توانائی شعبے میں مسابقتی نظام کا فیصلہ/مہوش عابد

حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں بجلی کے شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ریاست کی جانب سے بجلی کی براہ راست خریداری (State-led power purchases) کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کے شعبے کو مسابقتی، مالی طور پر پائیدار اور نجی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانا بتایا جا رہا ہے۔ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ہی گردشی قرض، مہنگی بجلی اور کمزور تقسیم کار کمپنیوں جیسے مسائل سے دوچار ہے۔
پاکستان کا موجو دہ نظام زیادہ تر ریاستی کنٹرول پر مبنی ہے، جہاں حکومت یا اس کے ادارے نجی پاور بروڈیوسرز (IPPs) سے بجلی خریدتے ہیں اور آگے صارفین تک پہنچاتے ہیں۔ اس نظام کے تحت حکومت نے طويل المدتی معاہدے کے جن میں- کیپیسٹی پیمنٹ
– ڈالر سے متصلک نرخ وغیرہ
جس کے نتیجے میں حکومت پر مالی دباؤ بڑھتا گیا اور گردشتی قرض ایک سنگین مسئلہ بن گیا۔ اسی تناظر میں حکومت اب Competitive Trading Bilateral Contract Market (CTBCM) کے ذریعے بجلی کو مارکیٹ کی بنیاد پر خرید و فروخت کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔
حکومت کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:

حکومت بجلی کی خریداری میں درمیانی کردار (middleman) سے نکل آئے۔
بجلی پیدا کرنے والے اور خریدنے والے براہِ راست معاہدے کریں۔
قومی گرڈ کو صرف ٹرانسمیشن سروس کے طور پر استعمال کیا جائے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے

بجلی کے نرخ شفاف ہوں گے۔
مالی بوجھ کم ہوگا۔
اور توانائی کے شعبے میں طويل المدتی اصلاحات ممکن ہوں گی۔
اس کے نتیجے میں ممکنہ فوائد ہو سکتے ہیں
مسابقتی نظام کے باعث بجلی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔
حکومت کو مہنگے معاہدوں اور سبسڈی کے بوجھ سے نسبتی نجات مل سکتی ہے۔
نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا کیونکہ مارکیٹ میں قواعد واضح اور مسابقت موجود ہوگی۔
توانائی شعبی میں جدت کارکردگی اور بہتر منصوبہ بندی کو فروغ مل سکتا ہے۔
لیکن یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آیا پاکستان کا موجودہ ادارہ جاتی اور معاشی ڈھانچہ اس قسم کی آزاد منڈی کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک میں مسابقتی جہاں بختی مارکیٹس کامیاب رہی ہیں، وہاں کمزور معیشتوں میں یہ نظام عدم مساوات اور قیمتیں میں عدم استحکام بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لئے اصلاحات کا نفاذ مرحلہ وار، شفاف اور مضبوط ریگولیٹری نگرانی کے بغیر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
مقابلہ تجارتی نظام کمزور ریاستوں میں اکثر معاشی عدم مساوات کو بڑھا دیتا ہے۔ بڑی صنعتی صارفین سے اور براہ راست معاہدوں کے ذریعے فائدہ اٹھائے ہیں، جبکہ گھریلو صارفین مہنگی اور غیر یقینی فراہمی کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔ اس فرق سے معاشرتی تقسیم گہری ہو جاتی ہے۔

بحران کے وقت حکومتی بے  بسی

کمزور ریاستوں میں جب عالمی توانائی بحران، جنگ یا قدرتی آفات کا سامنا ہوتا ہے تو مقابلہ نظام حکومت کے ہاتھ باندھ دیتا ہے۔ چونکہ فیصلے مارکیٹ کے تابع ہوتے ہیں، اس لیے ریاست فوری طور پر قیمتیں کنٹرول کرنے یا عوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحران کے دوران کمزور ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے

کمزور ریاستوں میں جب حکومت بجلی یا دیگر اسٹریٹجک شعبوں کو مقابلتی منڈی کے حوالے کرتی ہے تو وہ قیمتوں اور فراہمی پر براہ راست کنٹرول کھو دیتی ہے۔ ایسی ریاستوں میں عالمی منڈی کے انار چڑھاؤ کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں، جس سے قومی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ توانائی جیسے حساس شعبے میں یہ صورتحال قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

عوامی مفاد کے بجائے منافع کی ترجیح

بجلی کا مقصد منافع کا حصول ہوتا ہے، نہ کہ عوامی فلاح۔ کمزور ریاستوں میں جہاں غربت زیادہ اور سماجی تحفظ کمزور ہوتا ہے، وہاں یہ نظام غریب اور متوسط طبقے کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ بجلی، گیس یا دیگر بنیادی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو سکتی ہیں، جس سے سماجی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔
اور جناب ریاستی سطح پر بجلی کی خریداری کا خاتمہ بلاشبہ ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ یہ اس کی کامیابی کا انحصار محض اعلان پر نہیں بلکہ عمل درآمد، ادارہ جاتی اصلاحات اور صرف کے تحفظ پر ہے۔ اگر حکومت نے اس نظام کو احتیاط، شفافیت اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے نافذ کیا تو یہ بجلی کے بحران کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ اصلاحات مزید پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔
مسابقتی توانائی منڈی معاشی اصلاح ضرور ہے،
مگر کمزور ریاستوں کے لیے یہ اصلاح
معاشی خودمختاری کا امتحان بھی بن سکتی ہے
کیا تاریخ میں کبھی حکومتوں نے مسابقتی دوطرفہ تجارتی نظام اختیار کیا ہے؟

جی ہاں، یہ نظام تاریخ میں کنی ممالک اپنا چکے ہیں۔

دنیا کے مختلف خطوں میں حکومتوں نے ریاستى کنٹرول سے نکل کر مسابقتی دو طرفہ تجارتی نظام (Competitive) Trading Bilateral Market اپنایا، خاص طور پر توانائی اور بجلی کے شعبے میں۔
تاریخی مثالیں

1. برطانیہ (United Kingdom)

برطانیہ نے 1980 کی دہائی میں:
بجلی اور گیس کے شعبے کو ریاستی کنٹرول سے نکال کر
مسابقتی مارکیٹ میں منتقل کیا۔

نتیجہ:
نجى سرمایہ کاری بڑھی
توانائی کی منڈی آزاد ہوئی
مگر بعد میں قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا
یہ ماڈل دنیا کے دیگر ریفرنس پوائنٹ بن گیا۔
یورپی یونین

یورپی یونین نے:

مشترکہ یورپی انرجی مارکیٹ بنائی
بجلی کی آزاد خرید و فروخت کی اجازت دی
سرحد پار بجلی تجارت کو فروغ دیا

نتیجہ:

توانائی کا انحصار کم ہوا
مگر روس – یوکرین جنگ کے بعد
آزاد منڈی کی کمزوریاں بھی سامنے آئیں
چلی

چلی لاطینی امریکہ کا پہلا ملک تھا جس نے:

بحالی کا مکمل مسابقتی نظام اپنایا۔

نتیجہ:

مارکیٹ مؤثر ہوئی
لیکن کمزور طبقے کے لیے
ریاست کو دوبارہ مداخلت کرنا بڑی
بھارت

بھارت نے:
بجلی کے شعبے میں اوپن ایکسس اور مقابلتی نیلامی کا نظام متعارف کرایا

نتیجہ:
صنعتی صارفین کو فائدہ
مگر عام گھریلو صارف اب بھی ریاستی تحفظ پر انحصار کرتا ہے

لیکن جناب سوال یہ نہیں کہ:
”یہ نظام دنیا میں موجود ہے یا نہیں؟“

بلکہ اصل سوال یہ ہے
”کیا پاکستان کے ادارے، معیشت اور صارف اس نظام کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟“

 

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply