زندگی خدا کی ودیعت ہے۔ قدرت کاملہ کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ ہر انسان کے پاس ایک امانت کے طور پر ہے جو اسے مخصوص وقت کے لیے دی جاتی ہے اور وقت پورا ہونے پر پھر واپس لے لی جاتی ہے۔ یہ ایک الہی اور کرشماتی بھید ہے۔ اسے رب کائنات ہی جانتا ہے۔دنیا کی ہر چیز اپنے اندر زندگی کا تصور رکھتی ہے لیکن جو زندگی انسان کو دی گئی ہے اس کا تصور بہت ہی خوب صورت اور فوق الفطرت بنیاد پر ہے۔ اس کا آغاز ماں کے پیٹ سے شروع ہو کر لحد تک جاتا ہے۔ یہ نعمت اور برکت اقوام عالم کو برابری کی سطح پر دی گئی ہے۔دنیا میں عقائد و نظریات کی درجہ بندی ضرور ہے لیکن یہ ایک ہی جگہ سے آتی اور پھر اسی جگہ واپس چلی جاتی ہے۔آسمان بھی ایک ہی ہے اور زمین بھی ایک ہے۔تمام دنیا کے لیے ایک ہی سورج جو سب کو روشنی مہیا کرتا ہے۔ ایک ہی چاند جو ہر ماہ اپنی مخصوص روشنی کے ساتھ طلوع و غروب ہوتا ہے۔ ایک ہی طرح کے ستارے جو ساری دنیا کو شب کے پہروں میں نظر آتے ہیں۔ ایک ہی طرح کی ہوا جو سرحدوں کی پرواہ کیے بغیر زندگی کے تصور سے معمور ہے۔ اسی طرح ایک ہی طرح کا پانی ہے جو تمام جسم و روح کو میسر آتا ہے۔ وہ بلا تفریق سب دنیا پر بارش برساتا ہے۔ یہ خدا کی عنایت ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں وقت گزارنے کے مواقع عطا کرتا ہے۔انسان کی زندگی کے تین بہترین ادوار ہیں۔انھی ادوار میں ہمارا بچپن جوانی اور بڑھاپے کی یادوں کا ناقابل فراموش گلدستہ بنتا ہے۔زندگی کے منظر نامے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے زندگی کو سمجھا جائے۔اس پر غور و فکر کیا جائے۔ماں کی گود سے لے کر قبر تک کہ تمام مراحل کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے۔دل و دماغ کو اس بات کی دعوت فکر دی جائے تاکہ وہ اسے سمجھنے کے لیے رجوع کریں۔ انسان روز مرہ زندگی میں بہت سی باتوں پر غور و خوض کرتا ہے۔وقت کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔نشیب و فراز پر بات کرتا ہے۔کامیابیوں سے خوش ہوتا ہے۔ناکامیوں سے سبق سیکھتا ہے۔کیا کبھی ہم نے اس بات پر دل جمی سے سوچا ہے کہ ہماری زندگی کے دن ، مہینے، سال چپکے سے گزر جاتے ہیں، لیکن ہمیں اس بات کی کوئی خبر نہیں ہوتی کیوں کہ ہم اپنے کاموں میں اس قدر مشغول رہتے ہیں کہ ہمیں اپنی نبض دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ کمزور ہے یا تیز۔ ہم محض بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ خبر نہیں کہ ہمیں کامیابی ملے گی یا ناکامی، لیکن وقت کےاتار چڑھاؤ سے واقف نہیں ہوتے۔بعض اوقات انسان اپنی مجبوریوں کے باعث اس قدر غافل ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی بیماری کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ قریب المرگ ہوتا ہے۔تفکرات کی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ ہماری معاشی مجبوریاں اس قدر بڑھ چکی ہیں، جہاں زندگی کو سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔بلکہ ہم بے لگام گھوڑے کی طرح سفر کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔عصر حاضر میں زمینی زندگی بہت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ تیز رفتاری اور حادثات کے باعث بہت سی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، لیکن قدرت کا نظام بڑا فرق ہے۔اس نے ہماری زندگی کی حدوں کو ٹھہرایا ہوا ہے۔کوئی بچپن میں ، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں دار فانی ہو جاتا ہے۔اگر اس حقیقت کو قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موت ایک عبرت ہے، جو ہمیں اس بات کی تلقین کرتی ہے کہ سب نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ کوئی اس سے بھاگ نہیں سکتا۔چھپ نہیں سکتا۔انکار نہیں کر سکتا۔ بلکہ ایک نہ ایک دن قدرت کی پکڑ میں آنا مقصود ہے۔ وقت کی تیز رفتاری اور دسمبر کی رخصتی سے پہلے بیتے دنوں، مہینوں اور سالوں کا تجزیہ ضرور کریں۔دل و دماغ کو سوچنے کا بھرپور موقع دیں۔ زندگی کے سفر کے ساتھ ہم کلامی کریں۔ ہر بات میں خدا کی شکر گزاری کریں۔ اس کی دی ہوئی برکتوں اور نعمتوں کی شکر گزاری کریں۔بڑبڑانے سے گریز کریں۔ مثبت سوچ اپنائیں۔منفی قوتوں کو ترک کر دیں۔ بے جا فخر سے گریز کریں کیوں کہ غرور کا سر نیچا ہے۔حلیمی اور عاجزی اختیار کریں۔ میل ملاپ کی روح رکھیں۔کسی کو حقیر نہ جانیں کیوں کہ خدا پل بھر میں امیری کے پر اور غریبی کا کشکول انسان کے گلے میں ڈال دیتا ہے۔یہ سب کچھ انسانی سوچ ، خیال، طاقت اور اختیار کے بس کی بات نہیں ہے۔یہ اس کی منشاء ہے کہ وہ جسے چاہے نواز دے ، لیکن اسے پسند آنا ضرور ہے کیوں کہ جب کوئی اسے دل کے موافق مل جاتا ہے تو وہ اسے سرفراز کرتا ہے۔ ویسے انسان تو ہر روز اپنی سوچوں کا دیا جلاتا ہے۔ان سے رہنمائی لیتا ہے اور آج اس دیے کی روشنی میں اپنے اعمال و کردار پر ضرور غور و خوض کریں۔اپنے ہر فعل کو خوردبین سے دیکھنے کی کوشش کریں یقینا جب ہم ایسا کریں گے تو ہمارے اندر خود احتسابی کی روح پیدا ہوگی۔وہ ہمیں ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے پر مجبور کرے گی۔گناہوں سے توبہ کی توفیق دے گی۔ اپنی غلطیوں پر پشیمانی کا موقع دے گی۔ ہمارے اندر مثبت سوچ کی روح پیدا کرے گی لیکن یہ سب کچھ تبھی ہوگا جب دسمبر کی رخصتی سے پہلے ہمیں ذہن کی پردہ سکرین پر ماضی کے تمام واقعات کو دیکھنے کی جسارت کریں گے۔ یاد رکھیں ایک نہ ایک دن ہم سب نے اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں