البرٹ کامو کو اکثر وجودیت پسند (Existentialist) کہا جاتا ہے حالانکہ اس نے خود اس اصطلاح کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ کامو کو پڑھنا زندگی کی انتہائی بے لاگ سچائی سے ملاقات ہے۔ معنی کی ہماری شدید خواہش اور ایک ایسے کائنات کے درمیان کشمکش جو کوئی معنی نہیں دیتی، اس اخلاقی ذمہ داری کا احساس جو زندگی کی بے حسی کے باوجود ہم پر عائد ہوتی ہے، اور دکھ کے مقابل وقار اور ہمدردی کی نازک مگر خوبصورت جھلک کا اظہار ہوتا ہے۔ کامو کا مطالعہ فلسفے کی ایک مجرد مشق نہیں بلکہ انسان کا اپنے ضمیر سے روبرو ہونا ہے۔ انسان ہونے کے اخلاقی اور جذباتی میدان میں قدم رکھنے کی دعوت ہے۔
کامو کو پڑھنے کے لیے جو فطری شروعات ہونی چاہیے وہ اس کی کتاب “اجنبی” (The Stranger) ہے۔ بہ ظاہر یہ میرساں (Meursault) کی کہانی ہے، ایک ایسا شخص جو سماج، اخلاقیات اور جذبات سے لاتعلق دکھائی دیتا ہے، اور جس کا تشدد پر مبنی فعل ناقابلِ فہم محسوس ہوتا ہے۔ مگر میرساں صرف ایک بے حس کردار نہیں ہے ، وہ عبث کا مجسم اظہار ہے ۔انسانی خواہشِ وضاحت، انصاف اور معنی اور ایک ایسی کائنات کے ٹکراؤ کی علامت جو ان میں سے کچھ بھی مہیا نہیں کرتی۔ دی اسٹرینجر کو پڑھنا صبر اور باریک بینی کا تقاضا کرتا ہے۔ میرساں کی بے تعلق بیانیہ انداز دانستہ ہے۔ یہ ہمیں بے چینی میں ٹھہرنے، بے حسی کی اجنبیت کا سامنا کرنے، اور اس لطیف ظلم پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے جو اس وقت جنم لیتا ہے جب زندگی ہماری توقعات کے مطابق نہ ہو۔ تاہم اس ظاہری بے رخی کے نیچے ایک کچی مگر سچی ایمانداری میں مضمر ہے۔ ظاہر سازی (pretension ) سے انکار جو گہرے طور پر انسانی ہے۔ میرساں ہمیں ہمدردی کی حدود اور ان طریقوں سے روبرو کرتا ہے جن کے ذریعے سماج اکثر حقیقی انسانی تجربے کو غلط سمجھ لیتا ہے۔
کامو کا فلسفیانہ مضمون (The Myth of Sisyphus) اس عبث (absurdism ) سے اس آمنے سامنے کو مزید روشن کرتا ہے۔ کامیو یہ سوال اٹھاتا ہے: جب ہمیں معلوم ہو کہ زندگی کا کوئی حتمی معنی نہیں، تو ہم جئیں کیسے؟ اس کا جواب نااُمیدی نہیں بلکہ ایک بیدار بغاوت (lucid revolt) ہے۔ ہم وہم و فریب کے بغیر زندگی کو پوری طرح قبول کرتے ہیں اور اپنی حالت کے شعور ہی میں مسرت تلاش کرتے ہیں۔ متھ آف سیسی فس کو پڑھنا اپنی ہی بناوٹوں اور خود فریبیوں کا سامنا کرنا ہے، جھوٹے سہاروں کی کشش کو پہچاننا ہے ، خواہ وہ مذہبی ہوں یا نظریاتی ہو یا پھر نائیلہسٹ (nihilist) ۔ کامو کی یہ دعوت کہ ہم سیسی فس کو خوش تصور کریں، ایک ساتھ بغاوت آمیز بھی ہے اور ہمدردانہ بھی۔ یہ انسانی جدوجہد کو تسلیم کرتی ہے اور اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ وقار اور عملی وابستگی ممکن رہتی ہے ۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب زندگی کی یقینیات(certainties )بکھر جاتی ہیں۔
یہ انسانی پہلو ناول طاعون (The Plague) میں اور بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس ناول میں عبث ایک اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے، ایک ایسے شہر کی شکل میں جو بیماری کے محاصرے میں ہے۔ اوران کے باشندے میرساں کی طرح محض تماشائی نہیں رہتے۔ وہ ناقابلِ فہم قوتوں کے مقابل عمل کرتے ہیں۔ دکھ سہتے ہیں ۔ اور ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ ڈاکٹر ریو، جو ناول کا اخلاقی محور ہے، کامو کے انسان دوست اخلاق کی مجسم صورت ہے: زندگی کی قدر کسی حتمی مقصد میں نہیں بلکہ کوشش، باہمی یکجہتی، اور نگہداشت و جرات کے ان چھوٹے چھوٹے اعمال میں ہے جو ہماری مشترکہ انسانیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ طاعون کو پڑھنا انسانی جزئیات پر توجہ کی دعوت ہے ۔ اس میں یہ سبق بھی پنہاں ہے کہ اخلاقی عمل اکثر بڑے نظریاتی نعروں کے بجائے ثابت قدمی، ہمدردی اور دکھ کے شعور میں پائے جاتے ہیں ۔
کامو کا ناول دی فال (The Fall) شاید انسانی کمزوری کی اس کی سب سے زیادہ ذاتی اور گہری جستجو پیش کرتا ہے۔ ژاں باتیست کلامانس، جو کبھی ایک معزز وکیل تھا، ایک اجنبی کے سامنے اپنی اخلاقی لغزشوں کا اعتراف کرتا ہے۔ اپنی منافقت، بزدلی اور خود فریبی کو بے نقاب کرتا ہے۔ دی فال کو پڑھنا نہایت ذاتی تجربہ ہے۔ یہ ان ناخوشگوار سچائیوں کا آئینہ بن جاتا ہے جنہیں ہم سب خود سے چھپاتے ہیں۔ کلامانس کا اعتراف انسانی تصنع پر ایک فردِ جرم بھی ہے اور مشترکہ کمزوری کی ہمدردانہ روشنی بھی۔ کامو ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اخلاقی بصیرت اکثر بہت دیر سے حاصل ہوتی ہے، خود آگہی دردناک ہو سکتی ہے، اور اپنی داخلی تضادات کو مان لینا بذاتِ خود اخلاقی جرات کی ایک صورت ہے۔ دی فال میں عبث اندرونی صورت اختیار کر لیتا ہے؛ یہ اس ادراک کا نام ہے کہ ہم ظلم، بے حسی اور خود ساختہ جواز کے اہل ہیں۔ اس کے باوجود کامو کی تحریر انسان دوست رہتی ہے۔ اس کی تحریریں الزام نہیں لگاتیں بلکہ غور و فکر کا درس دیتی ہے اور اسی انعکاس میں دوسروں کے لیے بھی اور خود اپنے لیے بھی ہمدردی کا امکان پیدا کرتی ہے۔
کامو کو پڑھنا اس کے اسلوب اور باریک بینی کو سمجھنا بھی ہے۔ وہ ایسی شفاف زبان میں لکھتا ہے جس میں بناوٹ یا آرائش نہیں مگر ہر جملہ وزن رکھتا ہے۔ اس کی نثر کی لے انسانی شعور سے ہم آہنگ ہے۔ فوری، تفکّر آمیز، دقیق اور اکثر چونکا دینے والی بصری کیفیت سے بھرپور۔ اس لے کا مشاہدہ قاری کو ہر لمحے میں پوری طرح بسنے کا موقع دیتا ہے اور زندگی کی بناوٹ کو محسوس کرنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ سورج کی تپش، جسم کی مشقت، اور تنہائیِ تفکّر کی خاموشی کو۔ کامو کی نثر صرف فکری نہیں وہ حسی، اخلاقی اور گہرے طور پر انسانی بھی ہے۔
کامو کے کام کی ایک منفرد پہچان کشمکش ہے۔ امید اور نااُمیدی ساتھ ساتھ چلتی ہیں، حسن اور سفاکی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں، اور اخلاقی عمل بیک وقت ناگزیر بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ دی ریبل (The Rebel) میں وہ بغاوت کے اخلاقی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے، نائیہلزم پر مبنی بغاوت اور جابرانہ نظریات دونوں پر تنقید کرتا ہے۔ دی ریبل کو پڑھنا اخلاقی پیچیدگی کے لیے ذہنی کشادگی اور فیصلے میں انکساری کا تقاضا کرتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں