عجیب اتفاق ہے یا لوگوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ لڑکے بالے کی شادی ہوگی تو سردی میں ورنہ نہیں ہوگی۔ کیا یہ سردیاں صرف شادیوں کے لیے رہ گئی ہیں؟ ہر دوسرے دن ایک شادی کارڈ گھر پر آن دھمکتا ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ تنخواہ ادھر ہی لٹانی ہے۔ یہ تو بھلا ہو اس پاکستانی موسم کا کہ یہاں سردی صرف دو مہینے کی پڑتی ہے، ورنہ ہمارا تو معاشی استحصال ہو جانا تھا۔
پہلے لڑکے بالوں کی شادی کسی بھی موسم میں کر دیا کرتے تھے۔ کوئی گرمی، سردی، خزاں یا بہار کا رواج نہیں تھا۔ اب تو ہر طرف ایک ہی وبا پھیلنے لگی ہے؛ جسے دیکھیں سردی میں شادی کا سوچتا ہے اور سردی ہی میں کرتا بھی ہے۔ اب ہم اپنی ساری جمع پونجی ان سردیوں کی شادی میں ہی خرچ کر ڈالیں۔ اب ہر دوسرے دن ایک دعوت نامہ موصول ہو رہا ہوتا ہے۔
اگر جدیدیت کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھا جائے تو ہر چیز میں تغیراتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ وہیں انسان نے بھی ان تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے اپنے اندر کچھ نئی جہتیں تلاش کی ہیں۔
پہلے شادی کی تقریبات بہت سادہ اور معقول ہوتی تھیں ۔ سادہ کھانے ، کم ڈشوں کا انتخاب ، نمکین اور میٹھے کا رواج ، بیٹھکوں، اوطاقوں اور کھلے میدانوں میں شامیانے لگا کر انتظامات مکمل کرنا ۔ خواتین کو شادی والے گھر میں ہی نمٹالینا۔ گانے اور بڑے بڑے اسپیکرز نہیں تھے، صرف ڈھول کی تھاپ پر لڑکے بھالے بھنگڑے ڈال کر شادی کی خوشیوں کو دوبالا کر تے تھے۔
لیکن اب ڈھول اور رقص تو نظر نہیں آتا لیکن بڑے مزدے میں دو چار بڑے اسپیکرز ڈال کر اور اس میں شادی بیاہ کے بجائے بے ہودہ قسم کے گانے چلا کر پورے شہر میں اس گاڑی کو گھمایا جاتا ہے ۔ ساتھ میں کچھ لچھے لفنگے قسم کے لڑکے اس بے ہودہ اور بے سروپا گانوں پر ٹھمکے مارتے پورے شہر میں ڈھنڈورا کرتے کہ دلہا کے گلے میں گھنٹی باندھ دی ہے۔ بہرحال! یہ بھی جدید تقاضوں کے ہم آہنگ ہی ہوگا۔
لیکن فی زمانہ ہر چیز بدل گئی بیٹھک، اوطاق اور میدان کی جگہ ہالوں نے لے لی، اور اب ہال کی جگہ بینکوئٹ ہوگیا۔ اب کھانوں کی ریت روایات بھی بدل گئی اب نمکین اور میٹھے سے بات نکل کر دکھاوے پر آگئی ہے ۔ اب ڈشوں کے نام سن کر ہی سر چکرانے لگتا ہے کہ یہ کھانوں کے نام ہے یا کسی سنگر کے۔
چکن ملائی بوٹی اور بہاری کباب: یہ تو پرانے ہیں، مگر اب “افغانی بوٹی” اور “کستوری کباب” نے ان کی جگہ لے لی ہے۔
فش کرسپ یا فنگر فش: سردیوں کی شادیوں میں یہ ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔
چکن منچورین اور فرائیڈ رائس: یہ اب عام ہو چکے ہیں۔
چکن الفریڈو پاستا، یا لاسانیا، یہ وہ ڈشیں ہیں جو اب بڑے ہوٹلوں کی شادیوں میں “جدیدیت” دکھانے کے لیے شامل کی جاتی ہیں۔
ڈائینامائٹ شرمپ، یہ آج کل کی مہنگی شادیوں کا ایک نیا شوق ہے۔
۴. میٹھے کی بھرمار ۔
پہلے صرف زردہ یا کھیر ہوتی تھی، اب ایک پورا “ڈیزرٹ بار” ہوتا ہے جس میں:
شاہی ٹکڑے اور لبِ شیریں: (روایتی پسند)۔
ہاٹ چاکلیٹ باراؤنی اور آئس کریم۔
گلاب جامن اور جلیبی (لائیو کاؤنٹر کے ساتھ)۔
پنک ٹی (کشمیری چائے): سردیوں کی شادیوں کا لازمی اختتام۔
۵. لائیو کاؤنٹرز
آج کل کی “تغیراتی تبدیلیوں” میں سب سے بڑی تبدیلی لائیو کاؤنٹرز ہیں جہاں مہمانوں کے سامنے چیزیں بنتی ہیں:
تاوا چکن یا جلیبی کاؤنٹر۔
گول گپے اور چاٹ کاؤنٹر۔
اتنے سارے کھانے دیکھ کر بندے کی بھوک خوشبو سے ہی بھر جاتی ہے۔ اب بندہ کھائے بھی تو کیا ؟ روٹی تو صرف دکھاوے کے لئیے ہوتی ہے۔ اگر آپ تھوڑا تھوڑا بھی سب کھانے چکھ لیں تو پیٹ بھر ہی جائے گا۔
ہال میں سجی وہ دسترخوان نما میزیں، اپنی طوالت اور وسعت کے لحاظ سے کھانوں کی اس طویل فہرست سے ذرا بھی میل نہیں کھاتیں۔ طعام کا سلسلہ جب شروع ہوتا ہے تو اختتام تک پہنچتے پہنچتے میز کا وجود ہی کہیں گم ہو جاتا ہے اور برتن ایک دوسرے سے یوں دست و گریباں (گتھم گتھا) نظر آتے ہیں جیسے کسی میدانِ جنگ کا نقشہ ہو۔ بدنظمی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اگر میٹھا نکالنے کے لیے چمچ میسر ہے تو نمکین کے لیے پلیٹ غائب، اور اگر پلیٹ ہاتھ لگی تو چمچ کا سراغ نہیں۔”
لوگ بھی اتنے مصروف و مشغول ، بھول جاتے ہیں کہ برابر میں بیٹھا، بیٹا یا چھوٹا بھائی بھی ہے انھیں ایک نظر دیکھ لیں کہ وہ بھی پیٹ کی آگ بجھانے میں مصروف ہیں یا ان کی ٹیبل تک رسائی ہی نہیں۔
کھانے سے فراغت کے بعد سب سے بڑا ایشو ٹشو کا ہوتا ہے۔ پورا ڈبہ کھانے سے پہلے ہم اپنے چہرے پر لگے دھول مٹی کو صاف کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں ۔ کھانے کے بعد خالی ڈبہ منہ چڑا رہا ہوتا ہے ۔ ہم بھی حسب روایت ٹیبل پر چڑھا کپڑا جو نیچے کو لٹک رہا ہوتا ہے اسی پر ہاتھ صاف کئیے دیتے ہیں۔
حیرت ہے پیٹ کی بھوک تو ختم ہو جاتی ہے لیکن آنکھوں کی بھوک نہیں مٹتی۔ کوشش ہوتی ہے کہ کچھ اور بھی اس شکم بے ہنگم میں ٹھونس دیا جائے۔ جب سب کچھ بے سود نظر آئے اور آخر میں چلنا بھی دوبھر ، تو ہال سے باہر نکل کر جب کوئی ساتھی بتا دیں کہ کافی بھی چل رہی ہے تو لگے ہاتھوں چھوٹے بھائی یا بیٹے سے وہ بھی منگوالی جاتی ہے۔
ان تمام تر شکایات کے باوجود، سردیوں کی ان شادیوں کا ایک پہلو خاصا پُرکشش بھی ہے، اور وہ ہے مہمانوں کا بلا روک ٹوک ‘لذتِ کام و دہن’ سے لطف اندوز ہونا۔ سردی کے اس خوشگوار موسم میں بھوک کی اشتہا بھی دوچند ہو جاتی ہے، لہٰذا ہر کوئی جی بھر کر دسترخوان کا حق ادا کرتا ہے۔ نہ گرمی کی حبس کا خوف، نہ ماتھے پر پسینے کے قطروں کا ڈر اور نہ ہی بار بار پانی پی کر پیٹ بھرنے کا اندیشہ۔ بس گرما گرم کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو ہوتی ہے اور مہمانوں کا وہ والہانہ پن، جو شاید کسی دوسرے موسم میں ممکن ہی نہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں