وکلاء گردی اور بزدل سرکار۔۔منور حیات سرگانہ

بالآخر ایک اور دسمبر بھی پاکستانیوں پر بہت بھاری پڑا۔16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کے بعد 16 دسمبر2014 پاکستانیوں کو خون کے آنسو رُلا گیا تھا،جب مذہبی دہشت گردوں نے آرمی پبلک  سکول پشاور پر حملہ کر کے 145 کے قریب معصوم بچوں اور اساتذہ کو شہید کر ڈالا۔

اور کل 11 دسمبر 2019 کا دن بھی اپنی ہولناکی ،سفاکی اور بربریت کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،جب کالے کوٹوں میں ملبوس بظاہر پڑھے لکھے طبقے کے نمائندہ وکلاء کے قریب 400 افراد پر مشتمل مشتعل لشکر نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی،میڈیکل  سٹاف پر حملہ کیا،مریضوں کی ڈرپیں اتار دیں،اور آپریشن تھیٹر تک میں مصروف عمل ڈاکٹروں کو آپریشن چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔جس کے نتیجے میں آئی سی یو میں موجود زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا 12 مریض جان کی بازی ہار گئے۔

اس سانحے کی وجوہات کا آغاز کچھ دن پہلے اس طرح ہوا کہ ،ایک وکیل صاحب اپنی والدہ کو بغرض علاج پی آئی سی میں لے کر آئے جہاں ڈاکٹرز کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہو گئی،جہاں پر ان وکیل صاحب نے دھونس اور دھمکی سے کام لے کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی،جس پر ان کے بالمقابل ینگ ڈاکٹرز بھی بپھر گئے۔وکیل مذکور نے فون کر کے اپنے چند ساتھیوں کو مدد کے لئے بلا لیا،ہاتھا پائی شروع ہوئی اور نفری زیادہ ہونے کی وجہ سے اس ابتدائی معرکے میں میدان ینگ ڈاکٹرز کے نام رہا۔شاید یہ معاملہ اس کے بعد دب جاتا ،لیکن ڈاکٹرز نے اپنی فتح کا جشن مناتے ہوئے ایک ویڈیو  بھی جاری کر دی،جس میں شکست خوردہ فریق کو بزدلی کے طعنے دیے گئے۔جس کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ وکلاء حضرات جو پہلے ہی مدمقابل کو دلیل سے زیادہ ذدوکوب کرنے اور ذلیل کرنے پر یقین رکھتے تھے،نے ڈاکٹروں کی دِلّی پر جوابی حملہ کرنا اپنے اوپر فرض قرار دے لیا۔

دو چار دن لشکر اپنی تیاریوں میں مصروف رہا،اس کے بعد اپنی پوری تیاری کرکے طبل جنگ بجا کر اندر گھس کر مارنے کا اعلان کر کے وہ پی آئی سی کی طرف روانہ ہوئے۔
اس سب واقعے میں افسوس کی بات یہ ہے،کہ لاہور کی میسنی سرکار ستو پی کر اونگھتی رہی،اور ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا مناسب وقت ملنے کے باوجود اس مشتعل لشکر کو روکنے کی کوئی تدبیر اختیار نہیں  کی گئی۔آگے پی آئی سی کے قلعے میں بھی دفاعی فوجوں نے چھتوں پر مورچے سنبھال رکھے تھے۔دونوں اطراف سے پتھر اور اینٹ بازی شروع ہوئی،اور حملہ آور لشکر ہسپتال کے قلعے کے اندر جانے میں کامیاب ہو گیا،دفاعی فوجیں موقع سے فرار ہو گئیں،اور حملہ آور نادرشاہی لشکر نے اپنا غصہ جنتا ،یعنی مریضوں پر نکالنا شروع کیا۔جس سے بارہ سے زیادہ مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔

جنگوں کے علاوہ زمانہ امن میں شاید ہی کوئی ایسا بدترین واقعہ کسی ملک میں ہوا ہو،جب کسی ہجوم نے ہسپتال پر حملہ کیا ہو،اور مریضوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہو۔اور سب سے افسوسناک بات یہ رہی کہ یہ حملہ بظاہر ایک پڑھے لکھےطبقے کے نمائندوں کی جانب سے کیا گیا۔

دراصل پچھلے کئی سال سے وکلاء حضرات نے قانون ہاتھ میں لینے اور تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔جس میں سائلین کو احاطہ عدالت میں ذدوکوب کرنا،پولیس اہلکاروں پر ہاتھ اٹھانا،توڑ پھوڑ،جلاؤ گھیراو اور ججوں کو تھپڑ جڑ دینے جیسے افسوسناک واقعات ہو چکے ہیں،جن پر ان کے خلاف کبھی بھی مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔پولیس، انتظامیہ،اور عدلیہ ہر جگہ پر ان کا خوف مسلط ہے،بظاہر یہی وجہ ہے،کہ پہلے سے بددل،نااہل اور بزدل پولیس اہلکار ان کو تشدد سے روکنے میں ناکام رہے۔

دوسری طرف ینگ ڈاکٹرز بھی بدمعاشی،بے حسی اور بد تمیزی کا چلتا پھرتا اشتہار بن چکے ہیں۔
جب تک یہ فساد جاری رہا پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے،جب میڈیا پر فیاض الحسن چوہان پر تشدد اور، لاچار مریضوں کی موت کی خبریں چلنے لگیں،تب جا کر انہیں ہوش آیا اور انہوں نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کیا۔پولیس کی نا اہلی کا اب یہ حال ہو چکا ہے ،کہ آئی جی پولیس کے دفتر کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی اب پنجاب رینجرز کو سونپی جا رہی ہے۔
جو پولیس اپنی حفاظت کرنے کے لئے کسی دوسرے کو دہائی دینے پر مجبور ہے،وہ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کیسے کر سکتی ہیں۔

اس سب صورتحال میں افسوس ناک کردار بزدار صاحب کا رہا جو اپنی بزدلی کی وجہ سے ایسے نازک موقع پر اپنے چیف سیکرٹری سمیت،پناہ کی تلاش میں اسلام آباد دوڑ گئے۔پتا نہیں خان صاحب پنجاب کے لوگوں کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں،جو ایسے بزدل اور نکمے شخص کو اتنے بڑے صوبے پر مسلط کر رکھا ہے،جس میں ایک یونین کونسل چلانے کی بھی سکت نہیں ہے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *