1919 سے 1921 تک کا عرصہ ٹی ایس ایلیٹ کی زندگی کا نہایت کٹھن دور تھا ۔ ازدواجی تناؤ، معاشی دباؤ اور شدید ذہنی تھکن نے ان کی شخصیت کو اندر سے توڑ دیا تھا ۔ یہی داخلی شکستگی بعد میں The Waste Land میں جدید تہذیب کی روحانی و فکری بنجر پن کی صورت ظاہر ہوتی ہے ۔
نظم کا آغاز ہی اس داخلی اضطراب کا اعلان ہے
“April is the cruellest month, breeding
Lilacs out of the dead land…”
یہاں “dead land” صرف جنگ کے بعد کا یورپ نہیں بلکہ خود ایلیٹ کی ذہنی کیفیت ہے ۔ بہار، جو زندگی کی علامت ہے، ایلیٹ کے لیے اذیت بن جاتی ہے ۔ یادداشت، احساس اور زندگی، سب کچھ درد کو زندہ کر دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نظم کا آغاز امید کے بجائے اضطراب سے ہوتا ہے ۔
ایلیٹ کی ذاتی زندگی کی ٹوٹ پھوٹ نظم کے دوسرے حصے A Game of Chess میں زیادہ واضح ہو جاتی ہے:
“My nerves are bad tonight. Yes, bad. Stay with me.”
یہ مکالمہ اعصابی تناؤ، ازدواجی بے چینی اور ذہنی عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ حصہ ایلیٹ کی نجی زندگی کی علامتی تصویر ہے، جہاں مکالمہ موجود ہے مگر رابطہ نہیں، آواز ہے مگر سمجھ نہیں ۔ جدید انسان بھی اسی کیفیت کا شکار ہے ۔
۱۹۲۱ میں ایلیٹ کی ذہنی حالت مزید بگڑ گئی اور ڈاکٹروں کے مشورے پر وہ علاج کی غرض سے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان گئے ۔ یہیں انہوں نے The Waste Land کا بڑا حصہ مکمل کیا ۔ نظم کا تیسرا حصہ The Fire Sermon جدید تہذیب کی اخلاقی اور روحانی گراوٹ کا نوحہ ہے:
“The human engine waits
Like a taxi throbbing waiting.”
انسان اب ایک مشین بن چکا ہے احساس سے خالی، مقصد سے محروم ۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں روحانی حرارت باقی نہیں رہی، صرف جسمانی خواہش اور بے معنویت رہ گئی ہے ۔
نظم کا چوتھا حصہ Death by Water مختصر مگر نہایت علامتی ہے
“Phlebas the Phoenician, a fortnight dead…”
یہاں پانی تطہیر بھی ہے اور فنا بھی ۔ یہ حصہ ایلیٹ کی ذہنی تھکن اور نجات کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے جیسے موت ہی واحد سکون ہو، مگر اس میں بھی کوئی رومان نہیں، صرف خاموشی ہے ۔
نظم کے آخری حصے What the Thunder Said میں، تمام بنجر پن کے باوجود، ایلیٹ مکمل ناامیدی پر نظم ختم نہیں کرتا:
“Datta. Dayadhvam. Damyata.”
(Give. Sympathize. Control.)
یہ سنسکرت الفاظ نظم کو روحانی جہت دیتے ہیں ۔ گویا ایلیٹ یہ کہہ رہا ہو کہ جدید انسان کی نجات اخلاقی ضبط، ہمدردی اور ایثار میں پوشیدہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ The Waste Land محض زوال کی نظم نہیں بلکہ روحانی تلاش کا استعارہ بھی ہے ۔

ایزرا پاؤنڈ کی سخت تدوین نے اس نظم کو غیر ضروری طوالت اور ذاتی ابہام سے پاک کیا اور یوں ایک ایسا شاہکار وجود میں آیا جو ذاتی کرب کو اجتماعی تہذیبی بحران میں ڈھال دیتا ہے۔ بعد ازاں ۱۹۲۳ میں ورجینیا وولف اور لیونارڈ وولف کے Hogarth Press سے اس کی محدود اشاعت نے اسے جدید ادب کی تاریخ میں مستقل مقام عطا کیا ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں