انسان چاہے کسی فوٹ پاتھ پہ بیٹھے نجومی کو ہاتھ دکھائے یا فال نکلواۓ، قیاس، اندازے اور کاغذوں میں لکھے لفظوں سے جو قسمت کا حال معلوم ہوتا ہے وہ غالب کے بقول، ‘ دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے’. یا ہم یہ ماننے پر تیار ہو جاتے ہیں کہ ‘ کسی نجومی نے کہا ہے، یہ سال اچھا ہے’ . کیسی خوش گمانی سی خوش گمانی ہے؟ اگرچہ حال بتانے والے کو خود بھی اپنے حال کا علم نہیں ہوتا۔ نہ وہ خود اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتا ہے جہاں غربت اور محتاجیوں کی جھریاں اس کے دل پر چھریاں چلا رہی ہوتی ہیں۔ اگر وہ واقف حال ہوتا تو یوں فوٹ پاتھ پہ گزر بسر کرتے ہوئے، اس حال پہ نہ پہنچتا۔ ہمارا یقین ہے کہ قسمت میں جو بھی ہوتا ہے، وہ بعینہ ‘ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے’ ۔ ضروری نہیں اس میں مدعی کے لاکھ برا چاہنے کا کردار ہو۔ انسان کے اپنے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ وہ جو بھی کرتا، کھاتا پیتا، لکھتا پڑھتا ، کماتا اور سفر اختیار کرتا ہے، اس کا ایک ایک پل کاتب تقدیر کے تابع ہوتا ہے۔ بھلے ہم جتنے بھی ہاتھ پاؤں ماریں، ہمیں اس وقت تک کامیابی نہیں ملتی جب تک قدرت کو منظور نہ ہو۔ ناکامیوں اور مشکلات کے پیش آنے پر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس میں فلاں کا ہاتھ ہے، لیکن اللہ کی منشاء و مرضی کے بغیرتو ایک پتہ بھی نہیں ہلتا۔ ہم اکثر اپنی جیت یا کامیابی کو اپنی محنت، منصوبہ بندی اور کسی کی مدد کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ مگر یہاں بھی اس کے مواقع اللہ کے حکم سے ہی میسر آتے ہیں۔
ایک دفعہ دو بچوں میں زبانی لڑائی ہو رہی تھی۔ ایک بچے نے دوسرے کی بات کاٹی تو دوسرے نے اپنا ہاتھ اٹھا کر مارنے کا اشارہ کیا ، پہلے بچے نے برجستہ جواب دیتے ہوۓ کہا ، یہ ہاتھ کھانا کھانے کے لئے ہوتے ہیں، دکھانے کے لئے نہیں۔ ایک معروف جملہ ہے کہ ” دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا ” ، اسی طرح کہا جاتا ہے کہ مدد اور تعاون کے لئے ہاتھ بڑھانے والے کی نیت کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے، لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ بظاہر آپ کی مدد کا بیڑہ اٹھانے والا، آپ کے کام بگاڑ دیتا ہے۔ پھر انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ نے ارادتآ یا غلطی سے کسی کے ساتھ ہاتھ کیا ہو، یعنی دھوکا دیا ہو، تو فریق ثانی بھی ہاتھوں ہاتھ آپ کا ادھار چکتا کر دیتا ہے۔ اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک ہاتھ دے اور دوسرے ہاتھ لے۔ ہمارے بڑوں کا قول ہے کہ عزت اس انسان کی نہیں ہوتی جو ہاتھ پاؤں سلامت ہونے کے باوجود خود اپنے تئیں کچھ نہیں کرتا، بلکہ چاہتا ہے کہ دوسرے اس کے مدد گار بنے رہیں۔ وہ دوسروں سے مانگ مانگ کر کھاتا ہے۔ ایسے شخص کی کیا عزت ہوگی جو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتا رہے۔
انسان جب تک ہاتھ پاؤں نہ مارے، وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے محنت کرنا شرط ہے۔ باقی معاملہ اللہ پہ چھوڑ دے۔ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھے رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے کہ ‘ لیس الانسان الا ما سعی’ ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کے ساتھ حسد کیا جاتا ہے۔ کسی کے پاس دولت زیادہ ہو، لوگ اس سے جلنے لگتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جب خود حاسد کو پیسے درکار ہوں تو وہ اسی مالدار کے آگے دست سوال دراز کرنے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں برائیوں کو برائی نہیں سمجھا جاتا، اس لئے برائیوں کے تدارک کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اگرچہ مرد حضرات کا دعویٰ ہے کہ وہ صنف نازک کے مقابلے میں قوی تر ہوتے ہیں، لیکن اس بارے میں وہ بے بس نظر آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ہاتھوں میں چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جب کوئی کسی کو برائی میں مبتلا دیکھے تو پہلے اسے ہاتھ سے روکے، اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو اسے زبان سے روکے، ایسا کرنا بھی مشکل ہو تو کم از کم دل سے اس کو برا سمجھے، اور یہ سب سے کم درجے کی نیکی ہے۔
والدین کے بارے میں ہم اپنے بہت سے کالمز میں کہہ چکے ہیں کہ اولاد کی اچھی تربیت میں انکا ہاتھ ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بچوں کی اصلاح مار پیٹ کے ذریعے کریں۔ بچے مار کے خوف سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہیں مگر بار بار تادیبی کارروائی کرنے اور جسمانی سزا دینے سے بچے ڈھیٹ اور ضدی ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے کہ ان کی طرف پیار محبت کا ہاتھ بڑھائیں۔ بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ وہ پیار کی زبان سمجھتے ہیں، مار کی نہیں۔ انہیں سمجھا کر، اور بہلا پھسلا کر انکے کام میں ہاتھ بٹانا کار گر ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً صبح سویرے انکا ہاتھ منہ دھلانے، ناشتہ کرانے اوراسکول کے لئے تیاری میں مدد دینے سے بچوں میں خوشگوار احساس پیدا ہوتا ہے۔
ایسا تاثر ہرگزدرست نہیں، کہ دنیا میں سب لوگ برے ہیں، اب بھی دنیا میں اچھے لوگ روشن مینارہ بنے ہوۓ ہیں۔ وہ دوسروں کا سہارا بنتے ہیں۔ معذوروں اور محتاجوں کی اس طرح مدد کرتے ہیں کہ دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ وہ مجبور لوگوں کے لئے دست راست بنتے ہیں۔ اللہ کریم، کبار کا ادب کرنے اور صغار پر دست شفقت رکھنے والوں کو بڑا اجر دیتا ہے۔ اگر ہم اس راز کو پا لیں تو بڑے بھی ہم سے خوش رہیں گے اور چھوٹے بھی۔ یاد رکھئے کہ جو ہاتھ ظلم اور بربریت کرتے ہیں، اگر ان کے خلاف لوگ اٹھ کر جہاد نہیں کریں گے، تب تک ظلم بڑھتا رہیگا۔ جب تک چوری کرنے والے کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے، انصاف قائم نہ ہوگا۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم ہاتھوں کا استعمال درست نہیں کرتے، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم ھاتھوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ مثلآ جب ہم کسی سے ملتے ہیں تو سلام کرنے کی بجاۓ ہاتھ ملانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ یعنی وضع دار لوگوں کو خفا کرتے ہیں۔ اسی طرح جب کسی سے دعا سلام کرتے ہیں تو ہاتھ کو سر تک لیجا کر اشارتآ سلام کرتے ہیں پھر بعد میں کلام کرتے ہیں۔ یہ ہاتھ اٹھانے کا بے جا استعمال ہے۔ ہاتھ اٹھانے کی بات آئی ہے تو یہاں بھی ہاتھ کی ایک زیادتی نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض والدین، خاص طور پر بابا، ابو، ڈیڈی اپنے بچے کی غلطی پر سمجھاتے کم اور بار بار ان پرہاتھ ذیادہ اٹھاتے ہیں۔ اسے ہمارے علاوہ اہل مغرب کے نزدیک بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کے لوگ، بچے تو بچے بڑوں کو بھی ہاتھ نہیں لگاتے۔ ورنہ انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہمارا طرزعمل بھی بعض اوقات ٹھیک نظر نہیں آتا۔ یعنی ہم احتیاط پسندی سے کام نہیں لیتے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ اکثر رات کو سونے سے پہلے گھر کے دروازے کھڑکیاں اور چٹخنیاں، کنڈیاں لگانا بھول جاتے ہیں۔ اس فروگزاشت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چور آتے ہیں، اور جو کچھ ہاتھ آتا ہے اسے لیکر چمپت ہو جاتے ہیں اور ہم گھر کے زیورات، نوادرات اور رقوم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ صاف ستھرا رہنے کے لئے ہاتھ دھونا اچھی عادت ہوتی ہے، اس طرح ہاتھوں سے جراثیم دھل جاتے ہیں۔۔ مگر نہ جانے کیوں ہم اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے، کہ کوئی کام ہاتھ دھوہاتھ دھو کر لیا جاۓ جیسے کہ ہاتھ دھو کر کسی کے پیچھے پڑ جانا۔ ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ کسی کے پیچھے پڑنے سے ہمارے ہاتھ کیا آتا پے؟ البتہ ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہم ملک سے یک جہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر، اور ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ، دنیا کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں۔ متحد اور یک جان ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں