دسمبر کی آخری رات / سراجی تھلوی

آج بھی یاد ہے وہ لاشعوری کا زمانہ جہاں غم کا تصور نہ تھا ۔دُکھ کے الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے۔بے خیالی تھی ،لاپرواہی تھی۔خواب ہوتے گلیوں میں زندگی کی سانسیں تھیں۔ڈھلتی شام گھروں کو لوٹنے کی جلدی تھی۔مائیں دروازوں پر بانہیں وا کیے بیٹھتی تھیں۔بڑوں کا رعب تھا۔دل میں خوف و احترام کی رمق باقی تھی۔وقت ظالم ہے رکتا کسی کےلیے نہیں۔دوہزار کی دہائی میں پیدا ہونے والا کوئی بچہ یکدم اک 25سالہ جوانِ رعنا بن کر غمِ حیات لکھنے بیٹھا ہے۔
29دسمبر 2025ءکی رات ہے۔بس اس سال کو الوداع کہنے والا ہوں۔ان بارہ مہینوں کی تلخ و شیریں یادیں آنکھوں کے سامنے رقصاں ہیں۔کوئی فلم سا چشمِ تصور کے آگے چل رہی ہے۔یادوں کے دفتر میں اُداسی کے نقوش بھی ثبت ہیں۔خوشی کے قصیدے بھی مرقوم ہیں۔محبت کی داستانیں بھی محفوظ ہیں۔وصال و ملن کے خوبصورت ایام بھی تھے۔ہجرو جدائی کے المناک و دردناک لمحات بھی۔
دل کہہ رہا ہے ہر گوشہ حیات پر طویل قصیدے لکھے جائیں۔جس میں ساز کم سوز زیادہ ہو ۔روایتی قصیدوں سے ہٹ کر غموں کے آمیزش ہو۔جو لکھتے ہوئے سانسیں رک جاے۔دل دھڑکنا چھوڑ دے۔جھیل نما آنکھیں دسمبر کی آخری راتوں میں برس جاے۔کیا پایا ؟کیا کھویا؟کتابوں نے جینے کا سلیقہ دیا ،طبعیت میں لچک پیدا کی۔آندھی عقیدت کے میناروں کو بے رحمی سے گرایا۔کل تک جس سے تقدس کا رتبہ دیا تھا آج انہی خیالات پر ہنسی آتی ہے۔اس سال میں اک طویل کتابوں کا سلسلہ ہے۔غمِ حیات نے فرصت دی تو شاید تفصیلی کارگزاری لکھ سکوں ۔سخت و گنجلک عبارتوں والی کتابوں سے لے کر سادہ و عام فہم کتابوں تک ۔عربی و فارسی زبان میں لکھی نصابی ثقیل متون سے لے کر اُردو ادب کے نرم و نازک کتابوں تک۔مجدد الف ثانی کے مکتوبات کی ورق گردانی سے لے کر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجة البالغہ کے مطالعے تک ،حنا ربانی کھر کی “میڈا سائیں سے لے کر شوکت کیفی کی “یاد کے رہ گزر سے ” تک سبط حسن کے “ماضی کے مزار و موسی سے مارکس ،عباس جلالپوری کی “چند فکری مغالطے ،مقامات وارث ،خردنامہ ،اس بدلتے سال میں رطب و یابس پڑھنے کی کوشش کی۔ابھی دسمبر کی ابتدائی دنوں میں “دس سال خدا کی بستی میں”بالاستیعاب مطالعہ کیا۔ابھی تک طبیعت پہ اُس کا اثر ہے۔جہاں مطالعے پر پابندی،پدرم سلطان بود کے قصے۔رعونت و انا پرستی کے مارے لوگ۔خدا کے نام پر لوٹتے دل و ضمیر سے مردہ لوگ۔خیر اس پر تبصرہ مقصود نہیں۔اس بدلتے سال میں ڈاکٹر خورشید ، مولانا مودودی،سید ابوالحسن ندوی ،ڈاکٹر شریعتی ،مولانا شہاب الدین ندوی کو زیادہ پڑھنے کا موقع ملا۔
امام الہند ابوالکلام آزاد کی خود نوشت “تذکرہ “مولانا شہاب الدین ندوی کی خودنوشت”میری علمی زندگی کی داستانِ عبرت “پڑھ کر دل و دماغ کے دریچے وا ہوے۔جس طرح تفسیر و جدید کلام کے اندر اردو زبان میں شہاب الدین ندوی نے کام کیا ہے۔تاریخ اردو میں بے نظیر و کم یاب ہے۔برصغیر کے معروف شاعرہ ادا جعفری کی خود نوشت”جو رہی سو بے خبری رہی۔اک خوبصورت عہد کی تصویر ہے۔تاریخ اسلام کے حوالے سے مولانا اسماعیل ریحان کی کتاب “تاریخ امت مسلمہ”جلد اول و دوم کا مطالعہ رہا۔اردو زبان میں اک شاندار و وقیع کام ہے۔عرفان وتصوف سے تو اک قلبی میلان ہے۔سو اس حوالے سے امام نوربخش رح اور سلسلہ نوربخشیہ سے منسلک بزرگان دینِ کو پڑھنے کی کوشش کی۔کتابوں سے جُڑے اک طویل یاد ہے۔اک طویل فہرست ہے۔طوالت کا خوف دامن گیر ہے۔اس لیے قلم زد کرتا ہوں۔حوصلہ ہوا۔فرصت ہوئی تو شاید کچھ اور تفصیلی ماحصل مطالعہ لکھ سکوں۔
خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے برسوں پہلے سفر پر نکلے تھے۔ابھی تک بقول شاعر:
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

دیارِ غیر بھی اسی سفر کا اک سلسلہ ہے۔2025ء بھی اختتام کو ہے۔لیکن سفر کا تسلسل برقرار ہے۔اللہ کرے منزل پر پہنچ کر سفر کی تکمیل ہو۔خوابوں کی تعبیر تلک سفر یوں ہی جاری رہے۔
محسن یہ فصلِ گُل بھی قیامت تھی ٹل گئی
اب دیکھنا پڑے گا پھر اگلے برس عذاب

لکھنے میں یوں مگن رہا میری چاے ٹھنڈی ہوگئی ہے۔

کتابوں سے جڑی یادیں لکھ رہا ہوں۔اے بدلتے سال سعود عثمانی نے کبھی کہا تھا۔

کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
کبھی کبھی یہ شعر حقیقت بھی لگتا ہے جب نسل نو کے ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے موبائل دیکھ کر۔لیکن اے بدلتے سال اے دسمبر کی یخ بستہ راتیں ہم آج بھی کتابوں سے عشق کرتے ہیں۔ہمیں آج بھی مطالعے کا نشہ ہے۔ابو الکلام آزاد کی خود نوشت کتاب “تذکرہ ” پڑھتے ہوئے کچھ سطور دل و دماغ کے نہاں خانوں میں محفوظ تھے۔آج اطراف و اکناف کے حالِ زار دیکھ کر وہ جملے وہ سطور یاد آرہے ہیں۔تقدسیت کے بلند و بالا عمارتیں زمیں بوس ہوتی جارہی ہیں۔فکر و نظر کے دریچے وا ہوتے جارہے ہیں۔امام الہند لکھتے ہیں:”مذھب کے دکانداروں نے جہل و تقلید،تعصب و ہوا پرستی کا نام مذھب رکھا ہے۔اور روشن خیالی و تحقیقِ جدید کے عقل فروشوں نے الحاد و بے قیدی کو حکمت و اجتہاد کے لباسِ فریب سے سنوارا ہے۔نہ مدرسہ میں علم ہے۔نہ محراب و مسجد میں اخلاص نہ مے کدے میں رندانِ بے ریا اربابِ صدق و صفا ان سب سے الگ ہیں۔اور سب سے پناہ مانگتے ہیں۔انکی راہ دوسری ہے۔”

julia rana solicitors

ہم کعبہ و ہم بت کدہ سنگِ رہ ما بود
رفتیم و صنم برسرِ محراب شکستیم
امام الہند رح نے آج سے برسوں پہلے کی عکاسی کی۔میں آج بھی وہی حالت دیکھ رہا ہوں۔ہر پانچ قدم کے فاصلے پر مذھبی دکانداروں کا ہول سیل چل رہا ہے۔کہیں کفر کے فتوے بکتے ہیں تو کہیں توہین کے صدقے کہیں پدرم سلطان بود کے روایتی نغمے کہیں شخصیت پرستی کے نعرے۔بات نکلے گی تو پھر دور تلک جاے گی۔یہاں سے اک بات یاد آگئی۔وسعت اللہ خان جو معروف پاکستانی کالم نگار و صحافی ہیں۔انہوں نے علامہ طالب جوہری کی وفات پر “بغیر منبر والے طالب جوہری “کے عنوان سے اک مضمون لکھا تھا۔اس میں وسعت اللہ خان لکھتے ہیں؛”ایک بار میں نے اچانک پوچھ لیا کہ علامہ میں نے آپ کی بہت زیادہ مجالس تو نہیں سنیں البتہ جتنی بھی سنی ہیں وہ تبرے سے پاک ہوتی ہیں۔ فرمایا ’جب باورچی کام میں کچا ہو تو اسے اپنی فنی خامیاں چھپانے کے لیے مصالحہ تیز رکھنا پڑتا ہے۔ میری تو یہی سمجھ میں نہیں آتا کہ جو موضوع شروع کیا ہے وہ سمیٹوں کیسے لہٰذا دھیان کبھی خواہ مخواہ کی باتوں کی جانب پھٹکتا بھی نہیں۔ امید ہے آپ کی تشفی ہو گئی ہو گی”
جب مذھبی پوپ نما خود ساختہ رہنماوں کے پاس کہنے کو ،لکھنے کو کچھ نہیں ہوتا تو مذھب کو ہی تختہ مشق بناتے ہیں۔
خیر اس بدلتے سال میں اک اہم شخصیت ڈاکٹر علی شریعتی کی چند کتابیں دیکھنے کا موقع ملا۔حسینیہ ارشاد کے منبر پر جلوہ افروز ایک جوان رعنا کی تقریر دلپذیر نے ایران کے ہزاروں جوانوں کے قلوب و ازہان کو منور کیا۔انکی کتاب”علی حقیقتی بر گونہ اساطیر” جس کا اردو زبان میں “علی اک دیومالائی سچ”کے نام سے ترجمہ بھی ہے۔در حقیقت انکے دروس کا مجموعہ ہے۔علی شریعتی نے اس کتاب میں علی ع کی شخصیت پر اک الگ زوایہ نظر سے گفتگو کی ہے۔وہ لکھتے ہیں۔مرے نزدیک علی صرف نمونہ شجاعت اور تاریخی شخصیت نہیں بلکہ اک معجزہ جو انسان کے نام سے انسان کی صورت میں نمودار ہوا۔
کہنے مقصد علی کو صرف اک جنگجو ،شجاع کی صورت میں نہیں بلکہ مختلف جہت ،مختلف زوایوں سے پرکھنے ،سمجھنے دیکھنے کی ضرورت ہے۔جنہیں اک الگ زوایہ دید سے پڑھنے ،سجھنے کا شغف ہے وہ ضرور علی شریعتی کو پڑھیں۔بالخصوص ماہ رجب میں علی شخصیت کے حوالے سے انکی کتابیں”علی اور تنہائی،علی اور سیاست،اور علی اک دیومالائی سچ “کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply