جھوٹ سو برائیوں کی جڑ/محمد کوکب جمیل ہاشمی

جھٹ پٹے کا وقت تھا۔ میں اپنی گیارہ ماہ کی نواسی زھا کو، بچوں کو ثہلانے والی ہتھ ریڑھی(پرام) میں بٹھا کر گھر سے باہر سیر کرا رہا تھا۔ جھٹ سے ایک گاڑی میرے اس قدر قریب آ کر رکی کہ گاڑی کی گسھر سے میں قریب کی ایک جھاڑی میں گر پڑا۔ بچی بھی جھٹکا لگنے سے رونے لگی۔ میں نے کپڑے جھاڑے اور دوبارہ روانہ ہونے لگا تھا کہ گاڑی میں سوار ایک شخص نے جھڑکتے ہوۓ کہا۔ کہ ” اندھے ہو گئے ہو کیا؟ غالبآ وہ جھگڑا کرنا چاہتا تھا، وہ جھڑکتے ہوۓ بولا ” تم روڈ کے بیچ کیوں چل رہے تھے؟” میں نے جواب دیا کہ میں تو سڑک کنارے پیدل کے راستے پہ جا رہا تھا۔ قریب تھا کہ جھڑپ ہوجاتی کیونکہ اس نےجھںجھلاہٹ میں جھانپڑ رسید کرنے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ نہیں! “سچ کہتا ہوں کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے۔ میں جھوٹ بولنے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔ میں سوچنے لگا کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو خود جھوٹ بولتے ہیں اور دوسرے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ جھوٹ سو برائیوں کی جڑ ہوتا ہے۔۔ جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو اس سے نفرت پھیلتی ہے۔ نفرت سے آپس داری اور ہم آہنگی پہ ضرب لگتی ہے۔ ہم آہنگی کی عدم موجودگی میں اتفاق کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اورہم تفرقے میں بٹ جاتے بیں۔ تفرقے سے لڑائی جھگڑوں کا آغاز ہوتا ہے۔ لڑائی جھگڑوں سے دشمنیوں کو فروغ ملتا ہے۔ دشمنیاں جرائم میں ڈھل جاتی ہیں جن سے لوٹ مار، مار دھاڑ اور قتل و غارت گری پھیلتی ہے۔ قتل و غارتگری سےلوگوں کے دلوں میں میں ڈر خوف جگہ پانے لگتا ہے۔ خوف سے نفسیاتی امراض بڑھنے لگتے ہیں۔ نفسیاتی امراض کی بات سن کر ہر شخص بے سکون و پریشان دکھائی دینے لگتا ہے۔ بے سکونی اور پریشانی سے راتوں کی نیند اوربھوک آڑ جاتی ہے اور پھر ڈاکٹرز ہر مریض کو بے چینی اور ذہنی دباؤ کا شکار قرار دے دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آدھے سر کے درد، شکر کے عارضے، بلند فشار خون اورخون کی نالیوں میں چکنائی کا جماؤ جیسی بیماریاں بڑھنے لگتی ہیں۔ بیماریوں کی دوا دارو اور علاج معالجے کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آمدن گھٹ جاتی ہے۔ میاں بیوی کے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر سیر و تفریح کا متمنی پورا معاشرہ افرا تفری کا شکار ہو جاتا ہے۔ مگر جھوٹ بولنے کا نشہ پھر بھی ہرن نہیں ہوتا۔ پولیس تھانے میں جھوٹ کے جھو جھو جھوٹے لئے جاتے ہیں۔ کچہریوں میں جھوٹے بیان حلفی اور راضی نامے تیار ہوتے ہیں۔ عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں۔ ملزمان کی طرف سے جھوٹے مقدموں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کاروبار میں دھڑلے سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ نقلی کو اصلی بنا کر بیچنے والا سرا سر جھوٹ بولتا ہے۔ ٹیکسی چلانے والا جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ ریڑھی والے بھی جھوٹ کو برا نہیں سمجھتے۔ گھروں میں جھوٹ بولے بغیر کوئی بات نہیں بنتی۔ جھوٹے آنسو بہاۓ جاتے ہیں۔ اخباروں میں کچھ سچی کچھ جھوٹی خبریں چھپتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر مخالفوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے پہ جھوٹے الزامات لگاۓ جاتے ہیں۔

ہم جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ کچھ تو غلط ہوتا ہے جس کی پردہ داری ہوتی ہے۔ شائد دل میں کھوٹ ہوتا ہے، اس وجہ سے باطل خیال لوٹ پوٹ ہوتا ہے۔ کذب سچ پہ پردہ ڈال دیتا ہے اور عقل پہ بھی۔ مگر سچ تو کبھی نہیں چھپتا، جھوٹ کا کانٹا مسلسل چبھتا رہتا ہے۔ جھوٹ کی کوکھ سے جنم لینے والی ہر داستان سچائی کو آشکار کرکے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیتی ہے۔ جھوٹ کاغذ کا وہ ثکڑا ہوتا ہے جو پانی میں گیلا ہو کر اپنے وجود کو گلا کر فنا کرلیتا ہے مگر اس حقیقت سے روشناس کر جاتا ہے کہ سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔ ۔خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے۔ جھوٹ، ایک دھوکا ہے۔ جھوٹے کے لئے جھوٹ باد نسیم کے جھونکے کی طرح تسکین دہ ہوتا ہے۔ جھوٹ ریگزار سے گزرتی نظر کا سراب ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جو دھندلا اور بے آب ہوتا ہے۔ جھوٹ کی شروعات حرف غلط سے ہوتی ہیں، اسکا انجام خراب ہوتا ہے۔ جھوٹ بولتے لب اور جھوٹ کہتی زبان کا چہرے کبھی ساتھ نہیں دیتے۔ فن لطیفہ میں بھی جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں فنکاروں کی طرف سے کی جانے والی اداکاری دراصل مصنوعی اور جھوٹی ہوتی ہے۔ جھوٹی قسموں سے دوسروں کو سچائی کا یقین دلایا جاتا ہے۔ کہیں کسی کی کوئی قیمتی چیز گر جاۓ تو اس کے دسیوں جھوٹے دعویدار سامنے آ جاتے ہیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، مگر جھوٹ میں شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ جھوٹ خطا ہے۔ بے لذت گناہ ہے۔ بے شک دنیا رہے خاموش، آخرت میں اس کی سزا ہے۔ بہت سوں کی ضرورت ہے یہ، کریہہ اسکا چہرہ ہے، بد صورت ہے یہ، خود غرضی کے خول پر لگی مورت ہے یہ۔

ہمارے یہاں عام انتخابات، جھوٹ کے موسم ہوتے ہیں۔ جھوٹے وعدوں کے اقرار پیہم ہوتے ہیں۔ امیدوار ووٹروں کو جھوٹے خواب دکھاتے ہیں۔ عوامی نمائندے اسمبلیوں میں پیش کردہ بجٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہیں۔ اللہ کو جان دینی ہے، کہہ کر سر عام جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ایک ہی سانس میں جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو، کہہ کر جھوٹ پہ جھوٹ بولتے ہیں۔ کسی سے ہمدردی ہو کہ نہ ہو، جھوٹی تسلی ضرور دیتے ہیں۔ جس طرح غرور کا سر نیچا ہوتا ہے، اسی طرح جھوٹ کا سر بھی نیچا ہوتا ہے۔ سچ ہمیشہ سرخرو ہوتا ہے۔ بھارت میں چھوت اور جھوٹ دو بڑی لاعلاج بیماریاں عام ہیں۔ پہلگام میں دہشت گردی کا جھوٹا ڈرامہ (فالس فلیگ) رچا کر پاکستان پر جھوٹا الزام دھر دیا اور اس کو جواز بنا کر پاکستان سے چھیڑ خانی کی، مگر منہ کی کھائی اور اپنے سات جنگی جہازوں کو زمین بوس کروا لیا۔ یہ ہوتا ہے جھوٹ کا نتیجہ۔

julia rana solicitors

جھوٹ کی اس دنیا میں سچ کا بول بالا ہوتا ہے۔ آئیے دنیا کو باور کرا دیں کہ اللہ کا وجود سب سے بڑا سچ ہے۔ وہ مالک کل کائنات اور خالق حیات و ممات ہے۔ وہ ایک حقیقت ہے۔ وہ لائق عبادت ہے۔ وہ تقدیر اور قسمت بناتا ہے۔ اس کا کلام سچا ہے، اس میں کسی کو کلام نہیں۔ قرآن مجید اللہ کی مقدس اور آخری کتاب ہے۔ اس کی برکت اور تعلیمات ذریعہ نجات ہہں۔ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ وہ محبوب خدا، شافع محشر اور مونس امت ہیں۔ انکی تعلیمات سچی اور آپ ہادی برحق ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے:
جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔ (سورہ آل عمران)
حضور اکرم کے ارشادات ہیں:
: نیکی اور سچائی جنت میں لے جانے والی چیزیں ہیں۔ جبکہ برائی اور جھوٹ جہنم میں لے جانے والی چیزیں ہیں۔ ( مسند احمد ت شاکر 187/1)
: ایک حدیث پاک میں اپنے مسلمان بھائی سے جھوٹ کہنے کو بڑی خیانت سے تعبیر کیا گیا ہے.(الآداب البیہقی ص 120)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply