ایک مریضہ کو کراچی لے جانا ہوا، جہاں ان کی ایک مشہور اسپیشلسٹ سے اپائنٹمنٹ تھی۔ کراچی کا یہ مشہور ہسپتال اپنی مثال آپ تھا۔ وہاں کی انتظار گاہ میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کرنے لگے ۔ ایک طویل انتظار کے بعد ہمارا بلاوا آیا۔
یہ وہ وقت تھا جب کورونا عروج سے اختتام کی طرف رواں دواں تھا۔ مریض کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے چیمبر میں موجود تھے کہ ڈاکٹر اچانک سے چیمبر میں آئے، ماسک لگائے ہمارے سلام کا جواب صرف سر ہلا کر دیا، اور کرسی پر براجمان ہوگئے۔ مریض کی فائل سرسری دیکھی، اور مریض سے مخاطب ہوئے کہ کب سے آپ بیمار ہو اور تکلیف کیا ہے آپ کو؟
میں مریض کا ترجمان بن کر گیا تھا ۔ میں نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ ہم حیدرآباد سے آئے ہیں، اور آپ کی بہت تعریف سنی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ اپنا علاج وہیں سے کروائیں اور یہاں آنے کی تکلیف نہ کریں۔ آپ کا علاج بالکل ٹھیک ہورہا ہے۔ نہ مریض کو ہاتھ لگایا، نہ مریض کی نبض پر ہاتھ رکھا، نہ اسٹیٹھو سکوپ سے دھڑکن سنی ۔ بس دور سے ہی کرسی پر بیٹھے سی ٹی اسکین کا کہا اور حیدرآباد میں اپنے ڈاکٹر سے علاج جاری رکھنے کا کہا۔
اس دن اتفاق سے ہسپتال کا سی ٹی اسکین فنی خرابی کے باعث استعمال میں نہیں تھا ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی کہ سی ٹی اسکین اب کہاں سے کروایا جائے تو انہوں نے بہت ہی روکھا سا جواب دیا ۔ ڈاکٹر صاحب کے چیمبر سے باہر آکر مریض کا جو عزیز تھا، وہ کہنے لگا کہ یہ کیسا ڈاکٹر ہے، نہ مریض کو قریب سے دیکھا اور نہ ہی ہماری بات کا صحیح سے جواب دیا۔
میں نے کچھ جواب نہیں دیا اور خاموشی سے آگے بڑھا۔ ریسیپشن پر دوبارہ رپورٹ دکھانے کا پوچھا تو کہا گیا کہ رپورٹس دکھانے کے لیے ابھی سے اپائنٹمنٹ لے لیں۔ مجھے عجیب سا لگا کہ رپورٹس دکھانے کے لیے بھی اپائنٹمنٹ! اگرچہ رپورٹس دکھانے کے لیے دوبارہ اپائنٹمنٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اکثر ڈاکٹرز رپورٹس اگلے دن یا جب بھی رپورٹس آ جائیں، دیکھ لیتے ہیں۔ شاید مریضوں کی بہت بھیڑ کی وجہ سے یہ سلسلہ شروع کر رکھا ہو، خیر بدگمانی معاف۔
اب میری پوری کوشش یہی تھی کہ جلد از جلد کہیں سے بھی سی ٹی اسکین کروا کر حیدرآباد میں ہی ڈاکٹر صاحب کو دکھا دیں گے، جس کے پاس پہلے سے ہی مریض زیر علاج ہے۔
سی ٹی اسکین کروانے کے بعد جب رپورٹس دکھائی گئیں تو ڈاکٹر صاحب نے مریض کے حوالے سے ایک پیچیدہ مسئلہ بتایا ۔ اس کے بعد کراچی والے ڈاکٹر صاحب کے بارے میں ہماری جو رائے تھی، یکسر بدل چکی تھی کہ اخلاق کا ہونا نہ ہونا اپنی جگہ، لیکن ڈاکٹر صاحب کا تجربہ معنی رکھتا ہے۔
حیدرآباد سے کراچی آنا وہ بھی ہسپتال، مریض کے ساتھ بہت تھکا دینے والا سفر بن جاتا ہے۔ پھر ہسپتال میں ڈاکٹر صاحب کی اپائنٹمنٹ لے کر انتظار گاہ میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنا، بہت دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے۔ بندہ اس انتظار میں ہسپتال کی در و دیوار پر لگی عجیب و غریب قسم کی تصاویر، وہاں پر بیٹھے لوگوں کے چہروں کے بنتے بگڑتے تاثرات، ریسیپشن پر بیٹھی خواتین و مرد سے وہاں بیٹھے مریضوں کے عزیزوں کا بار بار اپنی باری کا پوچھنا، آتے جاتے لوگوں کو بار بار گھورنا۔
کبھی کبھار تو حیرت ہوتی ہے، یہ ڈاکٹر لوگ کیسے صبح سے شام تک مریضوں کو وقت دیتے ہیں، لیکن پھر خیال آتا ہے کہ ڈاکٹر کیوں تھکے گا؟ اس کا تو میٹر چل رہا ہے۔
بہر حال، ہسپتال کی او پی ڈی سے نکل کر باہر بنی کینٹین کی طرف گئے تاکہ دن بھر کی تھکاوٹ کو چائے اور چٹخارے سے دور کریں۔ کینٹین میں بھی الگ ہی طور طریقہ تھا ۔ “خودکار نظام” یعنی آپ نے جو بھی لینا ہے، آپ نے ایک ٹرے اٹھانی ہے اور قطار میں لگ کر اپنی باری آنے کا انتظار کرنا ہے، جونہی آپ کی باری آئے گی، آپ نے مطلوبہ اشیاء کا خلوص کے ساتھ حکم کرنا ہے، رقم کی کٹوتی کے ساتھ ہی آگے کو بڑھنا ہے، جہاں آپ کی مطلوبہ اشیاء رسید دیکھ کر دی جائیں گی ۔
ہم سمجھے تھے کہ صرف ڈاکٹر ہی فیس لے کر لمبا انتظار بھی کرواتا ہے۔ لیکن یہاں کا تو طعام گاہ بھی انتظار گاہ ہے۔ خیر پیٹ کی دھینگا مشتی سے فراغت کے بعد ایک طویل سفر کا آغاز۔
پارکنگ سے گاڑی نکالنے کے بعد اپنے سفر پر روانہ ہوئے۔ شہر کی چوں چوں سے نکل کر گاڑی کا بائی پاس پر چڑھنا تھا اور گاڑی نے فراٹے بھرنے تھے۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیا ہوگا کہ ہمارے درمیان بیٹھی مریضہ، جو ایک بڑی عمر کی خاتون تھی، اپنے ٹھیٹھ پشتو لہجے میں مجھ سے کہتی ہے، “وہ ڈاکٹر تھا؟” میں نے کہا، “ڈاکٹر شکل سے نہیں، اخلاق سے جانے جاتے ہیں ۔” اماں نے زیر لب کچھ کہا اور خاموش ہوگئی، جیسے کہہ رہی ہوں، “مجھے تو دونوں نظر نہیں آئے”۔
میں گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی خیالوں کی دنیا میں کھو گیا اور سوچنے لگا کہ یہ ڈاکٹری بھی عجیب شعبہ ہے۔ کچھ لمحوں کی گفتگو کی ڈھیر ساری فیس۔ حیرت تو یہ ہے کہ فیس بھی ڈاکٹروں نے اپنی صوابدید پر رکھی ہے۔
مثال کے طور پر ایک شعبے سے تعلق رکھنے والے بہت سارے ڈاکٹر ہیں ۔ سب نے ایک ہی طرح مریض کو دیکھنا ہے اور دوا بھی سب نے ایک ہی جیسی لکھنی ہے، لیکن فیس وصولی کا معیار سب کا الگ الگ ہے۔ سنتے ہیں کہ ایک ہزار روپے فیس سے لے کر سات ہزار روپے تک فیس وصول کی جاتی ہے۔ لیکن کچھ جگہوں پر ایسے خدا ترس ڈاکٹر بھی موجود ہیں کہ وہ اگر پانچ سو یا سات سو روپے لے رہے ہیں تو انھوں نے عرصے سے اسی فیس کو معیار بنا رکھا ہے۔ وہ اپنی فیس میں اضافہ نہیں کرتے، کہ ان کا گزر بسر اچھا ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک بات جو بہت زیادہ مجھے محسوس ہوئی، وہ یہ کہ صرف نصیب کا عمل دخل ہی نہیں ہے۔ مارکیٹ میں ہزاروں ڈاکٹر بیٹھے ہیں ایک ہی شعبے سے تعلق رکھنے والے، لیکن کچھ اپنی کلینک پر بیٹھے مکھیاں مار رہے ہوتے ہیں اور کچھ کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ہوتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فرق صرف قسمت کا ہے یا اس کے پیچھے کچھ اور عوامل کارفرما ہیں؟ شاید اس فرق کو ‘ہنرِ تعلقات’ نے جنم دیا ہے۔ آج کی دنیا میں طب کا شعبہ، علاج کے ساتھ ساتھ، اچھی مارکیٹنگ اور تعلقات سازی کا محتاج ہو چکا ہے۔ وہ ڈاکٹر جو مریضوں کے ساتھ یا بڑے ہسپتالوں کے نیٹ ورک کے ساتھ بہتر تعلقات بنا لیتے ہیں، وہ بلاشبہ اس میدان میں سبقت لے جاتے ہیں، بھلے ہی ان کے اخلاق کا ترازو ڈولتا رہے۔
ڈاکٹر بہت شریف لوگ ہوتے ہیں۔ یہ شرافت سے لوگوں کو کاٹتے ہیں۔ ان کا معیار بھی عجیب ہے، گورنمنٹ اداروں میں یہ او پی ڈی میں دستیاب نہیں ہوتے، اور پرائیویٹ میں یہ آپ کی بلائیں لیتے نہیں تھکتے۔ ان کے ذاتی چیمبر میں، ان کے علاوہ کوئی چیز ان کی اپنی ذاتی نہیں ہوتی ۔ سب خیرات کا مال ہوتا ہے کمپنیوں کی طرف سے، چاہے پیچھے لگی تصویرِ قائد اعظم ہی کیوں نہ ہو۔
بہت سارے ڈاکٹرز دن کے لاکھوں کماتے ہیں۔ غریب سے غریب ڈاکٹر بھی دن میں تیس، پینتیس ہزار جوڑ لیتا ہے اور اگر سرکاری نوکری ہو تو مہینے کی لاکھوں کی تنخواہ وہاں سے۔
یہ وہ طبقہ ہے جسے معاشرے میں بہت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہ مریض کو جو کہہ دیں وہ ہی حق سچ ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز طبقے کا سب سے بڑا فن، آپ لاکھ کہیں “ڈاکٹر صاحب، پیسے نہیں ہیں،” لیکن یہ آپ سے پیسے نکلوا ہی لیں گے، چاہے آپ نے گھر کی کوئی قیمتی شے ہی کیوں نہ فروخت کر دی ہو۔ اسی لیے اکثر لوگ انھیں ‘ڈاکو’ کا خطاب بھی دیتے ہیں ۔
یہ کمپنی سے کبھی بھی کوئی طمع یا لالچ نہیں رکھتے، لیکن کمپنیاں محبت میں یا بطور گفٹ بہت کچھ عنایت کر دیتی ہیں۔ جتنا بڑا ڈاکٹر ہوگا تحفہ بھی اتنا ہی بڑا ہوگا ، اکثر اوقات حج عمرہ بھی بمع فیملی ادا ہو جاتا ہے۔ باہر ممالک کے جتنے بھی ٹورز ہوتے ہیں جنہیں اکثر اوقات ‘ورکشاپس’ کا نام دیا جاتا ہے، اکثر ڈاکٹرز فیملیوں سمیت پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ چھوٹے موٹے تحائف تو کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے۔ اکثر ڈاکٹرز اجتناب بھی برتتے ہیں، لیکن یہ آٹے میں نمک برابر ہیں۔
یہ بیچارے مالی طور پر اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ ایک ہی دن میں کئی جگہوں پر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جتن کرتے ہیں۔ یہ صرف او پی ڈیز پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ او پی ڈیز کے ساتھ انھوں نے سپیشلائزیشن بھی کسی نہ کسی شعبے میں کی ہوتی ہے۔
مثلاً اگر جگر معدے کا اسپیشلسٹ ہے تو وہ اینڈوسکوپی کا ماہر بھی ہوگا، اگر وہ گردے، مثانے کا اسپیشلسٹ ہے تو وہ سرجن بھی ہوگا۔ یہ ایک ہی وقت میں اپنی او پی ڈیز بھی جاری رکھتے ہیں، اور اگر کسی مریض کا آپریشن ہو تو وہ بھی لگے ہاتھوں کرتے ہیں ، چاہے مریض او پی ڈیز میں شور شرابہ کرتے رہیں۔
ڈاکٹرز لوگ بڑے مہان ہوتے ہیں۔ یہ اپنے شعبے سے ہمیشہ وفا نبھاتے ہیں، ان کی سب سے پہلی توجہ مریض ہوتی ہے۔ مریض کے معاملے میں کوئی رو رعایت نہیں رکھتے ۔
اس طبقے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ کماتے بہت ہیں، لیکن کھاتے کم ہیں۔ لوگ پیٹ کو بھرنے کے لیے کماتے ہیں، اور یہ پیٹ کو مارنے کے لیے۔
یہ ڈاکٹری کا شعبہ بھی عجیب تضادات کا مجموعہ ہے۔ یہ عمر بھر اپنے مریضوں کو پیدل چلنے اور سیر کی تلقین کرتے ہیں، مگر خود ان کا سفر صرف کرسی سے کار تک کا ہوتا ہے۔ یہ دوسروں سے کہتے ہیں کہ سب کچھ کھاؤ پیو اور تمام پرہیز ترک کر دو، جبکہ خود سارا دن چائے اور کافی پر گزارا کرتے ہوئے، جیسے خود ساختہ روزے سے ہوں۔ یہ اپنے مریضوں کو آرام کا مشورہ دیتے ہیں، مگر اپنی کمائی کی دھن میں کئی کئی او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹروں میں بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں، گویا انہیں خود بھی سکون کی مہلت نہیں۔ یہ دوسروں کی صحت کے ضامن ہیں، لیکن شاید اپنی صحت کی فکر سب سے آخر میں کرتے ہیں۔
ان لوگوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ لوگ بہت ملنسار ہوتے ہیں ۔ اخلاق ان کا بہت بڑا ہتھیار ہے۔ یہ لڑنے جھگڑنے سے کنی کتراتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ گورنمنٹ اداروں میں مریض کے لواحقین اپنے مریض کا صحیح علاج نہ ہونے پر یا مریض کا ہسپتال میں انتقال ہو جانے پر رشتہ دار لوگ توڑ پھوڑ کرتے ہیں، لیکن مجال ہے کہ ڈاکٹر لوگ اسی انداز میں جواب دیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ احتجاج کرکے او پی ڈیز بند کر دیتے ہیں، لیکن بدمعاشی نہیں کرتے۔
معاشرے کے عام لوگ انھیں کسی بھی نام سے یاد کریں، ڈاکو کہیں، قصائی کہیں، یا لٹیرے کہیں، لیکن ان میں بہت ساری خوبیاں موجود ہیں۔ اگر مریض بستر مرگ پر ہے اور اس کی جان آپریشن سے بچ سکتی ہے تو یہ سب سے پہلے انسانیت کو ترجیح دیں گے۔ جب بھی معاملہ مریض کے حوالے سے پیچیدہ نظر آیا، ڈاکٹر مریض کو بچانے میں پہلی صف میں نظر آئے۔
اکثر ڈاکٹر جب زیادہ کما لیتے ہیں تو کچھ بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال نما سینٹر کھول لیتے ہیں اور پھر وہیں سے کمانے کا اک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ آخری وقت تک ریٹائر نہیں ہوتے، بلکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کا تجربہ بھی بڑھتا رہتا ہے اور ساتھ میں فیس بھی۔
یہ بہت خوش رہتے ہیں لیکن ان کے ساتھ کام کرنے والا طبقہ ہمیشہ مظلوم نظر آئے گا۔ چاہے وہ او ٹی ٹیکنیشن یا اینڈوسکوپی ٹیکنیشن یا پھر آئی سی یو کا عملہ ہو، سب ایک ہی راگ الاپتے نظر آئیں گے کہ تنخواہ کے علاوہ اضافی کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اگر کچھ دیتے بھی ہیں تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ۔
ویسے ڈاکٹرز حضرات کردار کے بڑے اجلے ہوتے ہیں، ان کی شرارتیں صرف یونیورسٹی کی حد تک ہوتی ہیں، اس کے بعد یہ اپنی نفس کو ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیتے ہیں، اور سارا فوکس مال کمانے پر ہوتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں