے سمینارز اور مکالمہ کانفرس کے دیگر فوائد کے ساتھ سب سے بڑا ایڈوانٹیج یہ ہوا ہے کہ فیس بک کی دنیا کے لوگ حقیقی دنیا میں ایک دوسرے کے قریب ہوئے ہیں۔ مختلف نقطہ نظر، مختلف مزاج کے لوگ اکٹھے ہو کر بات سنیں، بات کریں ، ایک دوسرے سے مکالمہ کو فروغ دیں، اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا۔ برادرم انعام رانا کو ایک اچھی کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد دینا بنتی ہے۔ لاہور میں ہوتے ہوئے بھی جو لوگ شریک نہیں ہوئے، انہوں نے خاصا کچھ مس کیا۔
تقریب کے بعد متعدد لوگوں نے پوچھا کہ دلیل کی کانفرنس کب آ رہی ہے۔ ان تمام فرمائشوں کو میں تو مسکرا کر ٹال گیا، مگر دلیل ٹیم کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *