امریکہ بتدریج سمٹ رہا ہے/اسلم اعوان

ٹرمپ انتظامیہ کی مغربی نصف کرہ پہ زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی حکمت عملی عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی مظہر ہے، جس میں خاص طور پر نیٹو کے تحت یورپ کے دفاع پر توجہ کم اور امریکہ کی علاقائی سلامتی کو ترجیح اول بنانے کے اشارے ملتے ہیں ، عالمی سیاست کے ماہرین کا خیال ہے کہ کریبین میں امریکی فوجی قوت کا ارتکاز دراصل مشرقی یوروپ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا ایسا جواز بن جائے گا جو بلآخر نیٹو کے مستقبل کو مخدوش بنا سکتا ہے تاہم موضوع بحث یہ ہے کہ آیا یہ مکمل پسپائی ہے یا پھر معاشی دباؤ کی وجہ سے یورپ کے دفاعی بوجھ سے نجات کی وقتی حکمت عملی ، بہرحال امریکہ اور وینزویلا کے درمیان جاری کشیدگی کو محض آمرانہ حکومت کے خلاف جمہوریت کی جنگ سمجھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ، یہ تنازعہ دراصل اس بڑے محور سے جڑا ہوا ہے جس پر آج عالمی سیاست خاموشی سے گردش کر رہی ہے ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ دو دہائیوں تک افغانستان اور عراق کی جنگووںمیں الجھے رہنے کے باعث امریکی ریاست اور عوام دونوں کو تھکن کا شکار بنا دیا ، کھربوں ڈالرز خرچ اور لاکھوں انسانی جانوں کو تلف کرنے کے باوجود یہ جنگیں مکمل فتح پہ منتج نہ ہو سکیں بلکہ انہی بے مقصد جنگوں نے جنوبی ایشیا اور مڈل ایسٹ کو کبھی نہ تھمنے والے عدم استحکام کا شکار بنا کے ایک طرف اسرائیل کی بقاء کو مہیب خطرات سے دوچارکر دیا دوسری جانب پاکستان جیسے اتحادی کو امریکی حلقہ اثر سے نکال کر جنوبی ایشیا میں ریجنل پاور کے طور پہ نمودار ہونے کا موقعہ بھی فراہم کیا ۔ عالمی سطح پہ تشدد کو فروغ دینے کے باعث خود امریکہ کے اندر بھی افرادی قوت کا فقدان اور معاشی بحران دو چند ، سماجی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام کو بُری طرح متاثر کیا ، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر امریکہ کو دنیا کے ہر معاملہ میں الجھنے کی ضرورت کیا تھی ؟ لاطینی امریکہ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی امریکی سرگرمیاں شاید اسی ذہنی تبدیلی کا عملی اظہار ہوں ۔ تیل سے مالا مال وینزویلا جغرافیائی طور پر امریکہ کے انتہائی قریب مگر سیاسی طور پرکوسوں دور کھڑا ہے، نکولس مادورو کی حکومت نہ صرف امریکی پالیسیوں کی کھلی ناقد بلکہ اپنی سیاسی و سفارتی ترجیحات میں روس، چین اور ایران جیسے ممالک سے وابستگی کو نمایاں جگہ دیتی ہے چنانچہ واشنگٹن کے لئے یہ طرز عمل محض نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ اپنے پچھواڑے میں ایک اسٹرٹیجک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ، اس لئے یہ سوال اب زیادہ اہم نہیں رہا کہ وینزویلا میں جمہوریت ہے یا آمریت ، حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جس نے مدت تک دنیا کے دور دراز خطوں پہ تصرف قائم رکھا اب اپنے پڑوس میں چین اور روس کا اثر و رسوخ برداشت کرنے کی تاب نہیں رکھتاکیونکہ تاریخی طور پر امریکہ نے لاطینی امریکہ کو ہمیشہ اپنی قدرتی حدودِ اثر سمجھا ، 1823 کی مونرو ڈاکٹرائن ماضی کی طرح آج بھی امریکی خارجہ پالیسی میں زندہ و تابندہ نظر آتی ہے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے معاملے میں فوجی مداخلت کے بجائے خود کو اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور اندرونی سیاسی تقسیم کو ہوا دینے جیسے ہتھکنڈے تک محدود رکھا ہوا ہے۔ یہ طرزِ عمل بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن اب ہر مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں دیکھتا ، یہی احتیاط طاقت کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے ۔ امریکی یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا بدل چکی ہے ، وینزویلا چین کی سرمایہ کاری، روس کی عسکری مدد اور ایران کے ساتھ بڑھتے تعلقات کی بدولت امریکہ کے پہلو میں ایسا متنوع میدانِ جنگ بن رہا ہے جہاں امریکی زوال اور ابھرتی ہوئی عالمی کثیر القطبی سیاست ایک دوسرے سے ٹکراتی دکھائی دیتی ہیں ، یہی عوامل امریکہ کو عالمی سطح سے پیچھے ہٹنے سے پہلے قریبی خطے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے پہ مجبور کر رہے ہوں گے ، وینزویلا نئی امریکی حکمتِ عملی کی آزمائش کا پہلا مرحلہ ثابت ہو گا لیکن ماضی کے برعکس یہ کھیل اب یکطرفہ نہیں ہو گا ، لاطینی امریکہ آج وہ خطہ نہیں رہا جہاں واشنگٹن کی مرضی بلا چُون و چَرا قبول کر لی جائے ، برازیل، میکسیکو ،حتی کہ بعض کیریبین ممالک بھی وینزویلا بارے امریکی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے ۔ پڑوسی ممالک کے یہی رویے اس بات کا عندیہ ہیں کہ واشنگٹن اگر اپنی قوت کو مغربی نصف کرہ میں مرتکز کر بھی لے تو اسے پہلے جیسی بالادستی نہیں مل پائے گی ۔
علی ہذالقیاس، امریکہ فی الوقت ایسے عبوری دور سے گزر رہا جس میں وہ مکمل طور پر عالمی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوا ہے نہ پہلے کی طرح ہر محاذ پر موجود رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، وینزویلا جیسے تنازعات اِسی تذبذب کی پیداوار ہیں جہاں طاقت کا اظہار اور عدمِ یقین ہم آغوش ہوتے دیکھائی دیتے ہیں چنانچہ وینزویلا سے امریکی الجھاو کو جارحیت کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے طاقت کی ازسرِ نو تشکیل کے عمل کے طور پر سمجھنے کی ضرورت پڑے گی ۔ یہ اگرچہ امریکی زوال کا واضح اعلان تو نہیں لیکن اس امر کا اشارہ ضرور ہے کہ امریکہ اب دنیا کو پہلے کی طرح کنٹرول کرنے کی سکت نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے صحن میں کسی اور کے اترنے کی راہیں بند کرنے کی فکر میں سرگرداں ہے ۔ یہی وہ مخمصہ ہے جو آنے والے برسوں میں نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے مغربی نصف کرہ کو عالمی کشمکش کا نیا میدان بنا سکتا ہے ۔
اگر امریکہ واقعی عالمی سطح پر پسپائی اختیار کرتا ہے تو اس کا پہلا اور سب سے گہرا اثر نیٹو پہ پڑے گا جو یوروپ کے لئے سب سے نمایاں سیکیورٹی گارنٹی کے طور پر امریکہ کی عالمی قوت کا مظہر ہے ، سرد جنگ کے زمانے سے لے کر آج تک نیٹو کی اصل روح واشنگٹن کی عسکری، مالی اور سیاسی قیادت پہ محمول رہی ۔ اگر واشنگٹن یورپی دفاع میں اپنی ذمہ داری کم کرتا ہے تو مشرقی یورپ ، بالخصوص پولینڈ اور بالٹک ریاستیں، خود کو روس کے رحم و کرم پہ تصور کریں گی ، عدمِ تحفظ کا یہی احساس یورپی اسلحہ سازی میں اضافہ یا پھر روس کے ساتھ مفاہمت کی نئی راہوں کو استوار کرے گا ۔ دوسرا نیٹو کی تحلیل مغربی یورپ کے ممالک میں اسٹریٹجک خودمختاری کے رجحان کو تقویت دینے کے علاوہ یوروپ کے لئے چین کے ساتھ اقتصادی وابستگی بڑھانا بھی ناگزیر بنا دے گی تاہم امریکی پسپائی کی صورت میں نیٹو کی اندرونی تقسیم اِس تغیر کا سب سے خطرناک پہلو ہو گا جو یوروپی ممالک کی نئی صف بندیوں کو پرانی دشمنیوں کو زندہ کرنے کا سبب بن دے گی ۔ قصہ کوتاہ امریکی پسپائی نیٹو کے لئے ایسے بحران پہ منتج ہو گی جو آہستہ آہستہ اسے عالمی بالادستی سے لاتعلق بنا دے گا ۔
لیکن روس کے لئے امریکی پسپائی سنہری موقع کے مترادف ہوگی کیونکہ جب اسے امریکی ردعمل کے محدود ہونے کا اندازہ ہوا تو وہ یوکرین، مشرقی یورپ اور قفقاز کی طرف جارحانہ پیشقدمی کی جسارت کرے گا ۔ اسی طرح جنوبی ایشیا میں پاکستان اور مشرقِ وسطی میں ایران و ترکی جیسی علاقائی طاقتیں زیادہ آزادانہ پالیسیاں اختیار کرکے خطہ سے امریکی بالادستی کے مکمل خاتمہ کے علاوہ مڈل ایسٹ کی کبھی نہ تھمنے والی جنگووں کو یوروپ کے دروازے تک پہنچا سکتے ہیں ۔ امریکہ کے عالمی اسٹیج سے پیچھے ہٹنے سے پیدا ہونے والے طاقت کے خلا کو پُر کرنے کے لئے چین کا بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبے کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطی میں بڑھتا ہوا معاشی اثر اور عسکری جدید کاری متبادل عالمی مرکز بننے میں کامیاب ہو جائے گا ، جس کا اشارہ حال ہی میں چینی صدر ذی کے اس بیان میں ملتا ہے کہ ” امریکہ کے بغیر بھی یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے گی” یعنی ماضی کی مانند طاقت کے کئی مراکز بتدریج فطری توازن حاصل کر لیں گے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply