پاکستان میں 5 200کے بعد کئی شہروں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی، سب سے زیادہ پابندیاں کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں دیکھنے کو ملی ہیں، جہاں پتنگ بازی سے جڑنے والی مختلف مشکلات جیسے کہ دھاتی دھاگے (جو پتنگوں کو کاٹنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں) کی وجہ سے لوگوں کو شدید چوٹیں آتی ہیں یا حادثات ہوتے ہیں۔ ان دھاگوں کا تیز اور سخت ہونا، گاڑیوں کے ٹائروں کو نقصان پہنچانا اور دوسروں کے لیے خطرہ بننا بھی ان پابندیوں کی وجہ ہے۔
اور اس کے ساتھ ہی پتنگ بازی کے سامان جیسے دھاتی دھاگے اور پتنگیں بیچنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی تھیں۔ تاہم، یہ سرگرمی عید، خاص طور پر محرم اور دیگر تہواروں کے دوران عوام میں ایک بڑے تفریحی جزو کے طور پر جانی جاتی ہے۔
پتنگ بازی کبھی ہماری ثقافت کا حسین حصہ ہوا کرتی تھی۔ بسنت کے دنوں میں آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا تھا اور گلیوں میں خوشیوں کی صدائیں گونجتی تھیں۔ مگر وقت کے ساتھ یہ شوق ایک خطرناک جنون میں بدل گیا۔ کیمیکل ڈور نے نہ صرف انسانوں بلکہ پرندوں کی جان بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔ ہر سال قیمتی جانوں کا ضیاع اس بات کا ثبوت ہے کہ تفریح جب حد سے بڑھ جائے تو المیہ بن جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شوق اور شعور کے درمیان توازن قائم کیا جائے، تاکہ خوشی کسی کی موت کا سبب نہ بنے۔
تنگ بازی کے نام پر استعمال ہونے والی کیمیکل ڈور ایک خاموش قاتل بن چکی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹ جانا، پرندوں کا زخمی ہو کر تڑپنا اور بچوں کا معذور ہونا معمول بنتا جا رہا ہے۔ قانون موجود ہے مگر عملدرآمد ندارد۔
سوال یہ ہے کہ کیا چند لمحوں کی تفریح انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں اجتماعی طور پر اس خطرناک روایت کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ثقافتیں انسانوں کو جوڑنے کے لیے ہوتی ہیں، توڑنے کے لیے نہیں۔ پتنگ بازی اگر روایت ہے تو اسے محفوظ طریقے سے زندہ رکھا جانا چاہیے۔ سادہ ڈور، مقررہ مقامات اور سخت نگرانی کے بغیر یہ کھیل کھیل نہیں بلکہ جرم بن جاتا ہے۔
حکومت، والدین اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو یہ سکھائیں کہ اصل مزہ زندگی میں ہے، نہ کہ کسی کی جان لے کر جیتنے میں۔
______________
پنجاب میں متعدد افراد پتنگ کی ڈور (خاص طور پر دھات یا سخت مانجھا) کی وجہ سے موت یا شدید زخموں کا شکار ہوئے — مثال کے طور پر سرگودھا اور فیصل آباد میں کم از کم 2 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
یک رپورٹ کے مطابق لاہور میں پچھلے سال تقریباً 25 افراد زندگی کی بازی ہار گئے اور 47 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔
• حادثات میں نہ صرف گلے پر زخم بلکہ چھت سے گرنے، بجلی لگنے، یا دو پہیہ پر چڑھتے وقت ڈور پھنس جانے جیسے واقعات بھی شامل ہیں۔
انسانی جلد، گلے اور نسّیں بہت آسای سے کاٹ سکتی ہے، خاص طور پر دو پہیہ یا پیدل افراد پر۔
اگر ہم واقعی پتنگ بازی کو ایک کھیل کے طور پراس سے محظوظ ہوناچاہتے ہین تو دی گئی ہدایات پر عمل کر کےا س کھیل سے لطف اندز ہو سکتے ہیں
پتنگ بازی اگر محفوظ اصولوں کے ساتھ ہو تو ثقافت کا حسن ہے، لیکن اگر جان لیوا بن جائے تو اس پر نظرِ ثانی ناگزیر ہے۔ ہمیں خوشی اور انسانی جان کے درمیان درست توازن پیدا کرنا ہوگا—کیونکہ ایک لمحے کی تفریح کسی کی پوری زندگی پر بھاری نہیں ہونی چاہیے۔
پتنگ بازی اگر محفوظ اصولوں کے ساتھ ہو تو ثقافت کا حسن ہے، لیکن اگر جان لیوا بن جائے تو اس پر نظرِ ثانی ناگزیر ہے۔ ہمیں خوشی اور انسانی جان کے درمیان درست توازن پیدا کرنا ہوگا—کیونکہ ایک لمحے کی تفریح کسی کی پوری زندگی پر بھاری نہیں ہونی چاہیے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں