شہزاد سعید چیمہ صاحب سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی ہدایت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے تنظیمی عہدیداران، کارکنان، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، الائیڈ ونگز اور بالخصوص *شعبۂ اطلاعات کے ذمہ داران کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بروز 15 دسمبر سے 27 دسمبر تک اپنی تمام سوشل میڈیا سرگرمیوں کو *شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی عظیم شخصیت کے گرد مرکوز رکھا جائے۔
میں آج سے 27 دسمبر 2025 تک محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی کامیابیاں جو پاکستان کی فلاح وبہبود اور اس کے مستقبل کے لیے ان کی اچیومنٹ اور ان کی جہدوجد زندگی مختلف زاویوں سے متعلق سلسلہ وار لکھوں گا
بے نظیر بھٹو نے ضیا کی 11 سالہ بدترین آمریت کا بہادری کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جو تاریخ کا حصہ ہے-وہ عمر بھر آمریت کو للکارتی رہیں۔ اُن کا طرز سیاست بھی ایسا تھا جس کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہے۔
بینظیر بھٹو ، دھرتی و عوام سے محبت اور بہادری کا تاریخی استعارہ
سیدنا علی المرتضیٰؓ کا قول ہے زندگی اس طرح بسر کروجب تک زندہ رہو لوگ تمہارے ملنے کیلئے بے تاب رہیں اور جب اس فانی دنیا کو چھوڑ کر جاؤتو لوگ تمھیں بے تابی سے یاد کریں – ذوالفقارعلی بھٹو کی باصلاحیت اور بہادر بیٹی بے نظیر بھٹوسیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس قول پر پورا اترتی ہیں۔ وہ زندہ رہیں تو پاکستانی عوام اُن کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ہزار ہا میل کا سفرطے کر کے اُن کی جلسہ گاہوں تک پہنچتے رہے۔ انھوں نے شہادت کو قبول کیا تو اُن کی شہادت کے بعد پاکستان میں بسنے والے لوگوں میں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں جس کا دل اِس واقعہ کو یاد کر کے افسردہ نہ ہو تا ہو اور جس کی آنکھ اس الم ناک واقعہ پر اشک بار نہ ہو ئی ہو۔
عالمی سیاسی تاریخ میں اور پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک اگر کوئی ایسا سیاسی اور حکمراں خاندان کا مقابلہ نہیں ہے جس نے قربانیوں کی لازوال جدوجہد اور بہادری کی مثالیں قائم کیں ، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جانیں قربان کر دی ہے تو بلاشبہ یہ بھٹو خاندان ہی ہے۔ سب سے پہلے بانی و قائدچیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کا نام آتا ہے جنھیں آمریت اور جوڈیشل کلنگ کے ذریعے پھانسی دے کر ملک میں بدترین روایت کو جنم دیا گیا ۔ان کی صاحبزادی اور جانشین، تاحیات چیئرپرسن پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے تو سب کو مات دے دی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، وہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آئیں’ پھر بم دھماکے اور ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کلنگ 170 افراد کی شہادتوں کا بار’ سیکڑوں زخمیوں کی تکلیف نہ صرف محسوس کی بلکہ اس بہادر لیڈر نے اگلے دن جان کی پرواہ کیے بغیر اسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کرکے سب کو حیران کردیا۔ 18 اکتوبر2007 سانحہ کار ساز اب تک کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے جس میں 170 افراد کو شہادت نصیب ہوئی۔بہادر بے نظیر بھٹو نے اگلے دن 19 اکتوبر 2007 کو چاروں صوبوں’ آزاد کشمیر اور علاقہ جات سے آئے ہوئے پارٹی رہنماؤں و کارکنوں سے ملاقاتیں کیں-
پھر بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے ورثاء سے ملاقاتوں کے لیے روانہ ہو گئیں۔18 اکتوبر 2007 کے واقعات کے بعد بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔
بوسنیائی جنگ ایک بین الاقوامی مسلح تنازعہ تھا جو بوسنیا اور ہرزیگووینا میں 1992 اور 1995 کے درمیان ہوا تھا۔
بوسنیا میں تین سال سے جنگ جاری تھی اور سابق یوگوسلاویہ کی نسل پرست سرب افواج نے نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کا خونی کھیل شروع کر رکھا تھا ، ایک لاکھ بےگناہ مسلمان شہید ہو چکے تھے ، لاکھوں ہجرت کر چکے تھے ، ہزاروں مسلمان خواتین کی بےحرمتی کی گئی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو عقوبت خانوں میں اذیتیں دی جا رہی تھیں اور اکثر مقامات پر یہ ظلم عالمی امن فوج کی موجودگی کے باوجود ہو رہا تھا ، نومولود مسلم اکثریتی ملک کے دارالحکومت سرائیوو کے محاصرے کو دو سال ہو چکے تھے اور زندگی پر موت کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔
چالیس لاکھ آبادی کے ملک میں مسلمانوں کی کل آبادی اٹھارہ لاکھ تھی اور مغربی ممالک کی کوشش تھی کہ ان کو پچاس پچاس ہزار یا ایک لاکھ کی تعداد میں مختلف یورپی ممالک میں پناہ دینے دینے کے نام پر اپنے ملکوں اور معاشرے میں کھپا دیا جائے اور اس طرح یورپ کے قلب میں ایک مسلم اکثریتی ملک کے قیام کا امکان ہی نا رہے ، کوئی عالمی طاقت یا حکمران کمزور بوسنیائی مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرنے کو تیار نہیں تھا
ایسے میں محترمہ بےنظیر بھٹو نے بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے سرائیوو جانے کا فیصلہ کیا اس کے لئے انہوں ترک وزیراعظم محترمہ تانسو چلر سے رابطہ کیا اور دونوں نے اپنے فیصلے سے اقوامِ متحدہ کو آگاہ کر دیا یہ سنتے ہی ہر طرف کھلبلی مچ گئی ان دونوں دلیر خواتین کو ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ سرائیوو ائیرپورٹ سربوں کے محاصرے میں ہے آپ کے جہاز کو گرایا جا سکتا ہے ، شہر میں ہر طرف سرب فوج کے اسنائپر شوٹر موجود ہیں شہر میں شدید خانہ جنگی ہو رہی ہے آپ دونوں پر قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے پر مسلم دنیا کی یہ دونوں پرعزم رہنما اپنے سرائیوو جانے کے ارادے پر شدت قائم رہیں ،
عالمی دنیا کو اب یہ خطرہ درپیش ہو گیا کہ پاکستان اور ترکی دو عظیم ملک ہیں اگر ان کی وزرائے اعظم کے ساتھ کوئی حادثہ یا اونچ نیچ ہو گئی تو پوری دنیا کسی عالمی جنگ کی طرف جا سکتی ہے ، اس خطرے کا احساس ہونے کے بعد امریکہ ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جارح سربوں کو سخت پیغام دیا گیا اور انہیں کسی متوقع جارحیت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کر دیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہیں
وہ 3 فروری 1994 کا دن تھا جب پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بےنظیر بھٹو اور ترک وزیراعظم محترمہ تانسو چلر بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو پہنچیں جہاں کے شہریوں نے ان دونوں کا والہانہ استقبال کیا وہاں انہوں نے بوسنیا کے صدر عالیجاہ عزت بیگ اور بوسنیا کے عوام سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ تنہا نہیں پاکستان اور ترکی ہر طرح ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں
اس دورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بوسنیا کا مسئلہ اور وہاں مسلمانوں کا قتلِ عام عالمی طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا جس نے دنیا بھر کا ضمیر جھنجوڑ دیا اور اس دبائو کے نتیجے میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے امریکی افواج کو سرب ٹھکانوں پر گولہ باری کرنے اور ان کی جارحیت محدود کرنے کے احکامات جاری کئے
ان اقدامات سے نوزائیدہ بوسنیائی حکومت کو سانس لینے اور اپنی پولیس اور آرمی قائم کرنے کا وقت اور موقع ملا ، بعد میں 1995 میں سرب ، کروٹ اور بوسنین فریقوں کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور آج بوسنیا ہرزیگوینا کا ملک یورپ کے قلب میں اپنی مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ قائم ہے
بوسنیا ہرزیگوینا آج نا ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو اس میں مسلمان نا ہوتے اگر بےنظیر بھٹو ہمت نا کرتیں اور ترک وزیراعظم کو ساتھ لے ان سنگین حالات میں بوسنیا کا دورہ نا کرتیں اور اس کے بعد بوسنیا کو خوراک ، اسلحہ اور امداد فراہم نا کرتیں –
بینظیربھٹو ہی حقیقی معنوں میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کیلئے جدوجہد کرنے والی نڈر خاتون تھیں۔بینظیربھٹو تاریخ کا حصہ ہیں اور جب بھی تاریخ لکھی جاتی ہے محترمہ بینظیربھٹو جیسی نڈر اور جرات مند خاتون کو تاریخ یاد کرتی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جس طرح محترمہ بینظیربھٹو نے آمریت کا مقابلہ کیا ، سختیاں برداشت کیں، جیلیں کاٹیں لیکن وہ نہ تو جھکیں اور نہ ہی بکیں، آج بھی جرات مندی کی جب بھی بات ہوتی ہے تو محترمہ بینظیربھٹو کا نام سرفہرست ہوتا ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں