حیلہ

یا آپکی زنبیل میں اب بھی کوئی معتضد بااللہ موجود ھے جو آپ کے لئیے کسی نئے حیلے کا بندوبست کر دے گا؟

ابو عبداللہ محمد بن حمدون خلیفہ معتضد بااللہ کا مصاحب خاص تھا.ایک دن رات کے کھانے پر جب کھانا چنا جا چکا تو خلیفہ نے ابن حمدون کو حکم دیا کہ ہمیں کھانا کھلاو. دستر خوان پر جوان مرغ مسلم اور بھنے ہوئے تیتر چنے گئے تھے، میں نے مرغ کے سینے کا گوشت اتار کے پیش کیا تو خلیفہ نے کہا ران کا گوشت لاو۔ چند لقمے تناول فرمانے کے بعد تیتر کا گوشت اتارنے کا ایما کیا تو میں نے انکی ران کا گوشت نکال کے پیش کیا تو فرمایا تجھے کیا ہو گیا ہے آج عجب حرکات کر رہا ھے، تیتر کے سینے کا گوشت نکال.میں نے زرا سراسیمگی سے کہا ،آج تو میں نے عقل کو پاوں کے نیچے دبا رکھا ھے کہ یہ بعید از عقل حرکات سرزد ہو رہی ھیں.تو خلیفہ بے ساختہ ہنس دئیے.

اس پر ابن حمدون نے عرض کیا کہ آقا میں آپکو ہمیشہ ہنساتا ہوں اور آپکی دلجوئ میں لگا رہتا ہوں مگر آپ نے مجھے کبھی خوش نہیں کیا.

اس پر خلیفہ نے کہا کہ اس رومال کو اٹھاو اور جو ملے لے لو.رومال کو اٹھایا تو ایک دینار ملنے پر ابن حمدون نے شاکیانہ انداز میں کہا کہ اے آقا اپ خلیفہ ھیں اور اپنے ندیم کو صرف ایک دینار سے نواز رھے ھیں ؟

اس پر خلیفہ نے کہا کہ بیت المال میں تیرا اس سے زیادہ کوئ حق نہیں اور ذاتی مال سے میں تجھے کچھ دینے کو تیار نہیں.تاہم تو میرا مصاحب خاص ھے تو میں ایک حیلہ کرتا ہوں تجھے بہتیرا کچھ حاصل ہو جائے گا.ابن حمدون نے انبساط میں خلیفہ کے ہاتھ کو بوسہ دیا.

خلیفہ نے کہا کہ اب تو سن کل جب قاسم یعنی ابن عبید اللہ (وزیر) آئیں گے دربار میں، جب میری نظر ان پر پڑے گی تو میں دیر تک غصہ کی حالت میں تیرے ساتھ سر گوشی کروں گا، اور تو اس دوران مسلسل وزیر کی طرف دیکھتا رہنا. جیسے ہی میری سرگوشی ختم ہو جائے تو فورا چلے جانا مگر دہلیز مت چھوڑنا.

تب یہ متحیر وزیر تیرے ساتھ بڑی کاسہ لیسی اور عمدگی سے پیش آئے گا، تیرے احوالے دریافت کرے گا ،مدعو اور اکرام بھی کرے گا۔ تو اس سے اپنی محرمیوں اور ناداری اور میرے بخل اور شقاوت قلبی کا شکوہ کرنا، جس پر وہ آیندہ تیری خبر گیری کاوعدہ بھی کرے گا اور تجھے نوازے گا بھی. بات جب ماجرا کے بارے استفسار تک جو کہ اصل مقصود ہو گی پہنچے تو یہ یقین کر لینا کہ تجھے عطا کر دہ تمام عناتیں تیرے گھر پہنچ گئی ھیں.

طامع، بن حمدون کی تشفی کے بعد وزیر ابن عبید اللہ نے ابن حمدون پر بیوی کی طلاق کی شرط کے ساتھ حلفآ سچ بولنے کی تاکید کی اور سوال کیا کہ خلیفہ میرے بارے میں تمہارے ساتھ کیا سرگوشی کر رہے تھے.( یقینآ خلیفہ کی ہدایت کے مطابق اموال غنیمت میرے دولت کدہ پر پہنچ چکے ہوں گے ) میں نے بسر و چشم سچ کہنے کی یقین دہانی کروائ اور کامل سچائ کے ساتھ سارا واقعہ کہہ سنایا.
اس پر دم بستہ وزیر نے کہا تم نے ہمیں بہت ہلکا کر دیا ھے. چونکہ خلیفہ کی نیت نیک ھے تو ہمیں اس پر کو ئی گرانی نہیں. ابن حمدون ممنونیت اور تشکر کے ساتھ رخصت ہو گیا.

اگلے روز جب خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو خلیفہ نے کہا اپنی سرگزشت سناو، کیا بیتی تمہارے ساتھ؟ تو اس نے تما م داستان سنا دی . اس پر خلیفہ نے کہا ک جواہر و دینائر کی حفاظت رکھنا اور خیال رکھنا کہ میں جلد ہی ایسا کوئ حیلہ پھر نہ کر دوں__!

مرحوم زکاوت کے ضیا، خلیفہ کو کیا پتہ تھا کہ اسکے مطبخ کا یہ بھنڈاری حیلوں سے پرے پانامہ اور بہامس کے پتے معلوم کئیے بیٹھا تھا اور اب تو وہ نہ صرف شریف بھی کہلاتا ھے بلکہ ایک اندھیر نگری کا سلطان بھی ھے۔ تاہم کبھی مشرف کے شرف اور کبھی اس شریف کا کاونٹر شریف اسکے حیلوں کا کوئ جائز وسیلہ بن پانے میں ضرور رکاوٹ بنے رہتے ھیں.

تو میاں صاحب جب آج اپ پانامہ پیپر ز پر آنے والی آئینی درخواستوں کو چلینج کرنے کے بجائے معاملے کو عدالت برد کرنے پر رضامند ہو ئے ھیں تو پچھلے چند ماہ کی مزاحمت اور لیت و لعل چہ معنی وارد؟ البتہ آپ ایک اچھے مینیجر ھیں اس میں کوئ شک نہیں۔ اگر چہ اس بار جمہور معاملہ مینیج ہونے کے بجائے اسکے جسٹی فائ ہونے کے متمنی ھیں.

کچھ ایسی ہی دلیرانہ مہم آپ نے آٹھویں ترمیم پر اسحاق خان سے ٹکرانے کی بھی اپنے سر لی تھی، اور تب بھی آپ نے میر شکیل الرحمن کے اخبار کی حمایت کیلیئے اپنا ایک ایلچی بھیجا تھا جس پر شکیل الرحمن، جو ایک سمجھدار انسان تھے نے اپکو نیک صلاح دی تھی. اور شاید اس بار آپ نے اس بات سے سبق سیکھا اور اول یوم سے ہی مخصوص میڈیا ہاوسز کو اپنے کام پر لگا دیا.

تو کیا یہ بھی اسی طرح کے کسی امکانی خطرے کا سدباب ھے جس میں آپکو یہ خوف تھا کہ جنرل مشرف آپکی حکومت کا تختہ الٹ دے گا؟ اور اسی اندیشے کے پیش نظر آپ ماضی میں وار سے پہلے وار کر گئے جو کہ خود اپ پر ایک کارا وار ثابت ہوا.

جو نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف چلتا محاز ابھی تو سندھ سے پنجاب پہنچا ہی تھا ، پانامہ کو بھی آپ اب تک بخوبی ڈرا کی طرف کھیل رہے تھے ، المیڈا والی خبر کی مخبری کی حیثیت بھی اگر تو کسی ایسے ہی نایٹ واچ مین کی تھی اور بوقت ضرورت و مجبوری صحافی کی بھی پچھلی حکومت کے دور میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خواجہ شریف کے قتل کی سازش میں ایک کینسر کے مریض اے ایس آئ کو قربان کرنے والی مشق کے مصداق قربان کر دینے کی ھے ، تو جناب اس بار فریق الثانی عساکر ھے نہ کہ پیپلز پارٹی، اور زبیحہ بھی معمولی نہیں.

بصورت دیگر 6 اکتوبر سے لیکر اب تک اگر آپ خبر کے “دانستہ غیر دانستہ” فاش کنندہ کو نہیں تلاش کر سکے، عمران خان بھی اگر اپنی آخری اور فیصلہ کن اننگ کھیلنے جا رہا ھے ،سپریم کورٹ آگے بڑھنے کو تیار ہو چکی ھے ، اور اب تک شرافت کے بعد بڑے شریف کے ماتھے پر بھی شکنیں نمودار ہو چکی ھیں، جبکہ ملک حالت جنگ میں ھے اورعوام، سول اور عسکری لیڈر شپ کو متحد ہونے کی ضرورت ھے تو ایسے حالات میں سچ کو سامنے آ جانا چاہئیے.اور آپ اس وقت ملک کے چیف ایگزیکٹیو ھیں،اور یہ سب سوال آپ سے ہی متعلقہ ھیں.

اگر 1739 میں نادر شاہ کے پشاور سے لکھے گئیے خط کو محمد شاہ رنگیلا “دفتر بے معنی” قرار دے کر مئے ناب کے پیالے میں غرق نہ کرتا تو دہلی میں خون کی کھیلی گئ ہولی کے دوران شاہ کا سفید ریش وزیر نظام الملک دہلی کی ایک مسجد کی سڑھیوں پر تلوار تانے بیٹھے نادر شاہ کے پاوں نہ پکڑتا____!

جو آپ سے ہونی والی ہر میٹنگ میں مخبر مانگ رھے ھیں، انکو مخبر دے دیجئیے. جو رسیدیں مانگتے ھیں انہیں رسیدیں دے دیجئیے، جو قصاص مانگتے ھیں انہیں قصاص دیجئیے اور عوام جو کہ آپ سے گلو خلاصی چاہتے ھیں انکی داد رسی کر دیجئیے. اپ کا حادثاتی یا شوقیہ طور پر طور پر سیاست کی اس رزم گاہ میں آ جانے کو کافی بھگت لیا گیا ھے._____no more please.

یا آپ کے زنبیل میں اب کوئ متضد بااللہ موجود ھے جو اپکے لئے کسی نئے حیلے کا بندوبست کر دے گا ؟

غیر مرئ طاقتیں بھی اپنا وجود اور ثبوت رکھتی ھیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *