عمران خان کا جنازہ: مستقبل کی ایک پیشین گوئی/مصور خان

اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے سائے میں ہر شخصیت کا اثر اور مقام اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں چند شخصیات ایسی ہیں جو اپنے وقت اور اثر کی وجہ سے سب کی نگاہوں میں آ جاتی ہیں، اور عمران خان بھی ان میں شامل ہیں۔ سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ کالم کسی کی موت کی تمنا کے لیے نہیں، بلکہ ایک تجزیاتی اور سماجی مطالعہ کے لیے لکھا گیا ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں اور اہلِ خانہ سے پیشگی معذرت کہ یہ تحریر علامتی اور فکری نوعیت کی ہے۔ دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو صحت، عافیت اور لمبی زندگی عطا فرمائے۔
میں ذاتی طور پر عمران خان کا بہت بڑا ناقد ہوں۔ ان کی سیاست اور بعض فیصلوں سے اختلاف رکھتا ہوں، مگر اختلاف کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں: اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مشہور عوامی شخصیت عمران خان ہی ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے ماننے کے لیے حامی ہونا ضروری نہیں، صرف زمینی حقائق دیکھنا کافی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کی سیاست تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ ان کے بیانات، فیصلوں اور حکمتِ عملی میں تضاد نظر آتا ہے، لیکن عوام پر ان کا اثر ان تضادات سے کم نہیں ہوتا۔ سیاست صرف منطق کا کھیل نہیں، بلکہ عوام کے جذبات، امید اور علامتی قیادت کا بھی معاملہ ہے—اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنے تمام تضادات کے باوجود عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔
کرکٹ کے میدان میں 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والا کپتان آج بھی کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں فخر اور خود اعتمادی کی علامت ہے۔ ان کا اندازِ تقریر دیگر سیاسی رہنماؤں سے ممتاز ہے۔ وہ براہِ راست اور پر اثر بات کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تقاریر محض سیاسی خطاب نہیں بلکہ عوامی جذبات کی ترجمان بن جاتی ہیں۔
عمران خان نے فلاحی شعبے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جیسے کہ شوکت خانم ہسپتال اور دیگر منصوبے، اور بین الاقوامی سطح پر اپنی قیادت اور اثرات سے اپنا وقار بلند کیا۔
سوشل میڈیا کے دور میں ان کی مقبولیت ایک غیر معمولی حقیقت ہے۔ ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر ان کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ان کا ہر بیان لمحوں میں وائرل ہو جاتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان محض ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک جذباتی وابستگی ہیں۔
یہ بھی قابلِ غور حقیقت ہے کہ عمران خان کی قید، اور خاص طور پر یہ تاثر کہ انہیں ناحق قید کیا گیا، عوام میں ان کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ بہت سے لوگ جو پہلے ان کے ناقد تھے، آج انہیں مظلوم، مزاحمت اور استقامت کی علامت کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ اس دوران عوام کی توجہ اور وابستگی میں اضافہ ہوا، اور ان کے بیانیے نے نوجوانوں اور عام شہریوں کے دلوں میں ایک مضبوط جذباتی ربط قائم کیا ہے، جو انہیں صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک علامتی شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں بڑے جنازوں کی مثالیں موجود ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کا حلقۂ اثر ان سب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ان کے چاہنے والے ہر شہر، گاؤں اور طبقے میں موجود ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر مستقبل میں کبھی عمران خان اس فانی دنیا سے سفر آخرت کی طرف جائیں اور ان کا جنازہ ادا کیا جائے، تو وہ پاکستان میں اب تک ہونے والے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک ہوگا—شرکاء کی تعداد اور جذبات کی شدت دونوں میں۔
اختلاف، تنقید اور تضادات کے باوجود یہ ماننا پڑتا ہے کہ عمران خان پاکستانی تاریخ کا ایک ناقابلِ نظرانداز باب ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں لمبی عمر عطا فرمائے—اور اگر کبھی تاریخ ان کے نام کو کسی آخری باب میں سمجھے گی، وہ لمحہ یقیناً ایک تاریخ ساز لمحہ ہوگا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply