دنیا بھر میں فنانس اور انویسٹمنٹ گرو (Gurus) لوگوں کو “فنانشل فریڈم” کا خواب دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مالی آزادی کا مطلب پیسے کی دوڑ میں شامل ہونا نہیں، بلکہ پیسے کو ایسی جگہ لگانا ہے جہاں وہ آپ کے لیے کام کرے۔ یعنی آپ سو رہے ہوں، جاگ رہے ہوں یا سفر میں ہوں، آپ کا سرمایہ مزید سرمایہ پیدا کر رہا ہو۔ وہ سکھاتے ہیں کہ پیسہ “مقصد” نہیں بلکہ ایک “ٹول” (آلہ) ہونا چاہیے جو آپ کو آپ کا من پسند لائف اسٹائل دے سکے۔ بلاشبہ، یہ ایک پرکشش نظریہ ہے اور سرمایہ کاری کا سفر شروع کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
عام طور پر سرمایہ کاری کے لیے پلاٹ یا سونے کا رخ کیا جاتا ہے، لیکن فنانشل فریڈم کے لیے اکثر اسٹاک مارکیٹ اور میوچل فنڈز (Mutual Funds) کی بھی مثال دی جاتی ہے۔ چونکہ عام آدمی کے لیے مارکیٹ کی پیچیدگیاں سمجھنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے اسے میوچل فنڈز کا مشورہ دیا جاتا ہے جہاں نام نہاد “ایکسپرٹس” آپ کا پیسہ مینج کرتے ہیں اور فیس وصول کرتے ہیں۔ (یہاں ایک منطقی سوال جنم لیتا ہے: اگر یہ ایکسپرٹس واقعی اتنے ہی ماہر ہوتے اور دولت بنانے کا گر جانتے تو کیا وہ خود ارب پتی نہ ہوتے؟ وہ آپ کے چند روپوں کی فیس یا کمیشن کے لیے کیوں کام کرتے؟)
اسٹاک مارکیٹ بظاہر حصص کی خرید و فروخت کا مرکز ہے جہاں روزانہ اربوں کا کاروبار ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسانی نفسیات اور قسمت کا ایک خطرناک کھیل ہے۔ اعداد و شمار اور مالیاتی رپورٹس اپنی جگہ، لیکن یہاں جذبات اور “مارکیٹ سینٹیمنٹ” (Market Sentiment) کا راج ہوتا ہے۔ اسی لیے ناقدین اسے باقاعدہ “جوا” قرار دیتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں جواری نہیں “اسٹاک ہولڈر” ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی یہ مارکیٹ ہائی رسک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد افراد لاعلمی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے اپنی جمع پونجی گنوا دیتے ہیں۔ صرف 10 فیصد کامیاب ہوتے ہیں، جن میں سے 6 فیصد وہ “بڑی مچھلیاں” (Big Fish) ہیں جو مارکیٹ کو اپنی مرضی سے چلاتی ہیں۔ ایک عام چھوٹے سرمایہ دار کی کامیابی کا تناسب محض ڈھائی سے چار فیصد ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ (PSX) کا حال بھی مختلف نہیں۔ یہاں ذہانت سے زیادہ “ہولڈنگ پاور” (صبر اور مالی طاقت) کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مارکیٹ اکثر جوئے یا سٹے بازی کا منظر پیش کرتی ہے جہاں چند بڑے بروکرز یا سرمایہ دار گٹھ جوڑ کر کے کسی بھی شیئر کی قیمت بڑھا یا گھٹا دیتے ہیں، اور چھوٹا سرمایہ دار اس لہر کی نذر ہو کر اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔
اس پرخطر ماحول میں عقلمند سرمایہ کاروں کا صرف ایک ہی مشورہ ہے۔
“صرف وہ شیئرز خریدیں جو انڈے بچے دیتے ہوں۔”
یعنی ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں جو باقاعدگی سے منافع (Dividend) دیتی ہیں۔ پلاٹ کی قسطوں کی طرح ہر ماہ تھوڑے تھوڑے شیئرز خرید کر رکھ لیں اور انہیں طویل مدت تک ہولڈ کریں۔
ٹریڈنگ (Trading) کے بجائے انویسٹنگ (Investing) کریں، کیونکہ جس چیز کو بیچنے کا اختیار (Holding Power) آپ کے ہاتھ میں ہو، اسی میں نفع کا امکان ہوتا ہے۔
میں نے اس فیلڈ میں ایک لمبا عرصہ گزارا ہے، لاکھوں روپے گنوائے بھی ہیں اور ایک بروکریج کمپنی کی فرنچائز چلا کر لوگوں کو برباد ہوتے بھی دیکھا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ اکثر بروکرز اور ڈیلرز مخلص نہیں ہوتے۔ جب مارکیٹ میں سب بیچ رہے ہوتے ہیں، ایک احمق ڈیلر آپ کو خریدنے کا مشورہ دے رہا ہوتا ہے تاکہ اس کی کمیشن بنتی رہے۔ میں نے آج تک کسی عام آدمی کو اسٹاک مارکیٹ سے کروڑ پتی بنتے نہیں دیکھا، سوائے بروکرز یا کمپنی مالکان کے جو آپ کی ٹریڈ پر پلتے ہیں۔
یہی حال فاریکس (Forex) اور کرپٹو (Crypto) کا ہے۔ گوگل کے مطابق وہاں بھی 90 فیصد ٹریڈرز نقصان میں ہیں۔ مجھے ایک بار ایک غیر ملکی خاتون نے فاریکس ٹریڈنگ کی ترغیب دی تو میں نے کہا کہ میں پہلے ہی لاکھوں ڈبو چکا ہوں۔ جب میں نے اس سے ٹیسٹ کے طور پر 50 ڈالر مانگے اور وہ راضی ہو گئی، تو میں سمجھ گیا کہ یہ جال ہے۔ وہ 50 ڈالر دے کر مجھ سے سینکڑوں ڈالر نکلوانا چاہتی تھی۔
جوئے کی دنیا کی ایک مشہور کہاوت ہے:
“جوئے میں جواری کبھی نہیں جیتتا، ہمیشہ نال اٹھانے والا (کیسینو کا مالک) جیتتا ہے۔”
اسٹاک مارکیٹ اور فاریکس کی دنیا میں کمپنیاں اور بروکرز وہی “نال اٹھانے والے” ہیں۔ چاہے آپ جیتیں یا ہاریں ان کا کمیشن پکا ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں منافع کماتے ہیں۔۔ لہٰذا، میری درخواست ہے کہ اگر اس میدان میں اترنا ہے تو لوگوں کی باتوں میں انے کے بجائے خود تجزیہ کریں اورحقیقت پسندانہ سوچ اور مکمل تیاری یعنی ہولڈنگ پاور کے ساتھ اس کھیل شامل ہوں.
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں