جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کی موجودگی کو عوامی رائے کی ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصور عمومی طور پر درست بھی ہے کہ جتنی زیادہ جماعتیں ہوں گی، اتنی ہی زیادہ آوازیں پارلیمان میں سنائی دیں گی۔ تاہم پاکستان جیسے سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر نازک ملک میں سیاسی جماعتوں کی حد سے زیادہ کثرت اکثر جمہوریت کے استحکام کے بجائے انتشار اور کمزوری کا سبب بنتی نظر آتی ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ جماعتیں ہونی چاہئیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر نئی جماعت واقعی جمہوری ضرورت ہے یا محض اقتدار کی سیاست کا ایک نیا ہتھیار؟
پاکستان میں اس وقت درجنوں سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے اکثریت کا نہ کوئی واضح نظریہ ہے اور نہ ہی عوامی سطح پر مضبوط جڑیں۔ بہت سی جماعتیں وقتی حالات، ذاتی اختلافات یا اقتدار سے محرومی کے ردِعمل میں وجود میں آتی ہیں۔ نتیجتاً سیاست نظریات کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگتی ہے، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔
سیاسی جماعتوں کی کثرت کا سب سے بڑا نقصان سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث کمزور اتحادی حکومتیں بنتی رہی ہیں۔ ایسی حکومتیں نہ صرف فیصلہ سازی میں سست ہوتی ہیں بلکہ چھوٹی اتحادی جماعتوں کے دباؤ کے آگے بے بس بھی دکھائی دیتی ہیں۔ قومی مفاد کے فیصلے اکثر اتحادیوں کو خوش کرنے کی نذر ہو جاتے ہیں، جس سے ریاستی پالیسیاں غیر مؤثر ہو کر رہ جاتی ہیں۔
اتحادی سیاست میں سودے بازی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ چند نشستیں رکھنے والی جماعتیں وزارتوں، فنڈز اور مراعات کے حصول کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ اس صورتحال میں عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی بندر بانٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یوں جمہوریت ایک نظریاتی نظام کے بجائے مفادات کی منڈی بن کر رہ جاتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کی کثرت کا ایک اور سنگین نقصان ووٹ کی تقسیم ہے۔ جب ایک ہی نوعیت کی سوچ رکھنے والی متعدد جماعتیں میدان میں ہوں تو ووٹ بکھر جاتا ہے، جس کا فائدہ بعض اوقات ایسی قوتوں کو پہنچتا ہے جنہیں عوام کی واضح اکثریت حقیقی معنوں میں قبول نہیں کرتی۔ اس طرح عوامی مینڈیٹ کمزور پڑ جاتا ہے اور منتخب حکومت کی اخلاقی حیثیت پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں یہ مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ صورت اختیار کر لیتا ہے جب سیاست لسانی، نسلی یا علاقائی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے۔ ایسی جماعتیں قومی سوچ کے بجائے محدود مفادات کی نمائندگی کرتی ہیں، جس سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے ضروری ہے کہ سیاست کا محور پوری قوم ہو، نہ کہ صرف علاقہ یا برادری۔
انتخابی عمل بھی سیاسی جماعتوں کی کثرت سے منفی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ زیادہ جماعتوں کی موجودگی سے انتخابی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر شفاف فنڈنگ اور کرپشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے سیاست میں حصہ لینا مزید مشکل ہو جاتا ہے اور یوں سیاست چند سرمایہ دار یا بااثر طبقات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان تمام عوامل کے نتیجے میں عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ بار بار حکومتوں کی تبدیلی، ناکام اتحاد اور وعدوں کی عدم تکمیل عوام کو سیاست سے بدظن کر دیتی ہے۔ یہی بداعتمادی جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سیاسی جماعتوں کی تعداد کم کرنے کے لیے غیر جمہوری طریقے اختیار کیے جائیں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی نظام میں نظریاتی سیاست، اندرونی جمہوریت اور مؤثر انتخابی اصلاحات کو فروغ دیا جائے۔ مضبوط اور نظریاتی جماعتیں ہی ملک کو استحکام دے سکتی ہیں، نہ کہ وقتی اور مفاداتی گروہ۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی بے تحاشا کثرت جمہوریت کو مضبوط کرنے کے بجائے اکثر کمزور کرتی ہے۔ اگر سیاست کو واقعی عوامی خدمت کا ذریعہ بنانا ہے تو مقدار کے بجائے معیار کو ترجیح دینا ہوگی، ورنہ جمہوریت کا خواب محض ایک نعرہ ہی بن کر رہ جائے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں